نئے صوبے اور ریاست کی رفتار

رفاقت علی
ریاستی نظام میں وقت بھی ایک سرمایہ ہوتا ہے۔ جس شہری کو ایک معمولی کام کے لیے کئی دن دفتر در دفتر بھٹکنا پڑے، جس ضلع کی فائل فیصلہ ہونے تک مہینوں میزوں پر گردش کرتی رہے اور جس علاقے میں ہنگامی صورتحال کا جواب مرکز تک پہنچتے پہنچتے دیر سے آئے، وہاں مسئلہ صرف فاصلے کا نہیں بلکہ ریاستی وقت کے ضیاع کا بھی ہوتا ہے۔ نئے صوبوں کی بحث کو اگر اسی زاویے سے دیکھا جائے تو یہ محض جغرافیائی تقسیم نہیں رہتی بلکہ ریاستی رفتار بہتر بنانے کا سوال بن جاتی ہے۔
ایک بڑا انتظامی یونٹ اپنے حجم کی وجہ سے ایسی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے۔ دارالحکومت سے دور واقع علاقے میں ایک ترقیاتی منصوبے کی منظوری، زمین کے کسی مسئلے کا حل، سیلاب یا خشک سالی سے نمٹنے کی حکمت عملی، ہسپتال کے لیے اضافی عملہ، اسکول کی عمارت کی مرمت یا سڑک کی فوری بحالی جیسے معاملات کئی سطحوں سے گزرتے ہیں۔ ہر اضافی سطح وقت اور لاگت بڑھاتی ہے۔ نئے صوبوں کے حامیوں کی اصل دلیل یہاں سے مضبوط ہوسکتی ہے کہ چھوٹا انتظامی دائرہ حکومت کو تیز رفتار فیصلوں کے قریب لا سکتا ہے۔ جب صوبائی دارالحکومت اور دور دراز ضلع کے درمیان ہزاروں کلومیٹر کا انتظامی فاصلہ کم ہوگا تو مقامی ترجیحات کو سمجھنا بھی آسان ہوگا اور ان پر فوری فیصلہ کرنا بھی۔ ایک ایسا نظام جس میں مسئلہ سامنے آنے اور فیصلہ ہونے کے درمیان غیر ضروری وقفہ کم ہو، وہ شہری کو ریاست کی موجودگی زیادہ واضح طور پر محسوس کرا سکتا ہے۔ یہاں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا ہر بڑے صوبے کو لازماً ایک ہی رفتار سے چلنا چاہیے؟ مختلف علاقوں کی ضروریات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ کہیں آبپاشی بنیادی مسئلہ ہے، کہیں شہری ٹرانسپورٹ، کہیں پہاڑی علاقوں میں سڑکیں، کہیں ساحلی معیشت، کہیں زراعت اور کہیں صنعت۔ ایک ہی انتظامی ترجیح نامہ پورے خطے پر لاگو کرنے سے بعض علاقوں کی مخصوص ضرورتیں ثانوی ہوجاتی ہیں۔ نئے صوبے اس امکان کو جنم دے سکتے ہیں کہ ہر انتظامی اکائی اپنی معاشی ساخت، جغرافیہ اور آبادی کے مطابق اپنی ترجیحات طے کرے۔
اس بحث میں سرکاری مشینری کی جواب دہی کا پہلو بھی اہم ہے۔ جب انتظامی دائرہ بہت وسیع ہو تو ذمہ داری بھی پھیل جاتی ہے۔ شہری شکایت کرتا ہے تو ایک محکمہ دوسرے کی طرف اشارہ کرتا ہے، ضلعی افسر صوبائی محکمے کا حوالہ دیتا ہے اور صوبائی ادارہ مزید منظوری کا انتظار کرتا رہتا ہے۔ یوں ذمہ داری کا سرا ہاتھ میں نہیں آتا۔ نسبتاً چھوٹے صوبائی یونٹ میں اختیارات اور ذمہ داریوں کی حد بندی زیادہ واضح کی جاسکتی ہے۔ عوام بھی جان سکتے ہیں کہ ان کے مسئلے کا ذمہ دار کون ہے اور کارکردگی کا حساب کس سے لیا جانا چاہیے۔
تاہم نئے صوبوں کو جادوئی حل سمجھنا بھی درست نہیں۔ اگر نئی اکائی میں پرانا انتظامی مزاج اور کمزور احتساب رہے تو صرف صوبے کا نام بدلنے سے شہری کی زندگی نہیں بدلے گی۔ نیا صوبہ اسی وقت کامیاب ہوگا جب اس کے ساتھ انتظامی ڈھانچے کی جدید کاری، اختیارات کی واضح تقسیم، مضبوط بلدیاتی نظام، ڈیجیٹل حکمرانی اور شفاف مالیاتی نگرانی بھی آئے گی۔ ورنہ ایک بڑا دفتر ختم کرکے چھوٹے چھوٹے دفاتر قائم کرنا اصلاح نہیں، صرف تقسیم ہوگی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عوامی بحث کو جذبات سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ نئے صوبے کسی زبان، نسل یا علاقے کے خلاف منصوبہ نہیں ہونے چاہئیں۔ انہیں شہری سہولت، انتظامی کارکردگی اور ریاستی استعداد کے پیمانے پر پرکھا جانا چاہیے۔ سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نیا صوبہ کس کے نام پر ہوگا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ وہاں کا بچہ کتنی جلدی اچھے اسکول تک پہنچے گا، مریض کو علاج کتنی جلدی ملے گا، کسان کو پانی اور منڈی کی معلومات کتنی بروقت حاصل ہوں گی، صنعت کار کا اجازت نامہ کتنے دن میں جاری ہوگا اور شہری کی شکایت کا جواب کتنے گھنٹوں میں آئے گا۔ پاکستان کی آبادی، شہری پھیلاؤ اور معاشی ضروریات کئی دہائیوں پہلے کے انتظامی نقشے سے کہیں آگے نکل چکی ہیں۔ شہر پھیل چکے ہیں، نئی معاشی راہداریاں بن چکی ہیں، آبادی کے مراکز تبدیل ہوچکے ہیں اور مواصلاتی ٹیکنالوجی نے دنیا کو سکڑ دیا ہے۔ ایسے میں انتظامی نقشے پر سوال اٹھانا غیر فطری نہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنی ضروریات کے مطابق انتظامی اکائیوں میں تبدیلی کی اور اسے حکمرانی بہتر بنانے کا ذریعہ بنایا۔
سندھ ہو یا پنجاب، خیبرپختونخوا ہو یا بلوچستان، کسی بھی نئی اکائی کا قیام اس وقت قابل قبول ہوگا جب اس کے پیچھے واضح انتظامی جواز، معاشی منصوبہ، شفاف حدبندی اور متعلقہ آبادی کی حقیقی رضامندی موجود ہو۔
اصل ضرورت نئے صوبوں سے بھی بڑی ہے: ہمیں ریاستی نظام کو وقت کا پابند بنانا ہوگا۔ آج کا شہری کاغذی کارروائی کے لیے ہفتوں انتظار نہیں کرنا چاہتا۔ کاروبار چند ماہ کی منظوری کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ قدرتی آفت کسی فائل کے دستخط مکمل ہونے تک نہیں رکتی۔ یہی حقیقت نئے صوبوں کی بحث کو ایک نئے معنی دیتی ہے۔ اگر نئی انتظامی اکائیاں بنتی ہیں تو ان کا سب سے بڑا امتحان یہ ہونا چاہیے کہ وہ ریاستی فیصلوں کو تیز، ذمے داری کو واضح اور عوام تک حکومت کی رسائی کو فوری بناتی ہیں یا نہیں۔
نئے صوبوں کا اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں فیصلوں کی رفتار کتنی بدلے گی۔ اگر نئی اکائیاں شہری کے ایک دن، ایک گھنٹے اور ایک موقع کی قدر کرنا سیکھ لیں تو یہ تقسیم نہیں، تجدید ہوگی۔ اور اگر ایسا نہ ہوسکا تو نئے نقشے بھی پرانے مسائل کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے۔