سربیا میں تین ہزار سال پُرانی اجتماعی قبر کی دریافت

بلغراد: ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سربیا میں ایک اجتماعی قبر دریافت کی ہے، جس میں درجنوں افراد کی باقیات پائی گئیں۔ یہ باقیات قدیم قتل و غارت کے شواہد فراہم کرتی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اجتماعی قبر میں پائی جانے والی لاشیں ان افراد کی ہیں جو قریب تین ہزار برس قبل گاؤں پر ہونے والے حملے سے بچنے کے لیے بھاگے تھے۔
محققین کی ٹیم نے یہ دریافت سربیا میں گومالوا نامی علاقے کا دوبارہ جائزہ لینے بعد کی۔ اس کے علاوہ ماہرین کو بلی چڑھائے گئے جانوروں کی باقیات بھی ملیں۔
آسٹرین آرکیالوجی انسٹی ٹیوٹ کے ایک ماہر ماریو گیورینووچ (جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے) نے سائنس جرنل کو بتایا کہ یہ حیران کن دریافت ہے۔
یہ قبر سب سے پہلے 70 کی دہائی کی ابتدا میں دریافت کی گئی تھی، جس کے متعلق محققین نے بتایا تھا کہ اس میں خواتین اور بچوں کی لاشیں تھیں، جن کو 800 قبلِ مسیح کے قریب مارا گیا تھا۔
جرنل نیچر ہومن بیہیویئر میں شائع ہونے والے مقالے میں، یونیورسٹی کالج ڈبلن سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے شریک مصنف ایسوسی ایٹ پروفیسر بیری مولائے کا کہنا تھا کہ ٹیم کو ایک ایسے گاؤں کی توقع تھی جو کسی بیماری کے سبب ختم ہوگیا ہو۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ شواہد بتاتے ہیں کہ یہ ایک قدیم قتلِ عام تھا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔