وعدہ خلافی اور دھوکا

بلال ظفر سولنگی

ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام فیروز تھا۔ بظاہر وہ بہت خوش اخلاق، ملنسار اور مددگار نظر آتا تھا مگر اس کے اندر ایک خطرناک عادت چھپی ہوئی تھی، وہ لوگوں سے وعدے کرتا، امیدیں دلاتا، اُن کی مشکلات حل کرنے کے لیے پیسے ہتھیاتا اور پھر اُن وعدوں سے مُکر جاتا۔ ابتدا میں لوگ اُس کی باتوں پر اعتبار کرتے، کیونکہ اُس کی زبان میں مٹھاس اور انداز میں خلوص کا دکھاوا تھا۔
فیروز کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ہر اُس شخص کے قریب ہوجاتا جسے کسی سہارے کی ضرورت ہوتی۔ کسی کو قرض کی امید دلاتا، کسی کو نوکری دلانے کا وعدہ کرتا اور کسی کے ساتھ کاروبار میں شراکت کی بات کرتا۔ لوگ اُس پر بھروسہ کر لیتے، اپنی جمع پونجی، امیدیں، حتیٰ کہ اپنے خواب تک اُس کے حوالے کردیتے۔ مگر جب وعدہ پورا کرنے کا وقت آتا، فیروز غائب ہوجاتا۔ لوگ ڈھونڈتے تو بہانوں کی لمبی چوڑی فہرستیں اُن کے آگے کردیتا۔
وقت گزرتا گیا اور فیروز کی یہ عادت اُس کی پہچان بن گئی، مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ پھر بھی بچتا جارہا تھا۔ لوگ اُس سے دھوکا کھاتے، رو دیتے، بددعائیں دیتے، مگر فیروز پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ اُس کا کاروبار بڑھتا رہا، اُس کی جیبیں بھرتی رہیں اور وہ خود کو بہت ہوشیار سمجھنے لگا۔ ایک دن اُس کے ایک پرانے دوست، حمزہ، نے اُسے نصیحت کی: “فیروز، وعدہ توڑنا صرف لوگوں کو نہیں، اپنے رب کو ناراض کرنا ہے۔ آج تمہیں مہلت ملی ہوئی ہے، لیکن ہر مہلت ہمیشہ نہیں رہتی۔”
فیروز ہنس پڑا اور بولا: “یہ سب ڈرانے کی باتیں ہیں۔ میں نے کب دیکھا ہے کہ کسی کو وعدہ توڑنے پر آسمان سے سزا ملی ہو؟ زندگی عقل سے جیتی جاتی ہے، جذبات سے نہیں۔”
حمزہ خاموش ہوگیا، مگر اُس کی آنکھوں میں افسوس صاف جھلک رہا تھا۔ پھر وہ وقت آیا جب فیروز نے ایک بہت بڑا وعدہ کیا۔ اُس نے ایک بیوہ عورت کو یقین دلایا کہ وہ اُس کے بیٹے کو نوکری دلوائے گا اور اُس کی مدد کرے گا۔ اُس عورت نے اپنی آخری جمع پونجی فیروز کے حوالے کردی، اس امید کے ساتھ کہ اُس کے بیٹے کا مستقبل سنور جائے گا۔
مگر حسبِ عادت، فیروز نے پھر دھوکا دیا۔ وہ رقم لے کر غائب ہوگیا۔ اُس عورت کی دعائیں اب آہوں اور بددعاؤں میں بدل گئیں۔
یہ وہ لمحہ تھا جب قدرت کی طرف سے دی گئی مہلت ختم ہونے لگی۔ کچھ ہی دنوں بعد، فیروز کے کاروبار میں عجیب نقصانات شروع ہوگئے۔ جو سودے ہمیشہ کامیاب ہوتے تھے، اب ناکام ہونے لگے۔ جن لوگوں پر وہ بھروسہ کرتا تھا، وہی اُسے دھوکا دینے لگے۔ اُس کی شہرت، جو کبھی اُس کے لیے ڈھال تھی، اب اُس کے خلاف ہتھیار بن گئی۔
لوگ اُس سے منہ موڑنے لگے۔ کوئی اُس پر اعتبار کرنے کو تیار نہ تھا۔ وہ دروازے جو ہمیشہ اُس کے لیے کھلے رہتے تھے، اب بند ہونے لگے۔
ایک رات، جب فیروز تنہا اپنے کمرے میں بیٹھا تھا، اُس نے پہلی بار اپنے اعمال پر غور کیا۔ اُس کے ذہن میں اُن سب لوگوں کے چہرے آنے لگے جنہیں اُس نے دھوکا دیا تھا۔ اُن کی آنکھوں میں دکھ، اُن کی زبان پر بددعائیں، سب کچھ اُسے بے چین کرنے لگا۔
اُسی لمحے اُسے حمزہ کی بات یاد آئی: “ہر مہلت ہمیشہ نہیں رہتی…”
اب اُسے احساس ہوا کہ واقعی، اللہ کی رسی کھینچ لی گئی ہے۔ فیروز نے اپنی زندگی کو سنبھالنے کی کوشش کی، مگر بہت دیر ہوچکی تھی۔ اُس کے پاس نہ پیسہ بچا، نہ عزت، نہ اعتبار۔ وہ جو کبھی لوگوں کے درمیان سر اٹھا کر چلتا تھا، اب نظریں جھکا کر چلنے لگا۔
ایک دن وہ اُسی بیوہ عورت کے گھر کے سامنے کھڑا تھا، جسے اُس نے دھوکا دیا تھا۔ اُس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، دل شرمندگی سے بوجھل تھا۔ اُس نے دروازہ کھٹکھٹایا، مگر اندر سے کوئی جواب نہ آیا۔ شاید اب اُس کے لیے معافی کا دروازہ بھی بند ہوچکا تھا۔
فیروز کی کہانی ہمیں ایک گہرا سبق دیتی ہے۔ وعدہ صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا، یہ کسی کے اعتماد، کسی کی امید اور کسی کے خواب سے جڑا ہوتا ہے۔ جب ہم وعدہ توڑتے ہیں، تو صرف ایک بات نہیں ٹوٹتی، بلکہ ایک دل، ایک یقین اور ایک رشتہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔
قدرت کی طرف سے ملنے والی مہلت کو کامیابی نہ سمجھیں۔ یہ صرف ایک آزمائش ہوتی ہے۔ جب تک ڈھیل ملتی ہے، انسان خود کو محفوظ سمجھتا ہے، مگر جب پکڑ آتی ہے تو وہ سب کچھ لے جاتی ہے جو اُس نے ناجائز طریقے سے حاصل کیا ہوتا ہے۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سچائی، دیانت اور وعدے کی پاسداری ہی اصل کامیابی ہے۔ وقتی فائدہ شاید میٹھا لگے، مگر اُس کا انجام ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں برکت، سکون اور عزت ہو، تو ہمیں اپنے وعدوں کا پاس رکھنا ہوگا۔ کیونکہ اللہ کی عدالت میں نہ کوئی چالاکی چلتی ہے، نہ کوئی بہانہ کام آتا ہے۔
آخر میں، یاد رکھیں: “وعدہ وہ قرض ہے جو ہر حال میں ادا کرنا ہوتا ہے، ورنہ ایک دن انسان خود اپنے ہی دھوکے کا شکار ہو جاتا ہے۔”

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔