زندگی کا اصل سبق

بلال ظفر سولنگی

"جو شخص دوسروں کے دکھ پر خوش ہوتا ہے، زندگی ایک دن اسے ایسا سبق ضرور سکھاتی ہے جو اسے اندر سے بدل دیتا ہے۔”
شہر کے معروف تاجر کامران کے پاس دولت کی کوئی کمی نہیں تھی۔ بڑی گاڑیاں، عالی شان بنگلہ، کامیاب کاروبار اور ہر آسائش اس کے قدموں میں تھی، مگر اس کے دل میں ایک ایسی سختی تھی جو اسے انسانوں سے دور کرچکی تھی۔ وہ دوسروں کی پریشانیوں کو تماشا سمجھتا تھا۔ اگر کسی کا کاروبار بند ہوجاتا تو وہ طنز کرتے ہوئے کہتا، "میں تو پہلے ہی جانتا تھا، یہ زیادہ دن نہیں چل سکتا۔” اگر کسی کا گھر ٹوٹ جاتا تو وہ مسکرا کر کہتا، "ہر کسی کی قسمت اچھی نہیں ہوتی۔” اگر کوئی قرض میں ڈوب جاتا تو وہ دل ہی دل میں خوش ہوتا کہ ایک مقابلہ کم ہوگیا۔
لوگ اس کے سامنے ہنستے تھے، لیکن اس کے پیچھے اسے بے رحم انسان کہتے تھے۔ اسے ان باتوں کی کوئی پروا نہیں تھی۔ اس کا خیال تھا کہ دنیا صرف طاقتوروں کے لیے بنی ہے، کمزوروں کے لیے نہیں۔ ایک دن اس کا پرانا دوست عامر اس کے پاس آیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔ "کامران، میری فیکٹری میں آگ لگ گئی ہے۔ سب کچھ ختم ہوگیا۔ اگر کچھ قرض مل جائے تو میں دوبارہ کھڑا ہوسکتا ہوں۔” کامران نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے قہقہہ لگایا۔ "عامر، کاروبار کھیل نہیں ہوتا۔ اگر سنبھال نہیں سکتے تھے تو شروع ہی کیوں کیا؟” اس نے مزید کچھ تلخ باتیں کیں، جس پر عامر خاموشی سے اٹھا اور چلا گیا۔
وہ خاموشی کامران کے دل پر کوئی اثر نہ چھوڑ سکی۔ مگر زندگی خاموش رہنے والی نہیں تھی۔ چند ماہ بعد کامران کا اکلوتا بیٹا، احسن، بیرونِ شہر ایک خوف ناک حادثے کا شکار ہوگیا۔ ڈاکٹروں نے اس کی جان تو بچالی، مگر وہ کئی ماہ تک بستر پر پڑا رہا۔ پہلی بار کامران نے اسپتال کی لمبی راہداریوں میں وہ چہرے دیکھے جن پر بے بسی لکھی ہوئی تھی۔ وہ مائیں جو اپنے بچوں کے لیے دعائیں مانگ رہی تھیں۔ وہ بوڑھے والد جو دوائی خریدنے کے لیے اپنی جیب میں بچے ہوئے آخری نوٹ گن رہے تھے۔ وہ مزدور جو اپنے زخمی بیٹے کے علاج کے لیے قرض مانگ رہے تھے۔ پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ دکھ نہ امیر کو دیکھتا ہے اور نہ غریب کو۔ لیکن آزمائش ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔
بیٹے کے علاج کے دوران کامران کا کاروبار بھی شدید خسارے میں چلا گیا۔ اس کے کئی پارٹنرز الگ ہوگئے، سرمایہ کم ہونے لگا اور جن لوگوں کو وہ اپنا سمجھتا تھا، وہ آہستہ آہستہ اس سے دور ہوتے گئے۔ فون بند ہونے لگے، ملاقاتیں ختم ہوگئیں اور تعریفیں خاموشی میں بدل گئیں۔ ایک دن وہ بینک کے باہر تنہا بیٹھا تھا کہ کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ وہ عامر تھا۔ وہی عامر جسے اس نے کبھی بے عزت کرکے واپس بھیج دیا تھا۔
عامر نے مسکراتے ہوئے کہا، "کیسے ہو، کامران؟”
کامران کی نظریں جھک گئیں۔ "پہلی بار سمجھ آیا ہے کہ بے بسی کیا ہوتی ہے۔” عامر نے بغیر کوئی شکوہ کیے کہا، "چلو، ایک کپ چائے پیتے ہیں۔”
چائے کے دوران کامران نے ہمت کرکے پوچھا، "میں نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا تھا، پھر بھی تم مجھ سے عزت و احترام کے ساتھ بات کیوں کررہے ہو؟”
عامر نے نہایت سکون سے جواب دیا، "کیونکہ اگر میں بھی تم جیسا بن جاتا تو پھر تم اور مجھ میں فرق ہی کیا رہ جاتا؟”
یہ الفاظ کامران کے دل میں کسی بجلی کی طرح اتر گئے۔ اس رات وہ سو نہ سکا۔ اسے ایک ایک منظر یاد آنے لگا۔ وہ لوگ جن کی ناکامی پر وہ ہنسا تھا۔ وہ دوست جنہیں اس نے ٹھکرا دیا تھا۔ وہ مجبور لوگ جنہیں اس نے حقارت سے دیکھا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ دولت ختم ہونے کا دکھ اتنا بڑا نہیں جتنا انسانیت کھو دینے کا ہے۔ چند ماہ بعد احسن کی طبیعت بہتر ہونے لگی۔ کامران نے محنت کرکے اپنے کاروبار کو دوبارہ مستحکم اور مضبوط بنایا۔ اسی دوران کامران نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے دفتر کے ایک حصے کو ضرورت مند لوگوں کے لیے مختص کردیا۔ ہر ہفتے وہاں ایسے افراد آتے جنہیں علاج، تعلیم، چھوٹے کاروبار یا کسی ہنگامی ضرورت کے لیے مدد درکار ہوتی۔ شروع میں لوگوں نے اسے دکھاوا سمجھا۔ مگر وقت کے ساتھ سب کو یقین ہوگیا کہ کامران واقعی بدل چکا ہے۔
اب وہ کسی کی مدد کرکے تصاویر نہیں بنواتا تھا۔ احسان نہیں جتاتا تھا۔ کسی کی مجبوری کو کبھی مذاق نہیں بناتا تھا۔ ایک دن ایک نوجوان اس کے دفتر آیا۔ "سر، میری دکان بند ہوگئی ہے۔ گھر کے حالات بہت خراب ہیں۔ اگر تھوڑی مدد مل جائے تو دوبارہ کاروبار شروع کرسکتا ہوں۔” کامران نے نوجوان کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہی بے بسی… وہی امید… جو کبھی عامر کی آنکھوں میں دیکھی تھی۔ اس نے خاموشی سے ایک چیک لکھا اور نوجوان کے ہاتھ میں دے دیا۔ پھر مسکرا کر بولا، "یہ قرض نہیں، ایک موقع ہے۔ جب تم اپنے قدموں پر کھڑے ہو جاؤ تو کسی اور ضرورت مند کا ہاتھ ضرور تھام لینا۔”
نوجوان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اسی لمحے کامران نے وہ سکون محسوس کیا جو اسے اپنی زندگی میں کبھی کروڑوں روپے کما کر بھی حاصل نہیں ہوا تھا۔ رفتہ رفتہ اس نے کئی یتیم بچوں کی تعلیم کا خرچ اٹھایا، بے سہارا خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے، غریب مریضوں کے علاج میں حصہ ڈالنا شروع کیا اور خاموشی سے ایسے بے شمار لوگوں کی مدد کی جن کا کوئی سہارا نہیں تھا۔
اب لوگ اس کی دولت سے زیادہ اس کے کردار کی مثال دیتے تھے۔ ایک روز ایک تقریب میں کسی نے سوال کیا، "کامران صاحب! آپ کی زندگی میں یہ حیرت انگیز تبدیلی کیسے آئی؟”
کامران نے چند لمحے خاموش رہ کر جواب دیا، "میں سمجھتا تھا کہ دوسروں کے غم میری خوشی ہیں، لیکن زندگی نے مجھے سکھایا کہ اصل خوشی کسی کے زخم پر ہنسنے میں نہیں بلکہ اس پر مرہم رکھنے میں ہے۔” اس نے حاضرین کی طرف دیکھتے ہوئے مزید کہا، "اگر اللہ نے آپ کو آسانیاں دی ہیں تو انہیں صرف اپنے لیے مت رکھیے۔ کسی کے آنسو پونچھ دیجیے، کسی کا قرض ہلکا کر دیجیے، کسی بچے کی تعلیم کا خرچ اٹھا لیجیے یا کسی بیمار کے علاج میں حصہ ڈال دیجیے۔ یقین مانیے، دوسروں کے دکھ کم کرنے میں جو سکون ملتا ہے، وہ دنیا کی کوئی دولت نہیں دے سکتی۔”
وقت نے کامران سے بہت کچھ لیا، لیکن اس کے بدلے اسے ایک نرم دل، زندہ ضمیر اور دوسروں کا درد محسوس کرنے والی روح عطا کردی۔ اور حقیقت یہی ہے کہ انسان کی سب سے بڑی کامیابی دولت، شہرت یا طاقت نہیں، بلکہ وہ دل ہے جو دوسروں کے درد پر تڑپے، ان کے زخموں پر مرہم رکھے اور خاموشی سے بھلائی کرتا چلا جائے۔
سبق: دوسروں کی تکلیف پر خوش ہونے والا انسان شاید کچھ وقت کے لیے خود کو کامیاب سمجھ لے، مگر زندگی ہر شخص کو ایک نہ ایک دن آزماتی ضرور ہے۔ خوش نصیب وہ ہے جو آزمائش آنے سے پہلے ہی رحم، ہمدردی اور انسانیت کو اپنا شعار بنا لے، کیونکہ جو دل دوسروں کے لیے دھڑکتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں زندہ ہوتا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔