ایمان داری اور سربلندی

بلال ظفر سولنگی

ایک چھوٹے سے گاؤں میں، جہاں دھوپ بھی کبھی کبھی خاموش رہتی تھی اور لوگ اپنی زندگی کی سادگی میں الجھے ہوئے تھے، ایک بوڑھا محنت کش رہتا تھا جس کا نام نعمت اللہ تھا۔ نعمت اللہ کی زندگی نہ تو کسی شاہکار کی طرح تھی اور نہ ہی دولت سے بھرپور، لیکن اس کی ایک چیز ہمیشہ گاؤں والوں کے لیے مثال رہی اور وہ تھی اس کی ایمان داری۔
نعمت اللہ صبح سویرے اٹھتا، ٹوٹی ہوئی آری سے جنگل کی لکڑیاں کاٹتا اور واپس آ کر وہی لکڑیاں بیچ کر اپنا پیٹ بھرتا۔ گاؤں کے لوگ اکثر ہنسا کرتے: “یہ بھلا اتنی محنت سے کیا کرے گا؟ مارکیٹ تو بڑے تاجروں کی ہے، چھوٹے لوگوں کے لیے کچھ نہیں!” لیکن نعمت اللہ ہنس کر جواب دیتا: “میری کمائی میری ایمان داری کی کمائی ہے اور یہی سب سے بڑی دولت ہے۔”
ایک دن گاؤں کے بزرگ بازار میں جمع ہوئے اور وہاں ایک تاجر کی ایک بڑی رقم گم ہوگئی۔ سب لوگ اکٹھے ہوگئے۔ کوئی شکایت کررہا تھا، کوئی الزام تراشی کررہا تھا۔ سب کی نظریں نعمت اللہ پر پڑیں، کیونکہ وہ ہمیشہ ایمان دار اور دیانت دار رہا تھا۔ نعمت اللہ نے ایک لمبی سانس لی اور پھر روزگار کے لیے جنگل کی طرف قدم بڑھادیے۔ نعمت جب جنگل پہنچا اور اپنا کام شروع کیا تو تھوڑی دیر بعد ایک پرانے درخت کے نیچے، نعمت اللہ نے وہی رقم پڑی دیکھی، جیسے کسی نے زمین پر رکھ دی ہو۔ وہ فوراً اسے اٹھا کر بازار کی طرف دوڑا۔
تاجر کو جاکر اُس کی رقم واپس کی، تاجر نے جب رقم واپس لی، اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ “میں تمہارا شکریہ کیسے ادا کروں؟” اس نے کہا۔ نعمت اللہ نے ہنس کر کہا، “ایمان داری کی روشنی کبھی مدھم نہیں پڑتی، چاہے دنیا کے اندھیروں میں ہو۔”
یہ واقعہ گاؤں بھر میں پھیل گیا۔
برسوں بعد، گاؤں میں بڑی خشک سالی آئی۔ لوگ بھوک اور بیماری سے لڑ رہے تھے۔ حالات خاصے گمبھیر ہوچکے تھے۔ لوگوں کو اپنی بقا کا چیلنج درپیش تھا۔ ایسے میں وہی تاجر، جس کی رقم نعمت اللہ نے واپس کی تھی، گائوں میں فرشتہ بن کر آیا اور کہا، “نعمت اللہ، آج تمہاری ایمان داری کی روشنی گائوں والوں کو بچاسکتی ہے۔ ہمارے پاس ریسورسز ہیں، لیکن ہم یہ سب گاؤں کے لوگوں میں تقسیم نہیں کرسکتے، ہمیں تمہاری ایمان داری چاہیے، تاکہ سب کو وسائل مساوی تقسیم ہوسکیں اور اُن کی مشکلات میں کمی آسکے۔”
نعمت اللہ نے اپنی محنت اور ایمان داری سے نہ صرف سب کی مساویانہ مدد کی بلکہ لوگوں کو یہ سکھایا کہ ایمان داری صرف شخصی نیکی نہیں، بلکہ معاشرتی طاقت بھی ہے۔ سب دیکھ رہے تھے کہ ایک شخص کی سچائی کس طرح پوری کمیونٹی کی تقدیر بدل رہی ہے۔
ایمانداری کی قیمت کبھی رقم یا دنیاوی فوائد میں نہیں ناپی جاسکتی، بلکہ یہ دل کے سکون، عزت اور نسلوں کی مثال میں چھپی ہوتی ہے۔ نعمت اللہ کا اپنی آخری سانس تک یہی کہنا رہا کہ “دنیا کے سارے اندھیروں میں بھی، اگر تمہارے پاس سچائی کی روشنی ہے، تم کبھی اکیلے نہیں۔ ایمان داری وہ روشنی ہے جو کبھی مدھم نہیں ہوتی۔”

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔