ماں کی دعا نے بیٹے کی تقدیر بدل دی

عبدالعزیز بلوچ
رات کے دو بج رہے تھے۔ بارش کی ہلکی ہلکی بوندیں ٹوٹی ہوئی چھت سے ٹپک رہی تھیں۔ کمرے کے ایک کونے میں رکھا مٹی کا چراغ مدھم روشنی دے رہا تھا۔ ماں جائے نماز پر بیٹھی ہاتھ اٹھائے رو رہی تھی۔ "یااللہ! میرے حسن کی قسمت بدل دے… اسے علم عطا فرما… اسے اپنے دین اور دنیا دونوں میں کامیاب کر دے۔”
ساتھ والے کمرے میں اٹھارہ سالہ حسن جاگ رہا تھا۔ اس نے ماں کی دعا سن لی تھی، مگر اس کے دل میں عجیب سا بوجھ تھا۔ وہ اسکول چھوڑ چکا تھا۔ غربت نے اس کے ہاتھ میں کتاب کی جگہ اینٹ تھما دی تھی۔
صبح اذان ہوئی تو حسن وضو کرکے مسجد چلا گیا۔ امام صاحب نے نماز کے بعد ایک حدیث سنائی: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔” یہ الفاظ حسن کے دل میں اتر گئے۔
واپسی پر اس نے ماں سے کہا: "اماں… کیا میں دوبارہ پڑھ سکتا ہوں؟”
ماں کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ "بیٹا… میرے پاس تو تیری فیس کے لیے بھی پیسے نہیں۔” حسن خاموش ہوگیا۔
اس دن اس نے مزدوری کے دوران ایک عہد کیا۔ "میں دن میں مزدوری کروں گا، شام کو پڑھوں گا۔” لوگ ہنستے تھے۔ "کتابیں روٹی نہیں دیتیں!”، "غریبوں پر خواب اچھے نہیں لگتے!”
مگر حسن ہر طنز پر صرف ایک جملہ کہتا۔ "رزق اللہ دیتا ہے، علم بھی اللہ کی نعمت ہے۔” سال گزرتے گئے۔
دن میں دھوپ، شام میں کتابیں۔ کبھی بجلی نہ ہوتی تو گلی کے کھمبے کے نیچے بیٹھ کر پڑھتا۔ کبھی بھوک لگتی تو پانی پی کر سوجاتا۔ لیکن قرآن کی ایک آیت اسے ہمیشہ حوصلہ دیتی تھی: "اور کہہ دیجیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔”
ایک دن مزدوری کرتے ہوئے اس کے والد کو دل کا دورہ پڑا۔ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
گھر میں خاموشی چھا گئی۔ قرض الگ… غم الگ… ذمے داریاں الگ… محلے والوں نے کہا: "اب پڑھائی چھوڑ دو۔” مگر حسن نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا: "ابا… میں آپ کا خواب نہیں مرنے دوں گا۔”
اس کی ماں ہر رات تہجد میں ایک ہی دعا مانگتی۔ "یااللہ! میرے بیٹے کو علم کی عزت عطا فرما۔”
چند سال بعد… نتائج کا دن آیا۔ میٹرک کے امتحان میں حسن پورے ضلع میں پہلی پوزیشن لے آیا۔ محلے کے وہی لوگ جو کبھی مذاق اڑاتے تھے، آج مٹھائیاں لے کر آرہے تھے۔ لیکن حسن کی آنکھیں صرف اپنی ماں کو تلاش کر رہی تھیں۔
وہ دوڑا… گھر پہنچا… دروازہ کھولا… ماں جائے نماز پر بیٹھی تھی۔ ہاتھ ابھی بھی دعا کے انداز میں تھے۔ چہرے پر سکون تھا۔ حسن نے روتے ہوئے ماں کی گود میں سر رکھا اور بار بار کہنے لگا: "اماں… دیکھو… میں کامیاب ہوگیا… آپ کی دعا قبول ہوگئی…”
ماں نے سجدہ شکر ادا کیا اور اللہ کے سامنے اپنے بیٹے کے لیے مزید کامیابیوں کی دعا کرنے لگی۔
حسن نے ماں کے ہاتھ چومے۔ وہ ہاتھ جنہوں نے کبھی اپنے لیے کچھ نہیں مانگا تھا۔ صرف بیٹے کے علم کی دعا مانگی تھی۔
حسن نے علم سے ناتا جوڑے رکھا، کامیابیاں ملتی رہیں، لیکن اسی دوران دعا دینے والی ماں اس دُنیا سے رخصت ہوگئی۔
برسوں بعد… ڈاکٹر حسن ایک بڑے اسپتال کا سربراہ بن چکا تھا۔ پیسہ بھی تھا… عزت بھی… مقام بھی… مگر ہر جمعہ وہ اپنی ماں کی قبر پر ضرور جاتا۔ وہ قبر کے پاس بیٹھ کر روتا اور کہتا: "اماں… اگر اس دن آپ نے میرے لیے دعا نہ کی ہوتی تو شاید آج میں بھی کسی چوراہے پر مزدوری کررہا ہوتا۔”
ایک روز وہ اپنی ماں کی قبر پر گیا تو کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا۔ اس پر لکھا تھا: "ماں کی دعا سے قائم ہونے والا فری تعلیمی ٹرسٹ۔” اپنی ماں کی قبر پر روتے ہوئے اُس نے بتایا کہ اس ٹرسٹ میں سیکڑوں غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی۔
حسن کا مقصد علم کا فروغ تھا۔ وہ ہر داخل ہونے والے بچے سے صرف ایک وعدہ لیتا۔ "جب کامیاب ہوجاؤ تو غریبوں کی مدد کو اپنا شعار بنانا۔” وہ جانتا تھا… زکوٰۃ صرف مال کی نہیں ہوتی، علم کی بھی ہوتی ہے۔ اور شاید کسی بچے کی کتاب خرید دینا… کسی یتیم کی فیس ادا کردینا… کسی نوجوان کو قلم دے دینا… یہ وہ صدقۂ جاریہ ہے، جس کا اجر انسان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔
یاد رکھیں… غربت انسان کو چھوٹا نہیں بناتی۔ تعلیم انسان کو بڑا بناتی ہے۔ اور جس گھر میں ماں کی دعائیں، حلال محنت اور اللہ پر بھروسہ ہو… وہاں ایک نہ ایک دن کامیابی ضرور دستک دیتی ہے۔