شرح خواندگی ہر صورت 100 فیصد پر لائی جائے

بلال ظفر سولنگی
پاکستان میں شرحِ خواندگی کا 61 فیصد تک پہنچ جانا یقیناً ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ گزشتہ برسوں میں تعلیم کے فروغ اور عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کسی حد تک مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔ پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق ملک میں 10 سال یا اس سے زائد عمر کے 10 کروڑ 41 لاکھ افراد خواندہ ہیں جب کہ مردوں میں شرحِ خواندگی 68 فیصد اور خواتین میں 53 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار امید افزا ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اب بھی مکمل خواندگی کے ہدف سے کافی دُور ہے اور ملک کی قریباً 39 فیصد آبادی بنیادی تعلیم سے محروم ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوش حالی اور استحکام کی بنیاد ہوتی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی کامیابی کا سفر تعلیم کے فروغ سے ہی شروع کیا۔ آج وہ ممالک سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت اور تحقیق کے میدان میں اس لیے آگے ہیں، کیونکہ انہوں نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ پاکستان بھی اگر ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل ہونا چاہتا ہے تو اسے شرحِ خواندگی کو 100 فیصد تک پہنچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔
ملک میں صوبوں کے درمیان شرحِ خواندگی کا نمایاں فرق بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اسلام آباد میں شرحِ خواندگی 84 فیصد ہے جب کہ بلوچستان میں یہ صرف 42 فیصد ہے۔ اسی طرح دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان بھی واضح فرق موجود ہے۔ دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کی کمی، بنیادی سہولتوں کا فقدان، اساتذہ کی قلت اور غربت جیسے عوامل بچوں کو تعلیم سے دُور رکھتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے بغیر ملک میں تعلیمی انقلاب برپا نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت سب سے تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ پانچ سے سولہ سال کی عمر کے دو کروڑ 53 لاکھ 70 ہزار بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ یہ بچے پاکستان کا مستقبل ہیں اور اگر انہیں تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ کیا گیا تو ملک کا مستقبل بھی خطرے میں پڑسکتا ہے۔ اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد غربت، کم عمری میں مزدوری، سماجی مسائل اور تعلیمی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کرپاتی۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے بچوں کو فوری تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے لیے خصوصی منصوبے شروع کرے۔ شرحِ خواندگی کو 100 فیصد تک پہنچانے کے لیے حکومت کا کردار سب سے اہم ہے۔ نئے اسکولوں کا قیام، پرانے تعلیمی اداروں کی بہتری، جدید سہولتوں کی فراہمی، اساتذہ کی بھرتی اور ان کی پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم کے بجٹ میں خاطرخواہ اضافہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر تعلیم پر مناسب سرمایہ کاری نہیں کی جائے گی تو مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ آئین میں دیے گئے مفت اور لازمی تعلیم کے حق پر مکمل عمل درآمد ہو۔
لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا بھی ضروری ہے۔ کسی بھی معاشرے میں خواتین کی تعلیم پورے خاندان اور نسل کی تعلیم کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔ جب ایک لڑکی تعلیم حاصل کرتی ہے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کی تربیت اور تعلیم میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس لیے لڑکیوں کے لیے محفوظ اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنا قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ تاہم صرف حکومت ہی نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کو بھی اپنی ذمے داری ادا کرنی ہوگی۔ والدین پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں اور انہیں اسکول بھیجنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کریں۔ بعض اوقات والدین معاشی مشکلات یا دیگر وجوہ کی بنا پر بچوں کو تعلیم سے دُور رکھتے ہیں، لیکن انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تعلیم ہی ان کے بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ اگر آج بچوں کو تعلیم سے محروم رکھا گیا تو کل وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں مشکلات کا شکار ہوں گے۔
نجی شعبے، سماجی تنظیموں، مخیر افراد اور تعلیمی اداروں کو بھی اس قومی مقصد میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک گیر سطح پر خواندگی مہم چلائی جائے اور عوام میں تعلیم کی اہمیت کے حوالے سے شعور پیدا کیا جائے۔ جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آن لائن تعلیمی نظام کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ دوردراز علاقوں کے بچوں تک تعلیم کی سہولت پہنچ سکے۔
شرحِ خواندگی میں حالیہ اضافہ یقیناً ایک کامیابی ہے، لیکن اسے منزل نہیں بلکہ ایک اہم سنگِ میل سمجھنا چاہیے۔ پاکستان کی حقیقی ترقی اُس وقت ممکن ہوگی جب ملک کا ہر بچہ، ہر نوجوان اور ہر شہری تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوگا۔ حکومت، والدین، اساتذہ، سماجی تنظیموں اور پوری قوم کو مل کر یہ عہد کرنا ہوگا کہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہے گا۔ جب شرحِ خواندگی 100 فیصد تک پہنچ جائے گی تو پاکستان نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہوگا بلکہ ایک باوقار، ترقی یافتہ اور روشن مستقبل کی جانب بھی تیزی سے گامزن ہوگا۔