معرکۂ حق: عسکری کامیابی سے قومی وقار تک

اسد احمد

معرکۂ حق اور آپریشن “بُنیان المرصوص” کی کامیابی کو ایک سال مکمل ہونے پر پورے ملک میں یومِ تشکر منایا گیا۔ یہ صرف ایک عسکری کامیابی کی سالگرہ نہیں بلکہ قومی وحدت، عسکری مہارت، سیاسی قیادت اور عوامی جذبے کے اظہار کا دن بھی ہے۔ اس موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت کے پیغامات نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ پاکستان آج ایک مضبوط، باوقار اور ناقابلِ تسخیر ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے کھڑا ہے۔ گزشتہ برس بھارت کی جانب سے جارحیت اور اشتعال انگیزی کے ماحول میں پاکستان نے جس جرأت، حکمت عملی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا، وہ تاریخ کا اہم باب بن چکا ہے۔ “معرکۂ حق” صرف سرحدوں پر لڑی جانے والی جنگ نہیں تھی بلکہ یہ قومی وقار، سفارتی بصیرت، اطلاعاتی حکمت عملی اور دفاعی مہارت کا بھی امتحان تھا، جس میں پاکستان نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں اس کو “سجدۂ شکر” کا دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان نے دشمن کو عبرت ناک شکست دی۔ ان کا کہنا تھا کہ بری، بحری، فضائی اور سائبر محاذوں پر افواجِ پاکستان کے مربوط اور منظم ردِعمل نے دنیا پر واضح کردیا کہ پاکستان ناقابلِ تسخیر قوت ہے۔ وزیراعظم نے شہداء، غازیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ شہباز شریف کے بیان میں ایک اہم پہلو پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا پاکستان کو ایک ذمے دار اور امن پسند ملک کے طور پر تسلیم کررہی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کے مثبت کردار اور قیامِ امن کے لیے سفارتی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جانا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہے۔ یہ حقیقت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان اب صرف دفاعی قوت ہی نہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرنے والی ریاست بن چکا ہے۔
دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے پیغام نے سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو مزید اجاگر کیا۔ صدر زرداری نے واضح طور پر کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں سے پاکستان خطے میں توازن اور استحکام کی علامت بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جرأت مندانہ قیادت، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی پیشہ ورانہ مہارت اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کی دفاعی تیاریوں کو قومی سلامتی کے لیے قابلِ فخر قرار دیا۔ صدر زرداری کے بیان کا اہم پہلو سندھ طاس معاہدے اور مسئلہ کشمیر پر دوٹوک مؤقف تھا۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی کوشش کو “آبی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی کا مسئلہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر جنوبی ایشیا کا نامکمل ایجنڈا ہے اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کا حل ناگزیر ہے۔ یہ پیغام دراصل عالمی برادری کو یاد دہانی ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف انصاف اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرنے سے ہی ممکن ہے۔ اگر عسکری قیادت کے پیغام کا جائزہ لیا جائے تو اس میں پاکستان کی دفاعی تیاری، قومی عزم اور جدید جنگی حکمت عملی کی واضح جھلک دکھائی دیتی ہے۔ جی ایچ کیو میں منعقدہ تقریب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر اور ایڈمرل نوید اشرف کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ تینوں مسلح افواج مکمل اتحاد اور ہم آہنگی کے ساتھ ملک کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں معرکۂ حق کو قومی تاریخ کا “سنگ میل” قرار دیا گیا۔ بیان کے مطابق پاکستان نے نہ صرف دشمن کی روایتی جارحیت کو ناکام بنایا بلکہ ہائبرڈ وارفیئر، فالس فلیگ آپریشنز، سائبر حملوں اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو بھی مؤثر انداز میں بے نقاب کیا۔ اس معرکے نے ثابت کردیا کہ پاکستان کی افواج جدید جنگی تقاضوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں اور زمینی، فضائی، بحری، سائبر اور اطلاعاتی ہر محاذ پر دشمن کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت اس پورے معرکے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی حکمت عملی، بروقت فیصلوں اور عسکری تیاری نے نہ صرف دشمن کے عزائم ناکام بنائے بلکہ قوم کا اعتماد بھی مضبوط کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں انہیں قومی عزم، جرأت اور عسکری وقار کی علامت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ معرکۂ حق کا سب سے بڑا سبق قومی اتحاد ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران قوم نے ثابت کیا کہ جب وطن کی سلامتی کا معاملہ ہو تو سیاسی، لسانی اور علاقائی تقسیم بے معنی ہوجاتی ہے۔ ملک کے ہر طبقے نے افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوکر یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے دفاع پر پوری قوم متحد ہے۔ تاہم اس کامیابی کے باوجود ہمیں داخلی چیلنجز کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور بیرونی سازشیں آج بھی موجود ہیں۔ وزیراعظم نے “فتنہ الخوارج” اور “فتنہ الہندوستان” کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا جبکہ صدر زرداری نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ یہ بیانات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کو اب بھی روایتی اور غیر روایتی خطرات کا سامنا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ معرکۂ حق کی کامیابی کو محض تقریبات اور نعروں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے قومی تعمیر و ترقی کا نقطۂ آغاز بنایا جائے۔ ہمیں اپنی معیشت مضبوط کرنا ہوگی، سیاسی استحکام پیدا کرنا ہوگا، اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا اور نئی نسل میں حب الوطنی، نظم و ضبط اور قومی ذمے داری کا شعور بیدار کرنا ہوگا۔ معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستانی ایک مضبوط، خوددار اور زندہ قوم ہے۔ دشمن کی ہر جارحیت کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور امن کی خواہش کے باوجود اپنے دفاع پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ یہی پیغام وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بیانات میں نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ دن صرف ماضی کی کامیابی کا جشن نہیں بلکہ مستقبل کے عزم، اتحاد اور قومی استحکام کا استعارہ بھی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔