کربلا کا ابدی پیغام

غلام مصطفیٰ

محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے جو تاریخِ اسلام میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ اس مہینے کی سب سے بڑی نسبت واقعۂ کربلا سے ہے، ایک ایسا واقعہ جس نے حق و باطل، انصاف و ظلم اور صبر و استقامت کے درمیان واضح فرق کو ہمیشہ کے لیے نمایاں کردیا۔ آج چودہ سو سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود کربلا کا پیغام دنیا بھر کے انسانوں کے لیے مشعلِ راہ بنا ہوا ہے۔
8 محرم الحرام تک پہنچتے پہنچتے کربلا کے میدان میں حالات انتہائی سنگین ہوچکے تھے۔ حضرت امام حسینؓ اور ان کے جاں نثار ساتھی کئی دنوں سے سخت آزمائشوں کا سامنا کررہے تھے۔ پانی کی فراہمی محدود ہوچکی تھی اور یزیدی لشکر کی جانب سے دباؤ مسلسل بڑھ رہا تھا۔ اس کے باوجود امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کے حوصلے، صبر اور اللہ تعالیٰ پر توکل میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
حضرت امام حسینؓ، نبی کریم ﷺ کے نواسے، حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے فرزند ہیں۔ آپؓ کا شمار اسلام کی عظیم ترین شخصیات میں ہوتا ہے۔ آپؓ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق گزاری اور ہمیشہ حق، انصاف اور سچائی کا ساتھ دیا۔ جب آپؓ کے سامنے ایسے حالات پیدا ہوئے، جن میں اصولوں پر سمجھوتہ کرنا پڑتا، تو آپؓ نے دنیاوی مفادات کے بجائے حق کا راستہ اختیار کیا۔
واقعۂ کربلا دراصل اقتدار کی جنگ نہیں تھی بلکہ اصولوں اور اقدار کے تحفظ کی جدوجہد تھی۔ امام حسینؓ کا مقصد حکومت حاصل کرنا نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کو یہ بتانا تھا کہ ظلم، ناانصافی اور غلط طرزِ عمل کے سامنے خاموش رہنا درست نہیں۔ آپؓ نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ اگر حق کے لیے قربانی دینی پڑے تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
کربلا کے میدان میں امام حسینؓ کے ساتھ اہلِ بیت کے افراد، رشتہ دار اور وفادار ساتھی موجود تھے۔ ان سب نے انتہائی مشکل حالات میں بھی استقامت کا مظاہرہ کیا۔ بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں سمیت ہر فرد نے صبر اور وفاداری کی ایسی مثال قائم کی جو تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ قربانی، وفا اور عزم کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
8 محرم کے دن تک اہلِ بیتؓ اور ان کے ساتھی شدید مشکلات کا سامنا کررہے تھے، مگر ان کے چہروں پر خوف کے آثار نہیں تھے۔ ان کی تمام تر توجہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور حق کے قیام پر مرکوز تھی۔ یہی وہ روحانی قوت تھی جس نے انہیں تاریخ کا عظیم ترین کردار عطا کیا۔ دنیا میں بے شمار جنگیں لڑی گئیں، لیکن کربلا کی یاد آج بھی اس لیے زندہ ہے کہ یہاں مادی فتح سے زیادہ اخلاقی اور روحانی کامیابی حاصل ہوئی۔
واقعۂ کربلا ہمیں صبر کا درس دیتا ہے۔ انسان کی زندگی میں مشکلات، آزمائشیں اور پریشانیاں آتی رہتی ہیں، لیکن ایک مومن کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے۔ امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے شدید ترین حالات میں بھی صبر و استقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
یہ واقعہ ہمیں سچائی کی اہمیت بھی بتاتا ہے۔ بعض اوقات حق بات کہنا یا حق کا ساتھ دینا مشکل ہوجاتا ہے، لیکن کربلا کا پیغام یہی ہے کہ سچائی کا راستہ اگرچہ کٹھن ہو، اس کا انجام عزت اور کامیابی ہے۔ امام حسینؓ نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ اصولوں کی حفاظت کے لیے بڑی سے بڑی قربانی بھی دی جاسکتی ہے۔
کربلا ہمیں اتحاد، اخلاص اور وفاداری کا سبق بھی دیتی ہے۔ امام حسینؓ کے ساتھیوں نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ حالات ان کے حق میں نہیں، اپنے قائد کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ان کی وفاداری اور قربانی آج بھی دنیا کے لیے مثال ہے۔ یہ سبق ہمیں اپنی ذاتی، سماجی اور قومی زندگی میں بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مشکل وقت میں ساتھ نبھانا ہی اصل وفاداری ہے۔
آج کے دور میں جب معاشرہ مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، واقعۂ کربلا کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس کو صرف ایک تاریخی واقعہ سمجھنے کے بجائے اس کے اخلاقی اور عملی اسباق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ انصاف، دیانت داری، صبر، برداشت، سچائی اور انسانیت جیسی اقدار ہی وہ اصول ہیں جن کی خاطر امام حسینؓ نے عظیم قربانی پیش کی۔
محرم الحرام کے یہ ایام ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لینے کا موقع دیتے ہیں۔ اگر ہم کربلا کے پیغام کو سمجھ کر اپنی زندگیوں میں نافذ کریں تو ایک بہتر فرد، بہتر معاشرہ اور بہتر قوم تشکیل دے سکتے ہیں۔ واقعۂ کربلا ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حق کا راستہ کبھی آسان نہیں ہوتا، لیکن یہی راستہ انسان کو عزت، وقار اور کامیابی عطا کرتا ہے۔
ہمیں حضرت امام حسینؓ، اہلِ بیتؓ اور تمام شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں سچائی، انصاف، صبر اور انسانیت کی اقدار کو فروغ دیں گے۔ یہی کربلا کا حقیقی پیغام ہے اور یہی وہ درس ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔