اندھیروں سے اجالوں تک

اسد احمد
شہر کے ایک پرانے محلے میں شہزاد نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ اگر کوئی اس کے ماضی کو جانتا تو شاید اس کے قریب کھڑے ہونے سے بھی گریز کرتا۔ جھوٹ، دھوکا، سود، رشوت، لوگوں کا حق مارنا، کمزوروں کا استحصال کرنا اور اپنی خواہشات کے لیے دوسروں کی زندگیوں کو برباد کرنا اس کے لیے معمولی بات تھی۔ اس کا دل اتنا سخت تھا کہ کسی کی آہ، کسی یتیم کے آنسو یا کسی مجبور کی فریاد اس پر کوئی اثر نہیں کرتی تھی۔ شہزاد کے پاس دولت تھی، بڑی گاڑیاں تھیں، عالی شان گھر تھا اور معاشرے میں ایک ظاہری مقام بھی تھا۔ لوگ اس سے ڈرتے تھے، مگر عزت نہیں کرتے تھے۔ وہ جب رات کو سوتا تو بظاہر آرام سے سوتا، مگر اس کے اندر ایک عجیب بے چینی جنم لے چکی تھی۔ دولت بڑھتی جارہی تھی، لیکن سکون کم ہوتا جارہا تھا۔
ایک رات وہ اپنی گاڑی میں شہر کے ایک سنسان علاقے سے گزر رہا تھا۔ شدید بارش ہورہی تھی۔ سڑک کے کنارے ایک بوڑھا شخص بھیگ رہا تھا۔ شہزاد نے نظرانداز کرنا چاہا، مگر نہ جانے کیوں اس کی نگاہ بار بار اس بوڑھے پر جارہی تھی۔ اس نے گاڑی روکی اور پہلی بار زندگی میں کسی اجنبی سے ہمدردی کا احساس کرتے ہوئے بوڑھے شخص کو گھر تک چھوڑنے کی پیشکش کی۔ بزرگ نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے صرف ایک جملہ کہا: "بیٹا، انسان جب تک دوسروں کے لیے نہیں جیتا، تب تک حقیقت میں زندہ نہیں ہوتا۔”
یہ الفاظ شہزاد کے دل میں کہیں اتر گئے۔ اگلے دن شہزاد معمول کے مطابق اپنے کاروبار میں مصروف تھا کہ اچانک اسے خبر ملی کہ اس کا ایک پرانا دوست دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا ہے۔ وہ دوست عمر میں اس سے بھی کم تھا۔ جنازے کے موقع پر شہزاد پہلی بار موت کو اپنے اتنا قریب محسوس کررہا تھا۔ اس رات وہ سو نہ سکا۔ اسے اپنے کیے ہوئے گناہ یاد آنے لگے۔ وہ لوگ یاد آنے لگے جنہیں اس نے دھوکا دیا تھا۔ وہ مزدور یاد آنے لگے جن کی محنت کا پورا معاوضہ اس نے نہیں دیا تھا۔ وہ بیوائیں یاد آنے لگیں جن کے حقوق اس نے دبا لیے تھے۔ رات کے آخری پہر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ شاید کئی سال بعد وہ رویا تھا۔ اس نے ہاتھ اٹھائے اور کہا: "اے اللہ! میں بہت بڑا گناہ گار ہوں۔ میری زندگی گناہوں سے بھری ہوئی ہے۔ اگر تُو مجھے معاف نہ کرے تو میرا کوئی سہارا نہیں۔ مجھے ایک موقع دے دے۔” وہ رات اس کی زندگی کا موڑ ثابت ہوئی۔
اگلے دن اس نے سب سے پہلے ان لوگوں کی فہرست بنائی جن کے حقوق اس پر باقی تھے۔ کئی لوگ تو اسے دیکھ کر حیران رہ گئے جب وہ خود ان کے دروازے پر جا کر معافی مانگنے لگا۔ کسی نے اسے معاف کردیا، کسی نے سخت باتیں سنائیں، کسی نے دروازہ بند کردیا۔ مگر شہزاد صبر کرتا رہا۔ اسے محسوس ہورہا تھا کہ برسوں سے اس کے دل پر جمی ہوئی سیاہی آہستہ آہستہ دُھل رہی ہے۔ چند ماہ بعد اس نے اپنی زندگی کا مقصد بدل دیا۔ اب دولت کمانا اس کا ہدف نہیں تھا، بلکہ لوگوں کے کام آنا اس کی خواہش بن چکی تھی۔
اس نے اپنے کاروبار کا ایک بڑا حصہ غریب بچوں کی تعلیم کے لیے وقف کردیا۔ یتیم بچوں کی فیسیں ادا کرنے لگا۔ بیواؤں کے لیے ماہانہ وظیفہ مقرر کیا۔ بیماروں کے علاج کے لیے ایک فنڈ قائم کیا۔ شروع میں لوگوں کو یقین نہیں آتا تھا۔ وہ کہتے تھے: "یہ وہی شہزاد ہے؟” مگر وقت گزرنے کے ساتھ سب کو یقین ہوگیا کہ شہزاد واقعی بدل چکا ہے۔
ایک دن وہ ایک اسپتال گیا جہاں ایک غریب مزدور اپنی بیمار بیٹی کے علاج کے لیے پریشان بیٹھا تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ علاج کے لیے بڑی رقم درکار ہے۔ مزدور رو رہا تھا۔ شہزاد نے خاموشی سے تمام اخراجات ادا کردیے۔ چند ماہ بعد وہی بچی صحت یاب ہوکر اسکول جانے لگی۔ جب اس کے والد نے شہزاد کا شکریہ ادا کرنا چاہا تو اُس نے مسکرا کر کہا: "میرا شکریہ ادا نہ کرو، میرے لیے دعا کرو کہ اللہ مجھے سیدھے راستے پر قائم رکھے۔”
آہستہ آہستہ اس کی زندگی خدمتِ خلق کے گرد گھومنے لگی۔ وہ رات کو شہر کے مختلف علاقوں میں جاتا، ضرورت مند خاندانوں کی مدد کرتا، بے روزگار نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کے لیے قرضِ حسنہ دیتا اور لوگوں کی مشکلات حل کرنے کی کوشش کرتا۔ کئی مرتبہ اسے دھوکا بھی ملا۔ کئی لوگوں نے اس کی نیکی کا غلط فائدہ بھی اٹھایا۔ لیکن اب اس کا دل بدل چکا تھا۔ وہ کہتا: "میں لوگوں کے رویوں کا نہیں، اللہ کی رضا کا محتاج ہوں۔”
سال گزرتے گئے۔ ایک زمانہ وہ تھا جب لوگ اس کا نام نفرت سے لیتے تھے اور ایک زمانہ یہ آیا کہ لوگ اس کے لیے دعائیں کرتے تھے۔ لیکن شہزاد کو اپنی تعریف پسند نہیں تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا ماضی کتنا تاریک تھا۔ وہ اکثر نوجوانوں سے کہا کرتا: "کبھی کسی گناہ گار کو حقیر مت سمجھو۔ ہوسکتا ہے کل وہ اللہ کا محبوب بندہ بن جائے اور کبھی اپنی نیکیوں پر غرور مت کرو، کیونکہ انسان کا انجام ہی اصل کامیابی ہے۔”
ایک سرد رات شہزاد ایک یتیم خانے سے واپس آ رہا تھا۔ اس نے وہاں بچوں کے لیے کھانے اور گرم کپڑوں کا انتظام کیا تھا۔ گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ اسے اپنی پرانی زندگی یاد آگئی۔ وہی شہزاد جو کبھی دوسروں کے آنسوؤں پر ہنستا تھا، آج دوسروں کے درد پر رو پڑتا تھا۔ وہی شخص جو کبھی دولت جمع کرنے میں مصروف تھا، آج لوگوں کی زندگی آسان بنانے کو اپنی کامیابی سمجھتا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے دل ہی دل میں کہا: "اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے ہدایت دی۔ اگر تو نہ چاہتا تو میں آج بھی گناہوں کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہوتا۔”
شہزاد کی کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ ہدایت کا دروازہ آخری سانس تک کھلا رہتا ہے۔ انسان کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو، اگر سچے دل سے توبہ کرلے اور اپنی زندگی کو نیکی، خدمت اور محبت کے راستے پر ڈال دے تو وہ نہ صرف خود بدل سکتا ہے بلکہ سیکڑوں زندگیوں میں روشنی بھی بانٹ سکتا ہے۔ اور شاید یہی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ انسان اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے جینا سیکھ لے۔