‘‘پاکستان میں طرزِ حکمرانی پر ازسرِنو غور’’ کے عنوان سے کراچی میں اعلیٰ سطح کے مباحثے کا انعقاد
کراچی: کراچی کونسل برائے خارجہ تعلقات (کے سی ایف آر) کے زیرِ اہتمام آج یہاں ‘‘پاکستان میں طرزِ حکمرانی پر ازسرِنو غور’’ کے عنوان سے ایک اعلیٰ سطح کے عوامی مباحثے کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان میں مؤثر طرزِ حکمرانی کی راہ میں حائل سیاسی، ادارہ جاتی، انتظامی چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مباحثے میں ممتاز سیاسی رہنماؤں، پالیسی سازوں، پارلیمنٹیرینز، ماہرین تعلیم اور تجزیہ کاروں نے شرکت کی اور پاکستان کے موجودہ نظامِ حکمرانی کا جامع جائزہ لیتے ہوئے ادارہ جاتی استحکام، سیاسی اصلاحات، عوامی خدمات کی مؤثر فراہمی اور شہریوں کو بہتر حکمرانی کی فراہمی کے مختلف پہلوؤں پر اپنی آرا پیش کیں۔
مباحثے کے دوران اس امر پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی کہ موجودہ نظامِ حکمرانی کا ازسرِنو جائزہ لیتے ہوئے اداروں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جائے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان رابطے اور تعاون کو بہتر کیا جائے، شفافیت اور جواب دہی کے نظام کو مؤثر بنایا جائے اور ایسے حکومتی ڈھانچے تشکیل دیے جائیں جو عام شہری کی ضروریات، مسائل اور توقعات کا بروقت اور مؤثر جواب دے سکیں۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے پاکستان کے موجودہ سیاسی اور انتظامی منظرنامے کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ادارہ جاتی اصلاحات، جمہوری طرزِ حکمرانی، عوامی خدمات کی فراہمی اور مؤثر جوابدہی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط جمہوری نظام اور مؤثر ریاستی ادارے ہی ملک میں سیاسی استحکام، بہتر انتظامی کارکردگی اور پائیدار ترقی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
معروف فلاحی شخصیت اور کراچی کونسل برائے خارجہ تعلقات کی چیئرپرسن نادرا پنجوانی نے ادارہ جاتی جواب دہی، پائیدار ترقی اور انسان مرکز پالیسی سازی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ طرزِ حکمرانی محض انتظامی امور چلانے کا نام نہیں بلکہ یہ ہر شہری کی فلاح و بہبود، عزتِ نفس اور بہتر مستقبل کو یقینی بنانے کی اخلاقی ذمے داری ہے۔

سندھ کے سابق گورنر عمران اسماعیل نے مؤثر عوامی انتظامیہ کی راہ میں حائل خود ساختہ رکاوٹوں پر روشنی ڈالتے ہوئے سیاسی اصلاحات اور مالیاتی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات اور وسائل کی مؤثر تقسیم سے نہ صرف انتظامی کارکردگی میں بہتری لائی جاسکتی ہے بلکہ مقامی سطح پر عوامی مسائل کے حل اور فیصلہ سازی کے عمل کو بھی زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔

معروف تجزیہ کار اور گلوبل سچ کے میزبان ڈاکٹر ناصر بیگ نے بنیادی مسئلے کو اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد کے بحران، سماجی و ڈیجیٹل تبدیلی اور عام شہری کو بااختیار بنانے کے تناظر میں پیش کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اس کے شہریوں کی ثابت قدمی، حوصلے اور محنت ہے، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسا نظام تشکیل دیا جائے جو شہریوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے اور انہیں اپنے مستقبل کے فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کا 80 سالہ سفر اس مقام پر آ پہنچا ہے جہاں دیرینہ اور ناگزیر اصلاحات کو مزید نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے حقیقی جمہوریت کو زیادہ شراکتی بنانے پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان کی آبادی طویل عرصے سے موجودہ منتخب اداروں کی نمائندگی کی گنجائش سے کہیں بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے کراچی کی غیر مستعمل معاشی صلاحیت کی جانب بھی توجہ دلائی اور موجودہ وقت کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ایک اہم موقع قرار دیا۔

اس سیمینار میں ممتاز سیاسی و سفارتی شخصیات کے علاوہ روس، امریکا اور بنگلادیش کے قونصل جنرل سمیت مختلف غیر ملکی وفود کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر آئیڈا ریو ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بصارت اور سماعت سے محروم طلبہ نے مقررین کے ساتھ ایک یادگار گروپ فوٹو بنوائی۔ کے سی ایف آر کے بورڈ آف گورنرز کے اراکین نے بھی مقررین کے ساتھ تصویر بنوائی، جس کے بعد چیئرپرسن نادرا پنجوانی نے ڈاکٹر ناصر بیگ، عمران اسماعیل، ڈاکٹر فاروق ستار اور شاہد خاقان عباسی کو یادگاری تحائف پیش کیے۔
سیمینار کا اختتام مقررین، مہمانوں اور وفود کی ایک مشترکہ گروپ تصویر کے ساتھ ہوا، جو پاکستان میں طرزِ حکمرانی کے مستقبل پر ایک فکر انگیز اور بامعنی نشست کے خاتمے کی علامت تھی۔