ایک چھوٹا سا کیک، بڑی خوشی

وقاص بیگ

ایک چھوٹی سی رہائشی گلی میں، ایک ماں اپنی پانچ سالہ بیٹی کے ساتھ چل رہی تھی۔ اس ماں کا نام عائشہ تھا۔ وہ نہایت غریب تھی، لیکن اس کے دل میں اپنی بیٹی کے لیے بے پناہ محبت اور خواہش تھی کہ کم سے کم آج کے خصوصی دن کے لیے وہ اپنی بچی کی مسکراہٹ دیکھ سکے۔ اس دن اس کی بیٹی کی سالگرہ تھی، لیکن مالی حالات اتنے خراب تھے کہ وہ زیادہ کچھ خریدنے کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ اسی دوران بچی نے اپنی چھوٹی سی آواز میں پوچھا، "امی، آج میرا کیک ملے گا؟”
بیٹی کو گھر چھوڑ کر عائشہ نے اپنے جیب سے آخرکار چند سکے نکالے اور قریب کی بیکری کی طرف چل دی۔ اس کے قدم تھوڑے دبک رہے تھے، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ چند سکے جو اس کے پاس ہیں، شاید کافی نہ ہوں۔
بیکری میں داخل ہوتے ہی خوشبو نے ماں کو خوشی سے بھر دیا۔ رنگ برنگے کیکس، پیسٹریز اور چاکلیٹس ایک دوسرے کے ساتھ لگے تھے اور ہر ایک چیز دل کو لبھانے والی تھی۔ عائشہ نے سب سے پہلے چھوٹی سی پیسٹری کی قیمت پوچھی، کیونکہ اس کے پاس زیادہ رقم نہیں تھی۔
دکان دار ایک درمیانہ عمر کا آدمی تھا، جس کے چہرے پر ہنسی اور انسانیت کا نور جھلکتا تھا۔ اس نے عائشہ کے حالات فوراً پہچان لیے۔ اس کے کپڑے، اس کا حلیہ، اور اس کے انداز نے دکان دار کو بہت کچھ کہہ ڈالا۔
عائشہ نے نرمی سے کہا، "بھائی، یہ چھوٹی سی پیسٹری کی قیمت کیا ہے؟” دکان دار نے فوراً جواب دیا، "یہ معمولی سی پیسٹری ہے، لیکن اگر آپ چاہتے ہیں تو میرے پاس ایک cake ہے، جو اصل میں کسی کام کا نہیں، لیکن کھانے میں بہت اچھا ہے، آپ اسے لے جاسکتی ہیں۔”
عائشہ حیران ہوئی، "یہ کیسے ممکن ہے؟ کیا یہ cake خراب ہے؟” دکان دار نے مسکرا کر کہا، "جی نہیں، یہ صرف بناوٹ میں تھوڑا نقص رکھتا ہے، لیکن ذائقے میں بہترین ہے۔” حالانکہ کیک میں کوئی نقص نہیں تھا۔
یہ سن کر عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ دل کی گہرائیوں سے خوشی اور شکر گزاری کی لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔ اس نے دکان دار کا شکریہ ادا کیا اور cake اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔
گھر پہنچ کر عائشہ نے اپنی بیٹی کو cake دکھایا۔ بچی کی خوشی دیکھ کر ماں کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے cake کاٹ کر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے اور پوری محبت کے ساتھ بیٹی کی سالگرہ منائی۔ وہ لمحہ نہ صرف بچی کے لیے خوشی کا تھا بلکہ ماں کے لیے بھی سکون اور اطمینان کا۔
اگلے دن، بیکری کے مالک نے اپنے دکان کا دروازہ کھولا۔ اس نے دیکھا کہ دکان کے سامنے ایک folded پرچہ پڑا ہے۔ حیرت کے ساتھ اس نے پرچہ اٹھایا اور دیکھا کہ اس پر چھوٹی بچی کی لکھائی میں یہ الفاظ تھے:
"محترم دکان دار، آپ کی مہربانی کی وجہ سے میری امی کے چہرے پر خوشی آئی۔ یہ خوشی میں کبھی نہیں بھولوں گی۔ شکریہ!”
دکان دار کے دل کو یہ پیغام چھو گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ ایک چھوٹے سے عمل نے ایک خاندان کی زندگی بدل دی۔ اس نے یہ سیکھا کہ نیکی اور انسانیت کی خدمت کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، بس دل صاف ہونا چاہیے۔
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ چھوٹے چھوٹے اعمال بھی کسی کے دن یا زندگی کو بدل سکتے ہیں۔ خلوص اور انسانیت کبھی ضائع نہیں جاتے۔ محبت اور نیکی کا اثر اکثر الفاظ سے زیادہ عملی طور پر محسوس ہوتا ہے۔ بے لوث محبت اور مدد نہ صرف دوسروں کو خوشی دیتی بلکہ دینے والے کے دل کو بھی سکون اور اطمینان بخشتی ہے۔
عائشہ اور اس کی بیٹی کے لیے cake ایک معمولی سی چیز تھی، لیکن دکان دار کی انسانیت نے اسے یادگار اور قیمتی بنادیا۔
یہ واقعہ انسانیت، خلوص اور نیکی کا پیغام ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ چھوٹے عمل بھی بڑی خوشی لا سکتے ہیں۔ انسانیت کی خدمت کرنا سب سے بڑی نیکی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔