بجلی کے بل یا آزمائش؟

عبدالعزیز بلوچ
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے مئی 2026ء کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 34 پیسے فی یونٹ اضافے کا اعلان بظاہر ایک معمولی فیصلہ محسوس ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ یہ سوچ سکتے ہیں کہ چند پیسوں کا اضافہ آخر کتنا فرق ڈالے گا، لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں مہنگائی پہلے ہی عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کرچکی ہو، وہاں بجلی کے بل میں معمولی سا اضافہ بھی ہزاروں خاندانوں کے لیے ایک نئے امتحان کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔
یہ درست ہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی اور نیپرا نے اس کے مقابلے میں صرف 34 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی، لیکن عوام کے لیے اصل سوال یہ نہیں کہ اضافہ کتنا کم ہوا، بلکہ یہ ہے کہ آخر ہر چند ہفتوں یا مہینوں بعد بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟ ہر ماہ آنے والی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ صارفین کے لیے ایک ایسی بے یقینی کیفیت پیدا کردیتی ہے جس میں گھریلو بجٹ بنانا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔
آج پاکستان کا متوسط اور کم آمدن والا طبقہ پہلے ہی بجلی، گیس، پٹرول، آٹا، چینی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں بجلی کے بل میں ہونے والا ہر اضافہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک ایسا اضافی بوجھ ہے جو لاکھوں گھروں کی معاشی منصوبہ بندی کو متاثر کرتا ہے۔ کئی گھرانوں میں پہلے ہی یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوچکا کہ بچوں کی تعلیم پر خرچ کیا جائے، علاج پر یا پھر بجلی اور گیس کے بل ادا کیے جائیں۔
بجلی مہنگی ہونے کے اثرات صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں رہتے۔ چھوٹے دکان دار، ورکشاپ مالکان، کارخانے اور صنعتیں بھی اس سے براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ جب بجلی مہنگی ہوتی ہے تو پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے، مصنوعات مہنگی ہوجاتی ہیں اور بالآخر اس کا بوجھ بھی عام صارف ہی برداشت کرتا ہے۔ یوں بجلی کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دے سکتا ہے، جس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں موجود بنیادی خامیوں کو دُور کرنے کے بجائے اکثر ان کی قیمت صارفین سے وصول کی جاتی ہے۔ لائن لاسز، بجلی چوری، پرانا ترسیلی نظام، ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی کمزوریاں برسوں سے موجود ہیں، لیکن ان مسائل کے مستقل حل کے بجائے نرخوں میں اضافے کو آسان راستہ سمجھ لیا گیا ہے۔ یہ پالیسی وقتی طور پر مالی خسارے کو کم تو کرسکتی ہے، مگر عوام کا اعتماد ضرور کمزور کرتی ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ اگر توانائی کے شعبے میں حقیقی اصلاحات نہ کی گئیں تو بجلی مزید مہنگی ہونے کا سلسلہ نہ صرف عوام بلکہ معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ قابلِ تجدید توانائی، خاص طور پر شمسی، ہوا اور پن بجلی کے منصوبوں پر زیادہ توجہ، جدید ٹرانسمیشن نظام، بجلی چوری کی مؤثر روک تھام اور انتظامی شفافیت ہی وہ اقدامات ہیں جو مستقبل میں بجلی کی لاگت کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں لاکھوں صارفین اب بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں سے بچنے کے لیے سولر انرجی کی طرف تیزی سے منتقل ہورہے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک مثبت رجحان ہے، لیکن اس کے ساتھ قومی گرڈ اور بجلی کے نظام کو بھی نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ توانائی کا شعبہ زیادہ مستحکم اور پائیدار بن سکے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو صرف وقتی ریلیف دینے کے بجائے ایسی پالیسی اختیار کرے جو آئندہ برسوں کے لیے بجلی کے نرخوں کو مستحکم رکھ سکے۔ ہر ماہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی خبریں عوام میں بے چینی پیدا کرتی ہیں اور یہ احساس مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ مہنگائی کا ہر نیا بوجھ بالآخر عام شہری کے کندھوں پر ہی ڈالا جاتا ہے۔
پاکستان کی معاشی بحالی صرف بڑے ترقیاتی منصوبوں سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ عام آدمی کو بھی معاشی تحفظ کا احساس دیا جائے۔ اگر بجلی کے نرخ بار بار بڑھتے رہے تو نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری بھی متاثر ہوگی۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ توانائی کے شعبے میں ایسے دیرپا اور شفاف فیصلے کیے جائیں جن سے بجلی کی پیداوار سستی ہو، نظام مؤثر بنے اور عوام کو ہر چند ہفتوں بعد ایک نئے اضافے کی خبر سننے کے بجائے حقیقی ریلیف مل سکے۔ یہی وہ راستہ ہے جو مضبوط معیشت، مستحکم توانائی کے نظام اور عوامی اعتماد کی بحالی کی ضمانت بن سکتا ہے۔