بھارت میں جین زی کی بغاوت مودی سرکار کے گلے پڑگئی

نئی دہلی: بھارت میں جین زی کی بغاوت نے مودی سرکار کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے، احتجاج میں شدت کے باعث مودی حکومت کو جاری تیسری مدت کے لیے بڑا چیلنج درپیش ہے۔
بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے، جہاں کاکروچ جنتا پارٹی کے پلیٹ فارم سے ابھرنے والا غصہ حکومت کے لیے ایک نمایاں چیلنج بن کر سامنے آیا ہے، سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور جبری منتقلی نے احتجاجی تحریک کو مزید تقویت دی۔
برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ تحریک وزیراعظم مودی کی تیسری مدت میں اب تک کا سب سے بڑا عوامی دباؤ تصور کی جارہی ہے، جس کی بنیاد امتحانی اسکینڈل، بے روزگاری اور تعلیمی نظام پر عدم اعتماد ہے۔
پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد صورت حال کشیدہ رہی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تصادم میں کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اہلکار اور 60 مظاہرین شامل تھے جب کہ شہر کے حساس علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ معطل کیا گیا۔
مظاہرین کا بنیادی مطالبہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ ہے۔ تحریک کی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور اسے وسیع پیمانے پر جنریشن زی کی آواز قرار دیا جارہا ہے۔
ڈی ڈبلیو کے مطابق یہ تحریک ابتدا میں ایک طنزیہ آن لائن مہم تھی، مگر تیزی سے سڑکوں کی ایک منظم احتجاجی لہر میں تبدیل ہوگئی، جو نوجوانوں میں روزگار کے مواقع کی کمی اور تعلیمی بحران کے خلاف گہرے غصے کی عکاسی کرتی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔