حلال رزق، خوش حال زندگی

بلال ظفر سولنگی
شہر کی ایک مصروف گلی میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان تھی۔ اس دکان کا مالک سلیم محنتی تو تھا مگر وقت کے ساتھ اس کے اندر ایک خاموش تبدیلی آچکی تھی۔ پہلے وہ ایمان داری سے کاروبار کرتا تھا، مگر مہنگائی اور مقابلے کے دباؤ نے اسے ناجائز منافع خوری کی طرف مائل کردیا تھا۔
ہر روز جب کوئی گاہک اس کی دکان پر آتا، وہ قیمتیں بڑھاکر بتاتا۔ اگر کوئی پوچھتا کہ قیمت اتنی زیادہ کیوں ہے، تو وہ فوراً بہانے بنادیتا، “بھائی جی، مارکیٹ میں ہی ریٹ بڑھ گئے ہیں۔” آہستہ آہستہ اس کی کمائی بڑھنے لگی، جیب بھرنے لگی، مگر دل عجیب سی بے چینی کا شکار رہنے لگا۔
ایک دن ایک بوڑھی خاتون اس کی دکان پر آئیں۔ ان کے ہاتھ میں چند سو روپے تھے۔ انہوں نے آہستہ سے کہا، “بیٹا، گھر میں بچے ہیں، آٹا اور چینی دے دو، لیکن ذرا مناسب قیمت پر دینا، میرے پاس زیادہ پیسے نہیں ہیں۔” سلیم نے ایک لمحے کو ان کی طرف دیکھا، پھر معمول کے مطابق زیادہ قیمت بتا دی۔
خاتون کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔ وہ خاموشی سے بولیں، “بیٹا، اللہ سب دیکھ رہا ہے۔ ہم تو مجبور ہیں، مگر تم پر تو کوئی مجبوری نہیں۔” یہ جملہ سلیم کے دل میں تیر کی طرح لگا، مگر اس نے اسے نظرانداز کردیا۔
رات کو جب وہ گھر آیا تو عجیب بے سکونی تھی۔ وہ بستر پر لیٹا مگر نیند نہیں آئی۔ اس کے ذہن میں وہی الفاظ گونج رہے تھے: “اللہ سب دیکھ رہا ہے…”
اسی بے چینی میں وہ فجر کے وقت مسجد چلا گیا۔ امام صاحب بیان کررہے تھے:
“نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص دھوکا دیتا ہے، وہ ہم میں سے نہیں اور جو رزق حرام سے آتا ہے، وہ بظاہر بڑھتا ہے مگر اس میں برکت نہیں ہوتی۔”
یہ الفاظ سن کر سلیم کا دل کانپ اٹھا۔ اسے لگا جیسے یہ باتیں خاص اسی کے لیے کہی جارہی ہوں۔ اس نے پہلی بار اپنے اعمال پر سنجیدگی سے غور کیا۔ اس کے ذہن میں آیا کہ واقعی، اس کی کمائی تو بڑھ گئی ہے، مگر سکون ختم ہوگیا ہے۔ گھر میں جھگڑے بڑھ گئے ہیں، دل ہر وقت پریشان رہتا ہے اور عبادت میں بھی دل نہیں لگتا۔
نماز کے بعد وہ کافی دیر تک مسجد میں بیٹھا رہا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے دل ہی دل میں دعا کی: “یااللہ، میں نے غلط کیا، مجھے معاف کردے اور سیدھا راستہ دکھا دے۔”
اس دن اس نے ایک فیصلہ کیا، مشکل مگر درست فیصلہ۔ وہ اپنی دکان پر واپس آیا اور سب سے پہلے تمام اشیاء کی قیمتیں درست کردیں۔ اس نے نفع تو رکھا، مگر جائز حد میں۔ جب پہلا گاہک آیا، تو سلیم نے اسے اصل قیمت بتائی۔ گاہک حیران ہوا اور بولا، “آج آپ نے صحیح ریٹ بتایا ہے!”
سلیم نے مسکرا کر جواب دیا، “اب سے ہمیشہ یہی ہوگا، ان شاء اللہ۔”
چند دنوں بعد وہی بوڑھی خاتون دوبارہ آئیں۔ سلیم نے نہ صرف انہیں مناسب قیمت پر سامان دیا بلکہ کچھ چیزیں مفت بھی دے دیں۔ خاتون نے دعائیں دیتے ہوئے کہا، “اللہ تمہیں دنیا اور آخرت میں کامیاب کرے، بیٹا۔”
یہ دعائیں سن کر سلیم کے دل میں ایک عجیب سکون اتر گیا، ایسا سکون جو کروڑوں کمانے سے بھی نہیں ملا تھا۔
وقت گزرتا گیا اور ایک حیران کن تبدیلی سامنے آئی۔ پہلے جہاں لوگ اس کی دکان سے بددل ہوکر جاتے تھے، اب وہی لوگ دوسروں کو بھی اس کی دکان کا بتانے لگے۔ اس کا کاروبار کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا، برکت بھی خوب ہونے لگی۔
سلیم نے سمجھ لیا کہ اصل کامیابی صرف پیسے کمانے میں نہیں، بلکہ حلال اور دیانت داری کے ساتھ کمانے میں ہے۔ ناجائز منافع وقتی فائدہ دے سکتا ہے، مگر اس کے اثرات انسان کی روح، اس کے گھر اور اس کی آخرت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
یہ کہانی ہمیں سبق دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا سب سے بڑی دولت ہے۔ اگر ہم اپنے کاروبار اور روزمرہ زندگی میں ایمان داری اپنائیں، دوسروں کا خیال رکھیں اور ناجائز فائدے سے بچیں، تو اللہ نہ صرف ہمارے رزق میں برکت دیتا ہے بلکہ دل کو بھی سکون عطا کرتا ہے۔
یاد رکھیں، دنیا کی تھوڑی سی اضافی کمائی کے لیے اپنی آخرت کو خراب کرنا دانش مندی نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ جب ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہوں تو ہمارا دل مطمئن ہو اور ہمارے اعمال صاف ہوں۔
آج ہی عہد کریں کہ ہم ناجائز منافع خوری سے بچیں گے، سچائی اور دیانت داری کو اپنائیں گے اور اپنے معاشرے کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ نیکی کا راستہ مشکل ضرور ہے مگر اس کا انجام ہمیشہ خوبصورت ہوتا ہے۔