مذاکرات کے دروازے کُھلے، ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، صدر ٹرمپ
واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران اس وقت امریکا سے رابطے میں ہے اور معاہدہ کرنا چاہتا ہے، میں ایران کی بات سننے کے لیے تیار ہوں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے کو ریسپانڈینٹس ڈنر کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال معاہدے کے لیے مناسب وقت نہیں آیا، لیکن مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، امریکی کارروائیوں سے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا، ایران کی بحری اور فضائی طاقت قریباً ختم ہوچکی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے سیکڑوں طیارے، کشتیاں، ریڈار اور ڈرون تباہ ہوچکے، ایران کے پاس اب محدود فوجی صلاحیت باقی رہ گئی ہے، اگر ایران کو جوہری ہتھیار ملا تو وہ اسے استعمال کرے گا، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے ہر قیمت پر روکا جائے گا۔
قبل ازیں اوول آفس میں گفتگو کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے، لیکن ڈیل کے لیے تیار نہیں، ابھی تک ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، ایرانی حکام مذاکرات میں اب زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کررہے ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سنجیدہ ہوتے جارہے ہیں، شاید اس کی وجہ بھی سب پر واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ہمارے پاس 2 آپشنز ہیں، ایران پر حملے جاری رکھیں یا پھر کسی معاہدے پر پہنچ جائیں، مشرق وسطیٰ میں صورت حال بدل چکی ہے، ایران کا اثرورسوخ اب کم ہوگیا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ سعودی عرب کو ابراہام اکارڈ کا حصہ ہونا چاہیے، سعودی عرب ابراہیمی معاہدے میں شامل نہ ہوا تو جوہری معاہدہ نہیں کریں گے۔
اس سے پہلے ایک بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ چین اور روس ایران سے متعلق تنازع میں کسی بھی طرح شریک نہیں ہیں، تاہم اگر دونوں ممالک ایران کو ہتھیار فراہم کررہے ہیں تو یہ ان کے اپنے مفاد میں نہیں ہوگا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چینی صدر شی جن پنگ نے ایران کو ہتھیار نہ دینے کی یقین دہانی کروائی ہے اور چینی کمپنیاں بھی ایران کو اسلحہ فروخت نہیں کریں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی ایران کو ہتھیار نہ بیچنے کا وعدہ کیا ہے، روس اور چین اس وقت ایران کو اسلحہ فراہم نہیں کررہے۔