حُسین ابن علی، نواسۂ رسول (صل اللہ علیہ والہ وسلم)

سُہیر عارف

سیّدہ عائشہ کہتی ہیں ایک مرتبہ میں نے دیکھا نبی (علیہ السلام) گھر سے اِس حال میں نکلے کہ آپ نے کالی چادر اوڑھ رکھی تھی جس پر اونٹ کے کجاووں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں، اتنے میں حَسَن آئے اور نبی (علیہ السلام) نے اُن کو چادر میں لے لیا، پھر حُسین آئے اور نبی (علیہ السلام) نے اُن کو بھی چادر میں لے لیا، پھر فاطمہ آئیں تو اُن کو بھی چادر میں لے لیا، اور پھر علی آئے تو اُن کو بھی چادر کے اندر لے لیا، اُس کے بعد نبی کریم (علیہ السلام) نے آیت تلاوت فرمائی، ترجمہ؛ "اے نبی کے گھر والوں اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تُم سے ہر طرح کی ناپاکی دور کردے اور تُمہیں خوب پاک صاف کر دے” اِس کے علاوہ نبی (علیہ السلام) نے اپنی وفات سے قبل متعدد بار فرمایا تھا کہ میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے معاملے میں اللہ کا خوف دلاتا ہوں کہ اُن کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا لیکن اُمّت نے جو کچھ کیا وہ ایک تاریک داستان ہے.

حُسین ابن علی کو جو مرتبہ اللہ کریم نے دیا ہے وہ اُمّت میں کسی کو نہیں مِلا کہ جن کے نانا سَیِّدُالنبیاء (صل اللہ علیہ والہ وسلم) ، جن کے بابا سَیّدُالاولیاء، جن کی والدہ سَیّدۃالنّساءالعالمین و اہل الجَنّہ اور جن کے بھائی حَسن بھی جَنّتی نوجوانوں کے سردار ہیں.

حُسین قرآن پاک کی جن آیات کے مصداق ہیں اُن میں آیتِ تطہیر، آیتِ مباہلہ، آیتِ مَوَدَّت اور دوسری آیات شامل ہیں.

جن کے لیے نبی کریم (علیہ السلام) اپنے سجدے طویل کر دیتے تھے، اور نبی (علیہ السلام) نے متعدد جگہ ارشاد فرمایا کہ حُسین مجھ سے ہے اور میں حُسین سے ہوں، جس نے حُسین کو تکلیف دی اُس نے مجھے تکلیف دی.

اللہ کریم نے پہلے ہی اپنے حبیب (علیہ السلام) کو یہ اطلاع دے دی تھی کہ آپ کی اُمّت آپ کے نواسے کے ساتھ کیا کرے گی، یہ حدیث متعدد سَنَدوں سے ہمیں موصول ہوئی ہے اور اِن کے راویان میں خود مولا علی، سیّدہ فاطمہ، اُمِّ ایمن، سیّدہ اُمِّ سلمہ اور دیگر اصحاب رسول (علیہ السلام) شامِل ہیں، مفہوم؛ کہ جب حُسین پیدا ہوئے تو نبی (علیہ السلام) بہت خوش تھے لیکن تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ نبی (علیہ السلام) کے رونے کی آواز سُنائی دی اور مُبارک آنکھوں سے آنسوں رواں تھے، تو پوچھا گیا کہ اے اللہ کے رسول (علیہ السلام) کس چیز نے آپ کو رُلایا ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ابھی ابھی جِبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے تھے اور اُنھوں نے مُجھے یہ اطلاع دی کہ آپ جو اپنے اِس نوسے سے اتنی مُحبّت کر رہے ہیں، آپ کی اُمّت اِسے فُرأت کے کنارے قتل کر دے گی.


ایک اور روایت میں سیّدہ امِّ سلمہ کہتی ہیں (مَفہوم) کہ ایک رات نبی (علیہ السلام) نے مُجھ سے فرمایا کہ تُم دروازے کے پاس بیٹھ جاؤ اور کسی کو اندر مَت آنے دینا کیونکہ آج ایک ایسا فرشتہ میرے پاس آنے والا ہے جو آج سے پہلے کبھی دُنیا میں نہیں آیا، پھر اللہ کے حُکم سے وہ فرشتہ آیا اور ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اِمام حُسین وہاں پہنچ گئے تو اُمِّ سلمہ نے اُنھیں گھر میں داخل ہونے سے روکنا چاہا اور وجہ بھی بتائی لیکن اِمام حُسین چونکہ چھوٹے بَچّے تھے تو رونے لگے تو اُمِّ سَلمہ نے اُنھیں جانے دیا، اُمِّ سلمہ کہتی ہیں کچھ ہی دیر گزری تھی کہ مجھے اندر سے رسول (علیہ السلام) کی ہِچکیوں کے ساتھ رونے کی آواز آئی تو میں گھبرا کر اندر گئی اور میں نے دیکھا نبی (علیہ السلام) حُسین کو گلے لگا کر تڑپ تڑپ کر رو رہے ہیں، میں نے مسئلہ دریافت کیا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ فرشتہ نے مُجھے خبر دی ہے کہ میرے اِس بیٹے کو پَردیس میں فُرأت کے کنارے قَتل کر دیا جائے گا اور پھر اُس فرشتہ نے مُجھے کربلا کی سُرخ مَٹی بھی لاکر دِکھائی.

خیر وقت گزرتا گیا اور نبی (علیہ السلام) کی وفات کے بعد خُلفاء کے ادوار آئے جن میں اونچ نیچ رہی لیکن اُن تمام معاملات کو مسلمانوں کے آپس کے مشوروں سے حَل کر لیا جاتا، لیکن کچھ معاملات اتنے حَسّاس تھے کہ مسلمانوں نے اُس کا خمیازہ تین خُلفاء کی شہادت اور مسلمانوں کی آپس کی خانۂ جنگی کی صورت میں بُھکتا، اور پھر صُلح امام حَسَن کے بعد اسلامی بادشاہت اور بنو اُمیّہ کے دور کا آغاز ہوا، صُلح حَسَن کے بعد سے مُعاملات کس طرح بدستور خراب ہوتے چلے گئے وہ کسی سے ڈھکے چُھپے نہیں ہے، یاد رہے امام حَسَن نے کچھ شرائط پر صُلح کی تھی، لیکن افسوس اُن پر اُس طرح عمل نہیں کیا گیا جس طرح حق تھا.
صُلح کے بعد سے مسلمانوں کی خانۂ جنگی کا سلسلہ بند ہؤا اور پھر سے فتوحات کا سلسلہ شروع ہؤا لیکن اِن فتوحات اور خُلفاء کے ادوار کی فتوحات میں فرق یہ تھا کہ خلفاء اسلام کی سَر بلندی کے لیے جنگ کرتے تھے اور صُلح کے بعد سے ہونے والی جنگیں اپنی طاقت، جَبَر اور شُہرت کی خاطر ہوتی تھیں. (واللہ اعلم)

اور پھر بنو اُمیّہ نے امام حَسَن کو مظلومانہ قَتَل (شَہید) کر دیا اور تمام اُمویوں نے اِس پر خوشی اور مُسرّت کا اظہار بھی کیا. (نعوذباللہ)

اور پھر جب قرآن و سُنّت کی تعلیمات اور صُلح امام حَسَن کی شرائط کے خلاف یزید کو خلیفہ نامزد کیا گیا تو بہت سے اَصحاب اور اہلِ بیت کے افراد نے یزید کی خلافت سے انکار کر دیا، اِسی دوران امام حُسین کے لیے کوفہ سے خطوط کا ایک نا رُکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا، جو اصحابِ رسول (علیہ السلام) اور دوسرے عام مسلمانوں کی طرف سے تھے، اور وہ لوگ حُسین ابن علی کے یزید کے خلاف قیام کرنے کے حامی تھے.

بالآخر امام نے اپنے چچا زاد بھائی مُسلم بن عقیل کو معاملات کا جائزہ لینے کے لیے کوفہ روانہ کیا، اور وہ اپنے دونوں بیٹوں سمیت کوفہ پہنچ گئے، اور اپنے پرانے دوست ہانی بن عُروہ کے گھر قیام کیا اور کوفۂ کے لوگوں نے بھی اُن کا بھر پور استقبال کیا اور لوگ جوق در جوق اُن کے استقبال کے لیے آنے لگے، اور تعداد ہزاروں تک جا پہنچی، مُسلم بن عقیل نے امام حُسین کو اِس خوشخبری کی اطلاع دیتے ہوئے کوفہ آنے کا پیغام بھیجا، لیکن یزید کو اِن خطوط کی اطلاع ملتے ہی اُس نے نعمان بن بشیر صحابی پیغمبر (علیہ السلام) کو معزول کر کے ایک ظالم شخص عبیداللہ ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر بنا دیا، اور پھر عبیداللہ ابن زیاد نے سب سے پہلے ہانی بن عُروہ کو قید میں ڈال دیا اور کوفہ والوں کو موت کی دھمکی دیتے ہوئے مُسلم بن عقیل اور حُسین کی مدد سے باز رہنے کو کہا، تاریخ نے لکھا ہے کہ صبح کے وقت مُسلم بن عقیل کے ساتھ تیس سے چالیس ہزار کا قافلہ تھا، ظہر تک وہ چند سو کے قریب رہ گئے، عصر تک چالیس، مغرب تک دس اور عشاء ہونے تک مُسلم بن عقیل کے ساتھ ایک بھی فرد نہیں تھا.

امام حُسین نے مُسلم بن عقیل کے خط پر مَکّہ سے کوفہ کی طرف سفر کی تیاری شروع کردی، اِس بات سے بے خبر کے اب وہاں حالات خراب ہو چکے ہیں، مُسلم بن عقیل کو ایک بات کا خطرہ تھا کہ امام حُسین سَفَر کے لیے کبھی بھی روانہ ہو سکتے ہیں اور یہاں کے حالات اب ویسے نہیں جیسے پہلے تھے، مُسلم نے بہت کوشش کی کہ حُسین کو خبردار کر دیں یہاں کے حالات سے لیکن ناکام رہے، اور پھر آخر کار عبید اللہ ابن زیاد نے مُسلم بن عقیل اور ہانی بن عُروہ کو بے دردی سے قَتَل (شَہید) کردیا، اور کچھ دِنوں بعد مُسلم کے دو چھوٹے بچوں کو بھی دھونڈ کر قَتَل (شہید) کردیا.

نوٹ: یہ بلاگر کی اپنی ذاتی رائے ہے. وائس آف سندھ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔