اسمارٹ مرغا۔۔۔

حسان احمد
گاؤں بھولے شاہ میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام برکت علی تھا۔ وہ نہایت نیک، شریف اور دیانت دار آدمی تھا، لیکن ایک کمزوری اس میں ضرور تھی: وہ ہر نئی بات پر فوراً یقین کرلیتا تھا۔ ایک دن شہر سے اس کا بھانجا آیا جو سوشل میڈیا کا بہت شوقین تھا۔ اس نے گاؤں والوں کو حیران کرنے کے لیے ایک عجیب بات مشہور کردی۔ "ماما جان! آج کل اسمارٹ مرغے آ گئے ہیں۔”
برکت نے حیرت سے پوچھا، "اسمارٹ مرغا؟ وہ کیا ہوتا ہے؟”
بھانجا بولا، "ایسا مرغا جو مالک کی بات سمجھتا ہے، چور دیکھ کر شور مچاتا ہے اور گھر کی نگرانی بھی کرتا ہے۔” برکت کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ "سبحان اللہ! پھر تو ایک ایسا مرغا مجھے بھی چاہیے۔”
بھانجے نے دل ہی دل میں ہنسی دبائی اور کہا، "شہر میں بہت مہنگا ملتا ہے، لیکن میں آپ کے لیے انتظام کرسکتا ہوں۔” اگلے دن وہ بازار سے ایک عام سا مرغا خرید لایا اور برکت سے دس گنا زائد قیمت وصول کی۔ "مبارک ہو ماما جان! یہ اسمارٹ مرغا ہے۔”
اب گاؤں میں روز نیا تماشا لگتا۔ صبح برکت مرغے کے سامنے کھڑے ہو کر کہتا: "بیٹا مرغے! اگر ڈاکیہ آئے تو آواز دینا۔” مرغا "ککڑوں کوں” کر دیتا۔ برکت خوش ہوجاتا۔ "دیکھا! میری بات سمجھ گیا۔” ایک دن ڈاکیہ واقعی آیا اور مرغا حسبِ معمول بول اٹھا۔
برکت نے اعلان کردیا: "یہ دیکھو! اسمارٹ مرغے نے اطلاع دے دی۔”
گاؤں والے ہنسی چھپاتے رہے۔ چند دن بعد برکت نے مرغے کو مزید تربیت دینے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے مرغے سے کہا: "اگر کوئی چور آئے تو تین بار بولنا۔” اتفاق سے اسی رات ایک بلی دیوار پھلانگ کر صحن میں آ گئی۔ مرغا ڈر کر مسلسل شور مچانے لگا۔ برکت نیند سے جاگا اور فوراً لاٹھی اٹھا لی۔ "چور! چور!” وہ پورے گاؤں کو جگا بیٹھا۔ جب سب لوگ جمع ہوئے تو پتا چلا کہ چور نہیں بلکہ بلی تھی۔ لوگوں نے کہا: "برکت صاحب! آپ کے اسمارٹ مرغے نے تو بلی کو بھی ڈاکو بنادیا۔”
وقت گزرتا گیا۔ برکت اپنے مرغے پر فخر کرتا رہا۔ حتیٰ کہ اُس نے اسے گھر کا سیکیورٹی انچارج بنادیا۔ دروازے پر ایک تختی بھی لگوادی: "خبردار! یہاں اسمارٹ مرغا موجود ہے۔”
گاؤں کے بچے روز اس تختی کو پڑھ کر قہقہے لگاتے۔ ایک دن گاؤں میں ایک ہوشیار تاجر آیا۔ اس نے تختی دیکھی اور پوچھا: "برکت صاحب! یہ اسمارٹ مرغا کیا کرتا ہے؟” برکت نے فخر سے پوری داستان سنادی۔ تاجر مسکرایا اور بولا: "کیا میں اس کی آزمائش کر سکتا ہوں؟” "ضرور!”
تاجر نے جیب سے مکئی کے چند دانے نکالے۔ مرغا فوراً اس کے پیچھے دوڑ پڑا۔ تاجر دانے پھینکتا گیا اور مرغا گاؤں سے باہر نکل گیا۔ پھر تاجر نے پوچھا: "برکت صاحب! اگر یہ اتنا سمجھ دار ہے تو اجنبی کے پیچھے کیوں بھاگ گیا؟” برکت خاموش ہوگیا۔ گاؤں والے بھی مسکرانے لگے۔ مگر اصل مزا ابھی باقی تھا۔ کچھ دن بعد بھانجا دوبارہ گاؤں آیا۔
برکت نے بڑے فخر سے کہا: "بیٹا! تمہارا اسمارٹ مرغا بڑا کمال کا ہے۔” بھانجا ہنسی روک نہ سکا۔ آخر اس نے سچ بتادیا۔ "ماما جان، یہ کوئی اسمارٹ مرغا نہیں۔ عام سا مرغا ہے۔” برکت کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
"کیا مطلب؟”
"مطلب یہ کہ آپ کو بیوقوف بنایا گیا تھا۔”
یہ سن کر پہلے تو برکت ناراض ہوا، پھر خود ہی ہنسنے لگا۔ "یعنی میں اتنے دن ایک عام مرغے کو کمپیوٹر سمجھتا رہا؟” اگلے دن برکت نے مسجد میں اعلان کیا: "بھائیو! آج میں ایک اہم بات بتانا چاہتا ہوں۔” سب لوگ جمع ہوگئے۔ برکت کہنے لگا: "میں نے بغیر تحقیق کے ایک بات پر یقین کیا اور نقصان اٹھایا۔ اگرچہ نقصان صرف پیسوں کا تھا، لیکن سبق بہت بڑا ملا۔” پھر اُس نے اپنا مرغا اٹھایا اور کہا: "یہ مرغا بے قصور ہے۔ قصور میری سادگی کا تھا۔” پورا مجمع ہنس پڑا۔
اس دن کے بعد برکت بدل گیا۔ اب جب بھی کوئی نئی خبر آتی تو فوراً پوچھتا: "ثبوت کیا ہے؟”
اگر کوئی کہتا: "میں نے فیس بک پر پڑھا ہے۔” تو برکت جواب دیتا: "فیس بک پر تو میرا مرغا بھی پروفیسر بن سکتا ہے۔” گاؤں والے یہ سن کر قہقہے لگاتے۔
چند سال بعد گاؤں میں ایک اور افواہ پھیلی کہ ایک گدھا انگریزی بولتا ہے۔ لوگ برکت کے پاس آئے اور بولے: "چلیں دیکھنے چلتے ہیں۔” برکت مسکرایا اور بولا: "پہلے اسمارٹ مرغے کا زخم بھرنے دو، پھر انگریزی گدھے کی باری آئے گی۔” یہ سن کر وہاں موجود سب لوگ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہوگئے۔
اس دنیا میں بہت سی باتیں، خبریں اور دعوے ایسے ہوتے ہیں جو سننے میں حیرت انگیز لگتے ہیں، لیکن ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ بغیر تحقیق کے کسی بات پر یقین کرنا انسان کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔ عقل مند وہی ہے جو ہر خبر اور دعوے کو پرکھے، ثبوت دیکھے اور پھر فیصلہ کرے۔ "اندھا یقین اکثر انسان کو مذاق بنادیتا ہے جب کہ تحقیق اسے دانش مند بناتی ہے۔”