کسانوں کے حق میں بڑا قدم

عبدالعزیز بلوچ

ملکی معیشت کا زراعت کا شعبہ بہت بڑا حصہ ڈالتا ہے، پاکستان کی معیشت کی بنیاد زراعت پر استوار ہے۔ ملک کی ایک بڑی آبادی کا روزگار، غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کا پہیہ اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں کے دوران زرعی شعبہ متعدد چیلنجز کا شکار رہا ہے، جن میں بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، کھاد اور زرعی ادویہ کی قیمتوں میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات، پانی کی قلت اور جدید زرعی ٹیکنالوجی تک محدود رسائی شامل ہیں۔ ایسے حالات میں وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں زرخیز اسکیم کے تحت چھوٹے کاشت کاروں کے لیے 300 ارب روپے کے بلاسود قرضوں کا اعلان ایک مثبت اور حوصلہ افزا اقدام قرار دیا جاسکتا ہے۔ بجٹ کے مطابق ساڑھے سات لاکھ چھوٹے کسانوں کو بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ پاکستان میں زرعی زمین کے مالکان کی اکثریت چھوٹے کاشت کاروں پر مشتمل ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو محدود وسائل کے باوجود قومی غذائی ضروریات پوری کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، مگر سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے اکثر بہتر بیج، جدید مشینری اور معیاری زرعی سہولتوں سے محروم رہتا ہے۔ بلاسود قرضوں کی فراہمی نہ صرف ان کی مالی مشکلات کم کرے گی بلکہ انہیں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے درکار وسائل بھی مہیا کرے گی۔ حکومت کی جانب سے زرعی مشینری پر 5 ارب روپے کی سبسڈی مختص کرنا بھی قابلِ تحسین اقدام ہے۔ جدید دور میں زرعی ترقی کا انحصار مشینی کاشت کاری پر ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے جدید زرعی آلات اور ٹیکنالوجی کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان میں اب بھی بہت سے کسان روایتی طریقہ کار استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث پیداواری صلاحیت محدود رہتی ہے۔ اگر مشینری پر دی جانے والی سبسڈی شفاف انداز میں مستحق کسانوں تک پہنچتی ہے تو اس کے مثبت نتائج پورے زرعی شعبے پر مرتب ہوں گے۔ اسی طرح 12 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والے کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے سبسڈی دینے کا اعلان بھی خوش آئند ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں زرعی لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ چھوٹے کسان اکثر قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور بعض اوقات کاشت کاری ترک کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایسی مالی معاونت ان کے لیے ایک سہارا ثابت ہوسکتی ہے اور انہیں زرعی سرگرمیاں جاری رکھنے کا حوصلہ دے سکتی ہے۔
کھاد کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے کھاد ساز فیکٹریوں کو 20 ارب روپے کا پیکیج دینا بھی ایک اہم فیصلہ ہے۔ کھاد زرعی پیداوار کا بنیادی جزو ہے اور اس کی قیمت میں اضافہ براہِ راست کسانوں کے اخراجات بڑھادیتا ہے۔ اگر یہ پیکیج واقعی کھاد کی قیمتوں میں استحکام لانے اور کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف زرعی پیداوار بلکہ عام صارفین تک بھی پہنچیں گے کیونکہ زرعی اجناس کی قیمتوں میں استحکام مہنگائی پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی آج پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ سیلاب، خشک سالی، غیر متوقع بارشیں اور شدید گرمی کی لہریں زرعی شعبے کو مسلسل متاثر کررہی ہیں۔ ایسے میں عالمی بینک کے تعاون سے 20 کروڑ ڈالر مختص کرنا ایک دوراندیش فیصلہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ فنڈز جدید آب پاشی نظام، موسمیاتی لحاظ سے موزوں بیجوں کی تیاری، کسانوں کی تربیت اور زرعی تحقیق پر خرچ کیے جائیں، تاکہ زرعی شعبہ موسمیاتی خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکے۔ بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلز کے لیے 3 ارب روپے سبسڈی بھی اہمیت کی حامل ہے۔ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جہاں زراعت اور باغبانی روزگار کا اہم ذریعہ ہیں۔ تاہم پانی کی قلت یہاں کے کسانوں کے لیے ایک مستقل مسئلہ ہے۔ اگر یہ سبسڈی درست منصوبہ بندی کے تحت استعمال کی جاتی ہے تو اس سے صوبے کی زرعی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ ممکن ہے۔
وزیراعظم یوتھ بزنس اور زرعی پروگرام کے لیے 20 ارب روپے مختص کرنا بھی خوش آئند پیش رفت ہے۔ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ اگر نوجوانوں کو زراعت اور زرعی کاروبار کی جانب راغب کیا جائے تو نہ صرف بے روزگاری میں کمی آئے گی، بلکہ زرعی شعبے میں جدت اور جدید کاروباری رجحانات بھی فروغ پائیں گے۔ تاہم ان تمام مثبت اقدامات کے باوجود اصل کامیابی کا دارومدار عمل درآمد پر ہوگا۔ ماضی میں بھی زرعی شعبے کے لیے متعدد منصوبوں اور پیکیجز کا اعلان کیا گیا، لیکن بدانتظامی، بیوروکریسی، سیاسی مداخلت اور شفافیت کے فقدان کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہ کیے جاسکے۔ اس بار حکومت کو یقینی بنانا ہوگا کہ قرضے اور سبسڈیز حقیقی مستحق کسانوں تک پہنچیں۔ اگر یہ وسائل بااثر افراد یا غیر متعلقہ عناصر کی نذر ہوگئے تو اس سے نہ صرف قومی خزانے کا نقصان ہوگا، بلکہ کسانوں کا اعتماد بھی مجروح ہوگا۔ پاکستان کی معاشی ترقی اور غذائی خود کفالت کا راستہ مضبوط زرعی شعبے سے ہو کر گزرتا ہے۔ موجودہ بجٹ میں زراعت کے لیے کیے گئے اعلانات امید کی ایک نئی کرن ہیں۔ اگر ان منصوبوں پر دیانت داری، شفافیت اور مؤثر نگرانی کے ساتھ عمل کیا جائے تو یہ اقدامات نہ صرف کسانوں کی زندگیوں میں بہتری لاسکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت کو بھی نئی توانائی فراہم کرسکتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ زراعت کو صرف ایک شعبہ نہیں بلکہ قومی ترقی کی بنیاد سمجھتے ہوئے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ پاکستان ایک مضبوط، خودکفیل اور خوشحال زرعی معیشت کی جانب گامزن ہو سکے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔