بہتر انسان بننے کا سفر

غلام مصطفیٰ

اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی دونوں کو سنوارتا ہے۔ اس دین کا بنیادی مقصد صرف عبادات کی ادائیگی نہیں بلکہ انسان کے کردار، اخلاق اور سوچ کو اس حد تک بہتر بنانا ہے کہ وہ معاشرے کے لیے فائدہ مند اور امن کا ذریعہ بن جائے۔ اصلاحِ نفس یعنی اپنے اندر کی خرابیوں کو پہچان کر انہیں درست کرنا، اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا اور اسے عقل، شعور اور اختیار عطا کیا۔ اس اختیار کے ساتھ ذمے داری بھی آتی ہے۔ انسان کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ اپنے نفس کی خواہشات پر قابو پاکر صحیح اور غلط میں فرق کرے اور صحیح راستے کا انتخاب کرے۔
قرآن مجید میں بار بار انسان کو غور و فکر، تدبر اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ کامیاب وہی ہے جو اپنے نفس کو پاک کرے اور ناکام وہ ہے جو اسے بگاڑ دے۔ نفس انسان کے اندر موجود وہ قوت ہے جو اسے خواہشات، جذبات اور عادات کی طرف مائل کرتی ہے۔ اگر نفس کو قابو میں رکھا جائے تو یہ انسان کو بلندیوں تک لے جاتا ہے، لیکن اگر اس کی لگام چھوڑ دی جائے تو یہی نفس انسان کو گمراہی اور نقصان کی طرف لے جاتا ہے۔
اصلاحِ نفس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی عادات، سوچ، رویے اور اعمال کا جائزہ لے اور انہیں اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالے۔ اسلام میں اخلاق کو بہت بلند مقام حاصل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "میں حسنِ اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہوں”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کا اصل مقصد اچھے اخلاق کی تشکیل ہے۔ سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا، عاجزی اختیار کرنا اور غصے پر قابو رکھنا، یہ سب اصلاحِ نفس کے بنیادی پہلو ہیں۔
اگر معاشرے کے افراد اچھے اخلاق کے حامل ہوں تو وہ معاشرہ خود بخود امن، محبت اور ترقی کی مثال بن جاتا ہے۔ اصلاحِ نفس صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ یہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ ہم اپنے گھر، دفتر، کاروبار اور سماجی تعلقات میں بھی اپنے کردار کو بہتر بناسکتے ہیں۔ مثلاً: جھوٹ سے بچنا، غیبت اور بدگمانی سے پرہیز، دوسروں کی مدد کرنا، والدین اور بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت۔ یہ چھوٹے چھوٹے اعمال انسان کی شخصیت کو بہت بڑا بنا دیتے ہیں۔
اصلاح کا ایک اہم پہلو وقت کی قدر اور خود احتسابی ہے۔ جو انسان اپنے دن کا جائزہ لیتا ہے، اپنی غلطیوں پر غور کرتا ہے اور ان کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے، وہ ہمیشہ ترقی کی طرف بڑھتا ہے۔ ہر رات سونے سے پہلے یہ سوچنا کہ آج میں نے کیا اچھا کیا اور کیا غلط کیا، انسان کو بہتر بنانے میں بہت مدد دیتا ہے۔ اصلاحِ نفس میں دو بہت اہم خوبیاں صبر اور شکر ہیں۔ صبر انسان کو مشکل حالات میں مضبوط رکھتا ہے جب کہ شکر اسے آسانیوں میں عاجز بناتا ہے۔ جو شخص صبر اور شکر کی عادت اپنالیتا ہے وہ ذہنی سکون اور روحانی اطمینان حاصل کرلیتا ہے۔
انفرادی اصلاح کے ساتھ معاشرتی اصلاح بھی ضروری ہے۔ ایک اچھا معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں، انصاف کو فروغ دیتے ہیں اور برائیوں سے بچتے ہیں۔ اگر ہر فرد اپنی اصلاح کی کوشش کرے تو پورا معاشرہ خود بخود بہتر ہوجاتا ہے۔ اصلاحِ نفس کا سب سے اہم ذریعہ اللہ سے تعلق مضبوط کرنا ہے۔ دعا، ذکر، نماز اور تلاوت انسان کے دل کو نرم کرتی ہیں اور اسے صحیح راستے پر قائم رکھتی ہیں۔ انسان جتنا اللہ کے قریب ہوتا ہے، اُتنا ہی وہ اپنے نفس پر قابو پاتا ہے۔
اصلاحِ نفس ایک مسلسل سفر ہے، یہ ایک دن یا ایک لمحے کا کام نہیں۔ یہ وہ عمل ہے جو انسان کو بہتر سے بہترین بناتا ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں سچائی، اخلاص، اخلاق اور عبادت کو شامل کرلیں تو نہ صرف ہماری دنیا بہتر ہوگی بلکہ آخرت بھی سنور جائے گی۔ اصل کامیابی یہی ہے کہ انسان اپنے نفس کو پہچان لے، اسے درست راستے پر لگادے اور ایک بہتر انسان بن کر معاشرے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی اصلاح کرنے، اچھے اخلاق اپنانے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔