شمیمہ بیگم کیس کا نیا موڑ

انجینئر بخت سید یوسف زئی
(engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

برطانوی حکومت نے شمیمہ بیگم کی برطانوی شہریت ختم کرنے کے فیصلے پر ایک بار پھر غیر متزلزل مؤقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کا یورپی عدالتِ برائے انسانی حقوق میں مکمل اور بھرپور دفاع کرے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ کسی سیاسی دباؤ یا وقتی جذبات کا نتیجہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کے تقاضوں، انٹیلی جنس رپورٹس اور طویل قانونی عمل کے بعد کیا گیا تھا۔
ہوم آفس کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہوم سیکریٹری اس معاملے کو محض ایک فرد کی شہریت کا مسئلہ نہیں بلکہ ریاستی سلامتی اور عوامی تحفظ سے جڑا ایک نہایت حساس معاملہ سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کی اولین ذمے داری اپنے شہریوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے اور اس اصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
شمیمہ بیگم کا کیس ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز اُس وقت بنا جب یورپی عدالتِ برائے انسانی حقوق نے برطانوی حکومت کے فیصلے پر سوالات اٹھاتے ہوئے اس کی مزید جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے اس کیس کو انسانی حقوق، ریاستی ذمے داری اور قانونی دائرہ اختیار کے تناظر میں دیکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
برطانوی حکومت اس بات پر زور دیتی ہے کہ شمیمہ بیگم کی شہریت ختم کرنے کا فیصلہ کسی ایک مرحلے پر نہیں کیا گیا، بلکہ اس پر برطانیہ کی مختلف عدالتوں میں بارہا غور ہوچکا ہے۔ حکومت کے مطابق عدالتِ عالیہ اور سپریم کورٹ سمیت تمام متعلقہ عدالتی فورمز نے اس فیصلے کو قانونی اور آئینی بنیادوں پر درست قرار دیا۔
شمیمہ بیگم 2015 میں صرف 15 برس کی عمر میں مشرقی لندن سے شام روانہ ہوئیں، اُس وقت شام میں شدت پسند تنظیم داعش کا کنٹرول تھا۔ ان کا یہ فیصلہ نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کے لیے سنگین ثابت ہوا، بلکہ بعدازاں برطانوی ریاست کے لیے ایک پیچیدہ قانونی اور سیکیورٹی مسئلہ بھی بن گیا۔
شام پہنچنے کے بعد شمیمہ بیگم نے ایک داعش جنگجو سے شادی کی اور کئی برس ایسے علاقوں میں گزارے جو شدت پسند تنظیم کے زیرِ اثر تھے۔ بعد میں داعش کے زوال کے بعد وہ شمالی شام کے ایک کیمپ میں پہنچ گئیں، جہاں سے ان کا معاملہ بین الاقوامی میڈیا اور قانونی حلقوں میں نمایاں ہوا۔
2019 میں برطانوی حکومت نے یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے شمیمہ بیگم کی شہریت ختم کردی کہ ان کی ممکنہ واپسی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد کسی کو سزا دینا نہیں بلکہ مستقبل میں ممکنہ سیکیورٹی خدشات کو روکنا تھا۔
حکام کے مطابق ایسے افراد جن کا ماضی شدت پسند تنظیموں سے جڑا رہا ہو، ان کے بارے میں کسی بھی قسم کا خطرہ نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں معمولی سی غفلت بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
دوسری جانب شمیمہ بیگم کے وکلا اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے یہ مؤقف اپناتے رہے ہیں کہ حکومت نے انسانی پہلوؤں کو مناسب اہمیت نہیں دی۔ ان کے مطابق شمیمہ بیگم کم عمری میں انتہاپسند عناصر کے اثر میں آئیں اور ممکنہ طور پر ذہنی بہکاوے اور منظم نیٹ ورکس کا شکار ہوئیں۔
وکلا کا کہنا ہے کہ 15 سال کی عمر میں کسی فرد سے مکمل سیاسی اور نظریاتی شعور کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ ان کے نزدیک ریاست کو چاہیے تھا کہ وہ شمیمہ بیگم کو محض ایک خطرہ سمجھنے کے بجائے ایک ممکنہ متاثرہ فرد کے طور پر بھی دیکھتی۔ اسی تناظر میں یورپی عدالتِ برائے انسانی حقوق نے برطانوی حکومت سے سوال کیا ہے کہ آیا اُس وقت کے حکومتی وزرا نے شمیمہ بیگم کے معاملے میں ان کی کم عمری اور ممکنہ ذہنی استحصال کے پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کیا یا نہیں۔
عدالت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا ہے کہ آیا برطانیہ پر شمیمہ بیگم کے حوالے سے کوئی قانونی یا اخلاقی ذمے داری عائد ہوتی تھی، خاص طور پر اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ وہ نابالغ تھیں جب انہوں نے ملک چھوڑا۔
یورپی عدالت کی دستاویزات کے مطابق شمیمہ بیگم نے انسانی حقوق کے قانون کے تحت یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہیں آزادانہ فیصلے کا مکمل اختیار حاصل نہیں تھا اور وہ منظم انداز میں ذہنی طور پر متاثر کی گئی تھیں۔
تاہم برطانوی حکومت نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں نے پہلے ہی ان نکات کا جائزہ لے کر ریاستی مؤقف کو درست قرار دیا ہے۔ حکومت کے مطابق اجتماعی سلامتی کو انفرادی دعوؤں پر ترجیح دینا ریاست کی ذمے داری ہے۔
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے کیسز میں نرمی برتی جائے تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرسکتی ہے، جس سے مستقبل میں شدت پسند عناصر کے لیے قانونی راستے کھلنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ مقدمہ برطانیہ میں شہریت کے قوانین، قومی سلامتی اور انسانی حقوق کے درمیان توازن پر ایک وسیع تر بحث کو جنم دے چکا ہے۔ سیاسی جماعتیں، قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس معاملے پر مختلف آرا رکھتی ہیں۔
کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق یورپی عدالت میں اس کیس کی سماعت مستقبل میں یورپ بھر میں شہریت سے متعلق پالیسیوں پر اثرانداز ہوسکتی ہے، خاص طور پر ان ممالک میں جہاں سیکیورٹی خدشات پہلے ہی موجود ہیں۔
دوسری جانب برطانوی حکومت واضح کرچکی ہے کہ وہ کسی بھی بین الاقوامی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ حکام کے مطابق قومی سلامتی ایک ایسی سرخ لکیر ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
ہوم آفس کا کہنا ہے کہ یورپی عدالت کے سامنے تمام قانونی نکات، عدالتی فیصلے اور سیکیورٹی شواہد پیش کیے جائیں گے تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ شہریت ختم کرنے کا فیصلہ مکمل طور پر قانون کے دائرے میں رہ کر کیا گیا۔
یہ مقدمہ اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور آنے والا عدالتی عمل نہ صرف شمیمہ بیگم کے مستقبل بلکہ برطانیہ اور یورپ میں شہریت و ریاستی اختیارات کے حوالے سے جاری بحث کی سمت کا بھی تعین کر سکتا ہے۔
فی الحال برطانوی حکومت اپنے فیصلے پر مضبوطی سے قائم ہے اور اس بات پر زور دے رہی ہے کہ عوامی سلامتی اور ریاستی تحفظ پر کسی بھی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، چاہے اس کے لیے کتنی ہی طویل اور سخت قانونی جنگ کیوں نہ لڑنی پڑے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔