نئے صوبے: بہتر پاکستان کی جستجو

وقاص بیگ

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی خوب صورتی صرف اس کے پہاڑوں، دریاؤں، صحراؤں اور سمندروں میں نہیں بلکہ اس کے مختلف علاقوں میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کی زندگی، ثقافت، زبان، روایات اور مسائل کے تنوع میں بھی پوشیدہ ہے۔ یہی تنوع پاکستان کی طاقت ہے، مگر جب انتظامی ڈھانچہ اس تنوع کی رفتار کے ساتھ قدم نہ ملاسکے تو طاقت، بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ آج نئے صوبوں کی بحث اسی انتظامی حقیقت کا تقاضا بن کر ہمارے سامنے کھڑی ہے۔
نئے صوبوں کے سوال کو اگر محض سیاسی نعرے، انتخابی وعدے یا کسی خاص علاقے کی خواہش سمجھا جائے تو شاید اس بحث کی اصل روح ہم سے اوجھل رہ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ اس سوال سے جڑا ہے کہ ریاست اپنے شہری کے کتنے قریب ہے؟ ایک دور افتادہ گاؤں کا باشندہ جب اپنے بنیادی مسئلے کے حل کے لیے سیکڑوں میل دُور انتظامی مرکز کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو تو یہ صرف فاصلے کا مسئلہ نہیں رہتا، یہ حکمرانی کی تاثیر کا سوال بن جاتا ہے۔
دنیا بھر میں ریاستی نظام کا بنیادی مقصد یہی رہا ہے کہ حکومت عوام تک پہنچے، عوام حکومت تک پہنچنے کے لیے دروازے نہ کھٹکھٹاتے رہیں۔ جس قدر انتظامیہ عوام کے قریب ہوتی ہے، اسی قدر مسائل کی نوعیت کو سمجھنے اور ان کے فوری حل کی گنجائش بڑھتی ہے۔ ہمارے ہاں کئی علاقوں کی آبادی، جغرافیہ اور ضروریات اس قدر وسیع اور مختلف ہوچکی ہیں کہ موجودہ انتظامی بندوبست پر نئے سرے سے غور کرنا ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔
کراچی ایک ایسا شہر ہے جس کی نبض پورے ملک کی معاشی سرگرمیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ اس کے مسائل، ضروریات اور شہری پھیلاؤ اپنی نوعیت میں منفرد ہیں۔ دوسری طرف اندرون سندھ کے دیہی علاقوں کے مسائل پانی، زراعت، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے سے مختلف انداز میں وابستہ ہیں۔ پنجاب کے جنوبی علاقوں کی ضروریات بھی اپنے جغرافیائی اور معاشی حالات کے باعث الگ ہیں جب کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وسیع و دشوار گزار علاقوں کو بھی انتظامی سہولت اور فوری رسائی کی اپنی ضرورت ہے۔ یہ فرق کسی تقسیم کا اعلان نہیں، بلکہ حقیقت کا اعتراف ہے۔
ہم ایک ایسے وقت میں نئے صوبوں کی بات کررہے ہیں جب آبادی کئی گنا بڑھ چکی ہے، شہر پھیل چکے ہیں، معاشی سرگرمیوں کا نقشہ تبدیل ہوچکا ہے اور عوام کی توقعات ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ جس انتظامی نقشے پر کئی دہائیاں پہلے فیصلے کیے گئے تھے، ضروری نہیں کہ وہ آج بھی ہر مسئلے کے لیے موزوں ثابت ہو۔ زمانہ بدلتا ہے تو اداروں، نظام اور انتظامی ترجیحات میں بھی تبدیلی ناگزیر ہوجاتی ہے۔
افسوس کہ نئے صوبوں کی بحث شروع ہوتے ہی اسے زبان، قوم، نسل یا علاقائی تعصب کے چشمے سے دیکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حالانکہ نیا صوبہ کسی زبان کو مٹانے، کسی قوم کو کمزور کرنے یا کسی علاقے کو دوسرے سے جدا کرنے کا نام نہیں۔ صوبہ ایک انتظامی اکائی ہے جب کہ قوم پوری ریاست ہے۔ اگر انتظامی سہولت کے لیے ضلع، تحصیل اور یونین کونسل بن سکتی ہے تو بہتر حکمرانی کے لیے نئے صوبوں پر غور کیوں نہیں ہوسکتا؟
یہاں ایک اور بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا بڑے صوبے ہمیشہ مضبوط ہوتے ہیں؟ ضروری نہیں۔ مضبوطی صرف رقبے یا آبادی کا نام نہیں۔ حقیقی مضبوطی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حکومت شہریوں کے مسائل کو جانتی ہو، وسائل کی منصفانہ تقسیم کرسکے اور ترقی کے ثمرات آخری بستی تک پہنچ سکیں۔
نئے صوبوں کی مخالفت کرنے والوں کو بھی اس بحث کو جذبات کے بجائے دلیل کی بنیاد پر دیکھنا چاہیے۔ اگر کسی مجوزہ صوبے کے قیام سے انتظامی اخراجات، وسائل کی تقسیم، ملازمتوں، اداروں اور آئینی معاملات پر سوالات پیدا ہوتے ہیں تو ان کا جواب بھی آئینی اور پارلیمانی طریقے سے تلاش کیا جاسکتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی بڑا انتظامی فیصلہ مسائل سے خالی نہیں ہوتا، مگر مسائل کے خوف سے اصلاحات کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند نہیں کیا جاسکتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ کسی جماعت کی خواہش یا کسی فرد کے سیاسی مفاد کے تابع نہ ہو۔ اس کے لیے واضح معیار مقرر کیے جائیں۔ آبادی، جغرافیہ، انتظامی سہولت، معاشی استعداد، عوامی رائے اور بنیادی سہولتوں تک رسائی جیسے عوامل کو سامنے رکھ کر سنجیدہ مطالعات کیے جائیں۔ جہاں ضرورت ثابت ہو، وہاں آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق نئے صوبوں کی تشکیل کی جائے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس بحث کو نفرت سے نکال کر امید کی طرف لے جایا جائے۔ نئے صوبے کسی کے حصے کی زمین چھیننے کا منصوبہ نہیں، بلکہ لوگوں کے حصے میں بہتر حکمرانی لانے کی کوشش ہوسکتے ہیں۔ ایک ایسا نظام جہاں بچے کے اسکول کا مسئلہ، مریض کے اسپتال کا مسئلہ، کسان کے پانی کا مسئلہ اور نوجوان کے روزگار کا مسئلہ فیصلہ سازوں تک پہنچنے کے لیے طویل فاصلوں کا محتاج نہ ہو۔
پاکستان کو مضبوط کرنے کے لیے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مرکز اور صوبے ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک ہی ریاست کے دو انتظامی بازو ہیں۔ وفاق اسی وقت مضبوط ہوگا جب اس کی اکائیاں مطمئن، بااختیار اور مؤثر ہوں گی۔ اور اکائیاں اسی وقت مضبوط ہوں گی جب اختیار محض دارالحکومتوں میں نہیں بلکہ عوام کے قریب تک پہنچے گا۔
نئے صوبوں کا سوال دراصل نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے کا سوال نہیں، یہ شہری کی زندگی میں نئی آسانی پیدا کرنے کا سوال ہے۔ یہ اس بچے کا سوال ہے جو بہتر اسکول چاہتا ہے، اس ماں کا سوال ہے جو اپنے قریب اسپتال چاہتی ہے، اس کسان کا سوال ہے جو پانی چاہتا ہے اور اس نوجوان کا سوال ہے جو اپنے ہی علاقے میں روزگار کا موقع چاہتا ہے۔
لہٰذا نئے صوبوں کی بحث کو مزید مؤخر کرنے کے بجائے اسے سنجیدگی، دانش مندی اور آئینی دائرے میں آگے بڑھانا چاہیے۔ پاکستان کو تقسیم سے نہیں، بدانتظامی سے خطرہ ہے۔ اگر نئے صوبے بہتر حکمرانی، منصفانہ وسائل اور عوام کے قریب اختیار کی ضمانت بن سکتے ہیں تو ان پر غور کرنا وقت کی آواز سننے کے مترادف ہوگا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔