بابا وانگا کی اسمارٹ فونز سے متعلق حیرت انگیز پیش گوئی
کراچی: غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بابا وانگا نے ٹیکنالوجی کے دور سے متعلق ایک اہم پیش گوئی کی تھی، جس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں مگر وہ پیش گوئیاں آج حقیقت کی شکل اختیار کرچکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بابا وانگا نے پیش گوئی کی تھی کہ لوگ روزمرہ زندگی میں مدد کے لیے چھوٹے آلات پر انحصار کریں گے اور وقت کے ساتھ یہی چھوٹے آلات انسانوں کے ایک دوسرے سے تعلق اور باہمی رابطے کے طریقوں کو بدل دیں گے۔
آج اس پیش گوئی کے مطابق جائزہ لیا جائے تو ان کی پیش گوئی حقیقت کا روپ دھارتے نظر آرہی ہے، جہاں بچے، بزرگ، سب ہی کمپیوٹر، ٹیبلٹس، موبائل فونز سمیت دیگر مختلف ڈیجیٹل آلات استعمال کررہے ہیں۔
ڈیجیٹل آلات اب لوگوں کے کام کرنے، تفریح، دوسروں سے رابطے اور سماجی میل جول کا بنیادی ذریعہ بن چکے ہیں، اس کے نتیجے میں اسکرین ٹائم میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ بابا وانگا نے درست طور پر پیش گوئی کی تھی کہ جیسے جیسے لوگ آہستہ آہستہ چھوٹے الیکٹرونک آلات پر انحصار کرنے لگیں گے، ویسے ویسے حقیقی زندگی کے تعلقات سے ان کی قربت کم ہوتی جائے گی اور اس کے نتیجے میں دنیا بھر کے افراد کی ذہنی صحت منفی طور پر متاثر ہوگی۔
اسمارٹ فون جیسے ڈیجیٹ آلات نے معیار زندگی تو بہتر بنایا ہے مگر ہر ٹیکنالوجی کی طرح اس کے بے جا استعمال کا ایک سنگین منفی پہلو بھی ہے، ان آلات کی عادت بہت سے صارفین میں ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکی ہے، جو بچوں اور نوجوانوں میں جلد ہی وبائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بچوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والے دیگر آلات کے استعمال کے جسمانی، رویہ جاتی اور سماجی اثرات کے مطابق 23.80 فیصد بچے سونے سے پہلے بستر میں اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں اور یہ شرح عمر کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے جو بچوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
رپورٹ میں مختلف تحقیق سے متعلق بتایا گیا کہ اسکرین کے حد سے زیادہ استعمال کو نفسیاتی مسائل جیسے بے چینی، ڈپریشن اور توجہ کی کمی کی بیماری سے بھی جوڑا گیا ہے اور بچوں کے لیے ماضی کے مقابلے میں جسمانی سرگرمیوں میں کم حصہ لیتے ہیں اور باہر جا کر اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ وقت گزارنے کے امکانات بھی کم ہو گئے ہیں۔
خیال رہے کہ بابا وانگا کو درست پیش گوئیوں کے باعث شہرت حاصل ہوئی اور دہائیوں قبل انتقال کے باوجود ان کی پیش گوئیاں تاحال کسی نہ کسی صورت حقیقت کے طور پر سامنے آتی ہیں، جس کے باعث لوگ حیرت میں بھی مبتلا ہوتے ہیں اور لوگ کہتے کہ اگرچہ وہ نابینا تھیں لیکن مستقبل کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔
بابا وانگا کی مشہور پیش گوئیوں میں دوسری جنگ عظیم، 11 ستمبر کے واقعات، 2004 کا سونامی شامل ہے اور اب ٹیکنالوجی کے حوالے سے کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کے عروج کی پیش گوئی بھی کی تھی۔