مفت مشوروں کا بادشاہ

اسد احمد

شہر کے ایک محلے میں نثار احمد نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ محلے والے اسے "پروفیسر صاحب” کہتے تھے، حالانکہ اُس نے زندگی میں کبھی کسی کالج کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ وجہ صرف یہ تھی کہ اُسے ہر معاملے میں مشورہ دینے کا شوق تھا۔ کوئی سبزی خریدنے جائے تو فوراً کہتا: "بھائی! آلو ایسے نہیں خریدتے، پہلے دو تین آلو دبا کر دیکھو، پھر خریدنا۔” کوئی موٹر سائیکل اسٹارٹ کرے تو پیچھے سے آواز آتی: "اوئے! چوک کھول، چوک! تم لوگوں کو کچھ نہیں آتا۔” حتیٰ کہ ایک دن محلے کے قصائی کو بھی سمجھانے لگا: "گوشت کاٹنے کا اصل طریقہ میں بتاؤں؟” قصائی نے چھری میز پر ماری اور بولا: "نثار بھائی! آپ بکری بھی کاٹ دیتے ہیں کیا؟” نثار صاحب نے سینہ پُھلا کر کہا: "میں نے یوٹیوب پر تین ویڈیو دیکھی ہیں!” قصائی نے ہاتھ جوڑ لیے۔
محلے میں کوئی بیمار ہوجاتا تو ڈاکٹر سے پہلے نثار صاحب پہنچ جاتے۔ "بخار ہے؟”
"جی۔”
"لیموں کا اچار کھاؤ۔”
"کیوں؟”
"مجھے نہیں معلوم، مگر میرے ماموں کے دوست کے سالے کے پڑوسی نے یہی کیا تھا۔”
ایک دن اُن کے دوست جمیل نے پوچھا: "یار نثار! تم ہر کام میں مشورہ کیوں دیتے ہو؟”
نثار صاحب نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے جواب دیا: "علم بانٹنے سے بڑھتا ہے۔”
جمیل نے آہستہ سے کہا: "تمہارا علم تو اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب حقیقت سے بڑا ہوگیا ہے۔” لیکن نثار صاحب پر کوئی اثر نہ ہوا۔
ایک روز محلے میں اعلان ہوا کہ ایک بڑے تاجر حاجی بشیر اپنی نئی سپر مارکیٹ کھول رہے ہیں۔ افتتاح کے موقع پر کاروباری مشوروں کی نشست بھی رکھی گئی۔ نثار صاحب فوراً تیار ہوگئے۔ انہوں نے نیا سوٹ پہنا، بالوں میں اتنا تیل لگایا کہ دو مکھیاں پھسل کر گر پڑیں اور سیدھے تقریب میں جاپہنچے۔ نشست شروع ہوئی تو لوگ کاروبار کے متعلق سوال پوچھ رہے تھے۔ ایک نوجوان نے پوچھا: "حاجی صاحب! کامیاب کاروبار کا راز کیا ہے؟”
حاجی بشیر بولنے ہی والے تھے کہ نثار صاحب کھڑے ہوگئے۔ "میں بتاتا ہوں!”
سب نے حیرت سے اُن کی طرف دیکھا۔ "کاروبار میں کامیابی کے لیے سب سے پہلے دکان کے دروازے کا رنگ سرخ ہونا چاہیے۔” ہال میں خاموشی چھا گئی۔
حاجی صاحب نے پوچھا: "کیوں؟”
نثار صاحب اعتماد سے بولے: "کیونکہ سرخ رنگ خوش قسمتی لاتا ہے۔”
پچھلی صف سے آواز آئی: "یہ کہاں لکھا ہے؟”
"واٹس ایپ پر آیا تھا!” اب ہال میں قہقہے گونجنے لگے۔
مگر اصل تماشا ابھی باقی تھا۔ چند دن بعد نثار صاحب نے فیصلہ کیا کہ جب وہ اتنے عقل مند ہیں تو اپنی دکان بھی کھولنی چاہیے۔ انہوں نے محلے کے کونے میں ایک چھوٹا سا جنرل اسٹور کھول لیا۔ پہلے ہی دن دکان پر بڑا بورڈ لگایا: "ہر قسم کا سامان دستیاب ہے، ہر قسم کا مشورہ مفت!” لوگ سامان کم اور تماشہ زیادہ دیکھنے آتے تھے۔
ایک گاہک آیا: "چینی ہے؟”
نثار صاحب بولے: "ہے، مگر پہلے میری بات سنو، چینی کم کھایا کرو۔”
گاہک بولا: "مجھے لیکچر نہیں، چینی چاہیے!”
دوسرا آیا: "صابن دینا۔”
"پہلے یہ بتاؤ نہانے کا صحیح طریقہ جانتے ہو؟”
گاہک اسی طرح کی باتوں سے تنگ آکر خالی ہاتھ واپس چلا گیا۔ ایک ہفتے بعد دکان کا حال برا تھا۔ سامان شیلفوں پر پڑا تھا اور گاہک غائب تھے۔ ادھر سامنے والی دکان والا رحمت اللہ خوب کمائی کررہا تھا۔ نثار صاحب کاروبار نہ ہونے پر سخت پریشان تھے۔ آخر کافی سوچ بچار کے بعد اُنہوں نے دُکان دار رحمت اللہ سے اس کی وجہ پوچھی تو وہ مسکرایا اور بولا: "میں گاہک کو وہ دیتا ہوں جو وہ لینے آتا ہے، وہ نہیں جو میں سنانا چاہتا ہوں۔”
یہ جملہ نثار صاحب کے دل میں تیر کی طرح لگا۔ پہلی بار انہیں احساس ہوا کہ ہر وقت بولنا عقل مندی نہیں ہوتی۔ اگلے دن انہوں نے اپنی دکان کا بورڈ بدل دیا۔ پرانا بورڈ اتار کر نیا لگایا: "سامان دستیاب ہے، مشورہ صرف مانگنے پر۔”
محلے والے ہنس ہنس کر دوہرے ہوگئے۔ جمیل آیا اور بولا: "مبارک ہو! آخرکار تم نے سب سے قیمتی مشورہ خود کو دے دیا۔”
نثار صاحب بھی ہنس پڑے۔ چند ماہ بعد اُن کی دکان چل نکلی۔ اب وہ زیادہ سنتے تھے اور کم بولتے تھے۔ کسی نے پوچھا: "نثار بھائی! زندگی کا سب سے بڑا سبق کیا ملا؟”
وہ مسکرائے اور بولے: "لوگوں کو مشوروں کی نہیں، سمجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور سمجھ اُس وقت آتی ہے جب انسان بولنے سے زیادہ سننا شروع کرے۔” یہ کہہ کر انہوں نے چائے کا گھونٹ بھرا اور پہلی بار پورے محلے نے اُنہیں خاموش بیٹھے دیکھا۔ لوگ اتنے حیران ہوئے کہ ایک بچے نے اپنی ماں سے پوچھ لیا: "امی! نثار انکل ٹھیک تو ہیں نا؟”
ماں نے جواب دیا: "ہاں بیٹا، آخرکار ٹھیک ہی تو ہوئے ہیں!”
سبق: ہر شخص کو اپنی رائے دینے کا شوق ہوتا ہے، مگر دانش مندی یہ ہے کہ جہاں ضرورت ہو وہاں بولیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں سنیں۔ اکثر اوقات کامیابی زیادہ جاننے سے نہیں بلکہ دوسروں کو سمجھنے سے ملتی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔