نشے سے نجات کی داستان

وقاص بیگ

رات کے دو بج رہے تھے۔ پورا محلہ سو چکا تھا، مگر ایک گھر میں اب بھی روشنی جل رہی تھی۔ وہ روشنی امید کی نہیں، بے بسی کی تھی۔ دروازے کے ساتھ بیٹھی ماں اپنے ہاتھوں میں تسبیح پکڑے بار بار ایک ہی دعا مانگ رہی تھی۔
"یااللہ! میرا بیٹا مجھے واپس لوٹا دے… وہی بیٹا جو پانچ وقت اذان سے پہلے مسجد پہنچ جاتا تھا۔”
کمرے کے اندر اس کا بیٹا حمزہ زمین پر بے سدھ پڑا تھا۔ سرنج ایک طرف گری ہوئی تھی، آنکھیں سرخ، جسم کانپ رہا تھا اور ہونٹوں پر نشے کی تلخی جم چکی تھی۔ یہ وہی حمزہ تھا جو کبھی قرآن پاک کی تلاوت اتنی خوبصورت آواز میں کرتا تھا کہ محلے کے لوگ رک کر سنتے تھے۔
پھر ایک غلط دوست کی صحبت میں آکر نشے کا عادی ہوگیا۔ گھر کا سامان بکتا گیا۔پہلے موبائل گیا۔ پھر موٹر سائیکل۔ پھر ماں کے زیور۔ پھر باپ کی عمر بھر کی جمع پونجی۔ آخر میں گھر کی عزت بھی محلے والوں کی باتوں سے نیلام ہونے لگی۔
لوگ کہتے تھے… "وہ دیکھو… نشئی کی ماں جارہی ہے۔” یہ جملہ سن کر اس ماں کے قدم نہیں، دل لڑکھڑا جاتا تھا۔ مگر اس نے کبھی دعا کرنا نہیں چھوڑی۔ ہر تہجد میں ایک ہی فریاد ہوتی۔ "یا رب! میرے گناہوں کی سزا مجھے دے دے، میرے بچے کو نہیں۔”
ایک دن نشے کی طلب اتنی بڑھی کہ حمزہ نے ماں سے پیسے مانگے۔ ماں نے دُکھ سے کہا… "بیٹا، گھر میں صرف دو سو روپے ہیں۔ یہ تیرے چھوٹے بھائی کی دوائی کے لیے رکھے ہیں۔”
حمزہ کی آنکھوں میں انسان نہیں، نشہ بول رہا تھا۔ اس نے ماں کو زور سے دھکا دیا۔ بوڑھی ماں دیوار سے جا ٹکرائی۔ اس کے ماتھے سے خون بہنے لگا۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اس نے اپنے زخم پر ہاتھ رکھنے کے بجائے اپنے بیٹے کی طرف دیکھ کر کہا… "بیٹا… کہیں تجھے چوٹ تو نہیں لگی؟” یہ جملہ سن کر بھی حمزہ کا دل نہ پگھلا۔
نشہ انسان سے پہلے اس کی انسانیت مار دیتا ہے۔ چند دن بعد اس کے والد کو دل کا دورہ پڑا۔ ایمبولینس میں جاتے ہوئے باپ نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور کہا… "بیٹا… میری قبر پر آنا تو نشہ کرکے مت آنا… میں قبر میں بھی شرمندہ ہو جاؤں گا۔” یہ ان کے آخری الفاظ تھے۔
باپ دنیا سے چلا گیا۔ مگر حمزہ پھر بھی نہ بدلا۔ وقت گزرتا گیا۔ دوست ایک ایک کرکے غائب ہوگئے۔ جن کے ساتھ راتیں گزرتی تھیں، وہ کسی اور شکار کی تلاش میں نکل گئے۔ نشہ کبھی دوست نہیں ہوتا۔ وہ صرف قبر تک ساتھ جاتا ہے۔
ایک سرد رات حمزہ ایک ویران سڑک پر بے ہوش پڑا تھا۔ بارش برس رہی تھی۔ لوگ گزر رہے تھے۔ کوئی نہیں رکا۔ آخر ایک بوڑھا نمازی مسجد سے واپس آ رہا تھا۔ اس نے اپنے کندھے پر ڈال کر اسے مسجد پہنچایا۔ جب حمزہ کو ہوش آیا تو فجر کی اذان ہو رہی تھی۔
امام صاحب سورۂ زمر کی یہ آیت پڑھ رہے تھے: "اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہ معاف کر دیتا ہے۔”
یہ الفاظ سیدھے اس کے دل میں اتر گئے۔ وہ پہلی بار بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ اسے محسوس ہوا جیسے دس سال کا سارا زہر آنسو بن کر نکل رہا ہو۔
وہ بھاگتا ہوا گھر پہنچا۔ ماں جائے نماز پر بیٹھی سو گئی تھی۔ تسبیح اب بھی اس کے ہاتھ میں تھی۔ حمزہ ماں کے قدموں میں گر گیا۔ "ماں… مجھے معاف کر دو…”
بوڑھی ماں نے آنکھیں کھولیں۔ پہلے بیٹے کا چہرہ دیکھا… پھر اس کی آنکھوں میں بہتے آنسو۔ اور مسکرا کر بولی… "الحمدللہ… آج میری دعا قبول ہوگئی۔”
ماں نے نہ پچھلے زخم گنوائے، نہ دھکے یاد دلائے۔ ماں کے پاس حساب نہیں ہوتا… صرف محبت ہوتی ہے۔
حمزہ نے اسی دن نشہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ آسان نہیں تھا۔ جسم ٹوٹتا تھا۔ ہاتھ کانپتے تھے۔ راتوں کو نیند نہیں آتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے جسم آگ میں جل رہا ہو۔ کئی بار اس کا دل ہارا۔ کئی بار شیطان نے کہا… "صرف ایک بار…” مگر اب ہر بار وہ وضو کرتا۔ دو رکعت نماز پڑھتا۔ سجدے میں روتا۔ اور کہتا… یااللہ! اگر آج بچا لیا تو باقی زندگی تیرا شکر ادا کروں گا۔ ہر سجدہ اسے پہلے سے مضبوط کرتا گیا۔
مہینوں کی جدوجہد کے بعد وہ نشے سے آزاد ہوگیا۔ اس نے ایک بحالی مرکز میں رضاکارانہ خدمت شروع کردی۔ وہ ہر نئے مریض سے صرف ایک بات کہتا۔ "میں تمہیں نصیحت دینے نہیں آیا… میں تمہارا آنے والا کل ہوں، اگر آج تم نے توبہ نہ کی۔”
لوگ اس کی بات سن کر روتے تھے۔ کیونکہ اس کے الفاظ کتابوں سے نہیں… زخموں سے نکلتے تھے۔
کچھ عرصے بعد وہ اپنے والد کی قبر پر گیا۔ قبر کے پاس بیٹھ کر بہت دیر تک روتا رہا۔ پھر آہستہ سے بولا… "ابو… میں آج پہلی بار آپ کے پاس نشے کے بغیر آیا ہوں۔ مجھے یقین ہے آپ شرمندہ نہیں ہوں گے۔”
ہوا کا ایک نرم جھونکا آیا۔ اس نے قرآن پاک کی تلاوت کی۔ اور برسوں بعد اس کے دل کو سکون ملا۔
اگر آپ خود یا آپ کا کوئی عزیز نشے کی گرفت میں ہے، تو یاد رکھیں… دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔ توبہ کا راستہ ابھی کھلا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ منشیات صرف جسم کو نہیں مارتی… یہ ماں کی دعاؤں کو رلاتی ہے، باپ کے خواب دفن کرتی ہے، بچوں سے ان کا مستقبل چھین لیتی ہے اور انسان کو زندہ ہوتے ہوئے بھی قبر جیسی تاریکی میں دھکیل دیتی ہے۔ لیکن ایک سچا سجدہ… ایک سچا آنسو… اور ایک سچی توبہ… ایسی زندگی واپس دے سکتی ہے جس کا انسان خود بھی تصور نہیں کر سکتا۔
آج فیصلہ کیجیے۔ نشے کو نہیں… زندگی کو چنیے۔ کیونکہ اللہ کی رحمت ہمیشہ گناہ سے بڑی ہے اور اس کے دروازے پر لوٹنے والا کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔