جنگ کا 25 واں روز: ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے، ایران کا دوٹوک انکار

تہران/ واشنگٹن: امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ 25 ویں روز میں داخل ہوگئی ہے جبکہ ممکنہ امن مذاکرات کے حوالے سے متضاد بیانات سامنے آرہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ایک وسیع معاہدہ ممکن ہوسکتا ہے، تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ اور گمراہ کن بیانیہ قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایرانی توانائی کے انفرا اسٹرکچر پر مجوزہ حملوں کو عارضی طور پر پانچ دن کے لیے مؤخر کردیا ہے۔
اس سے قبل انہوں نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے، بصورت دیگر ایرانی پاور پلانٹس کو تباہ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ بعدازاں اس ڈیڈ لائن میں توسیع کردی گئی۔
ایران نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے اس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا، جس کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہورہی ہے۔ ایشیائی ممالک، خصوصاً جنوبی کوریا اور جاپان، اس صورت حال سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں کیونکہ ان کا زیادہ تر تیل اسی راستے سے آتا ہے۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایران نے اسرائیل پر مزید میزائل حملے کیے جب کہ خلیجی ممالک میں ڈرون اور میزائل حملوں کو متعدد بار ناکام بنایا گیا۔ سعودی عرب نے اپنے مشرقی علاقے کی طرف آنے والے قریباً 20 ڈرونز کو تباہ کیا جبکہ کویت اور بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بارہا بجائے گئے۔
لبنان، عراق اور شام میں بھی جھڑپوں میں شدت آ گئی ہے۔ اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کیا جب کہ امریکا نے عراق کے صوبہ الانبار میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ ماہرین کے مطابق عراق اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ایک ثانوی میدان جنگ بن چکا ہے۔
ادھر ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں بڑی تعداد میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا۔ ایرانی قیادت نے اس موقع پر مزاحمت کی طاقت کا پیغام دیا۔
امریکا کے اندر بھی اس جنگ پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی تیل اور ایندھن کی قیمتوں کے باعث امریکی معیشت پر دباؤ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کررہے ہیں۔
اس دوران برطانیہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے فضائی دفاعی نظام بھیجنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ایرانی میزائل حملوں کا مقابلہ کیا جاسکے جب کہ خطے کے ممالک مسلسل کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی اپیل کررہے ہیں۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔