ایک خاموش قربانی

اسد احمد
وہ سردیوں کی ایک خاموش صبح تھی۔ لاہور کی پرانی گلیوں میں دھند ایسی چھائی ہوئی تھی جیسے وقت بھی تھم گیا ہو۔ اسی گلی کے آخر میں ایک چھوٹا سا مکان تھا، جس کی دیواریں پرانی ضرور تھیں مگر اندر ایک انمول رشتہ سانس لے رہا تھا، ماں اور بیٹے کا رشتہ۔
اس گھر میں رہنے والا لڑکا، احمد، ابھی کالج کے دوسرے سال میں تھا۔ اس کے والد کا انتقال اس وقت ہوگیا تھا جب وہ صرف دس سال کا تھا۔ اس دن کے بعد اس کی ماں، ساجدہ بی بی، نے زندگی کو ایک جنگ کی طرح لڑنا شروع کیا۔ وہ کسی ہیرو کی طرح نہیں، بلکہ ایک خاموش سپاہی کی طرح تھی، جو ہر دن شدید تھکن کے باوجود بھی اگلے دن پھر کھڑا ہوجاتا ہے۔
ساجدہ بی بی دوسروں کے گھروں میں کام کرتی، کپڑے دھوتی، برتن مانجھتی اور کبھی کبھی سلائی بھی کرتی۔ اس کی کمائی بہت کم تھی مگر اس کی ہمت بہت بڑی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ احمد ایک دن بڑا آدمی بنے، ایسا انسان جو اس کی قربانیوں کو ضائع نہ جانے دے۔
احمد بھی ماں کی محنت کو سمجھتا تھا۔ وہ اکثر رات کو دیر تک پڑھتا رہتا جب کہ اس کی ماں تھکن سے چُور ہو کر بھی اس کے لیے چائے بنا کر لاتی اور کہتی،
“بس بیٹا… تھوڑا اور محنت کر لو، تمہیں زندگی بدلنی ہے۔” احمد کے لیے اس کی ماں صرف ماں نہیں تھی، بلکہ اس کی پوری دنیا تھی۔
وقت گزرتا گیا۔ مشکلات بڑھتی گئیں۔ کبھی گھر میں راشن ختم ہو جاتا، کبھی بجلی کا بل ادا نہ ہوپاتا۔ مگر ساجدہ بی بی نے کبھی احمد کو یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ کمزور ہیں۔ وہ ہمیشہ کہتی، “ہم غریب ہیں، ناکام نہیں۔” احمد نے بھی اپنی ماں کے خواب کو اپنا خواب بنالیا۔ وہ دن رات پڑھائی کرتا اور چھوٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر کچھ پیسے کمالیتا۔ اس کی زندگی میں صرف ایک مقصد تھا، اپنی ماں کو وہ زندگی دینا جس کی وہ حق دار ہیں۔
جب احمد کے امتحانات کے نتائج آئے۔ پورے کالج میں اس نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔ جب وہ گھر آیا تو اس کے ہاتھ میں مارک شیٹ تھی، مگر اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ بھاگ کر اپنی ماں کے گلے لگ گیا۔
“امی… میں نے کر دکھایا…” ساجدہ بی بی نے مارک شیٹ دیکھی اور اس کے ہاتھ کانپ گئے۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ مگر یہ آنسو دکھ کے نہیں تھے، یہ برسوں کی قربانیوں کا صلہ تھا۔ وہ پہلی بار اپنے بیٹے کے سامنے رو پڑی۔
“بیٹا… یہ سب تمہاری محنت ہے۔ میں تو صرف ساتھ تھی، اصل لڑائی تم نے لڑی ہے…”
احمد نے سر جھکا کر کہا، “نہیں امی… یہ سب آپ کی وجہ سے ہے۔ اگر آپ نہ ہوتیں تو میں کچھ بھی نہیں تھا۔”
وقت نے ایک اور موڑ لیا۔ احمد کو ایک اچھی یونیورسٹی میں اسکالرشپ مل گئی۔ مگر وہاں جانے کے لیے شہر چھوڑنا تھا۔ یہ فیصلہ دونوں کے لیے آسان نہیں تھا۔
جس دن احمد گھر سے نکلا، ساجدہ بی بی نے اس کا بیگ ٹھیک کیا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے مگر آواز مضبوط تھی۔
“بیٹا… جہاں بھی جاؤ، سچائی نہ چھوڑنا۔ پیسے کماؤ، مگر اپنی ماں کی دعائیں کبھی نہ بھولنا۔” احمد نے ماں کے ہاتھ چومے اور کہا، “امی… میں ہر کامیابی آپ کے نام کروں گا۔” بس پھر دروازہ بند ہوگیا۔
وقت گزرتا گیا۔ احمد نے محنت کی، دن رات ایک کیا۔ وہ اپنی ماں کو خط لکھتا، فون کرتا اور ہر بار یہی کہتا، “امی، آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہیں۔” اور ساجدہ بی بی ہر خط کو سینے سے لگا کر روتی، مگر کسی کو اپنے دکھ کا علم نہیں ہونے دیتی تھیں۔
کئی سال بعد احمد ایک کامیاب انجینئر بن گیا۔ اس نے پہلی تنخواہ لینے کے بعد کوئی جشن نہیں منایا۔ وہ سیدھا اپنے پرانے گھر پہنچا۔
دروازہ کھولا تو ساجدہ بی بی وہیں بیٹھی تھی، کمزور ہوچکی تھی مگر آنکھوں میں وہی چمک تھی۔ احمد نے آگے بڑھ کر کہا، “امی… اب آپ کو کام کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب میں ہوں نا۔”
ساجدہ بی بی نے مسکرا کر کہا، “بیٹا… میں نے کبھی تمہارے لیے کام نہیں چھوڑا تھا۔ میں تو صرف تمہیں بناتے بناتے خود ختم ہوگئی…” یہ سن کر احمد کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ ماں کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
اس دن احمد نے جانا کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں ہوتی… وہ ایک دعا ہوتی ہے جو ہر مشکل میں انسان کو بچا لیتی ہے۔ اور ساجدہ بی بی نے اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا اور آہستہ سے کہا، “بیٹا… اگر زندگی میں کچھ بن جاؤ تو یہ مت بھولنا کہ تمہاری کامیابی کے پیچھے ایک عورت کی پوری زندگی لگی ہے…”
اس رات گلی میں خاموشی تھی… مگر ایک ماں کی قربانی کی گونج آسمان تک جا رہی تھی۔
اور کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی… کیونکہ ہر کامیاب انسان کے پیچھے ایک ماں کی وہ خاموش جنگ چھپی ہوتی ہے جسے دنیا کبھی نہیں دیکھ پاتی… مگر وہی اصل حقیقت ہوتی ہے۔