دل کی نرمی

اسد احمد

شہر کے ایک پرانے محلے میں ایک شخص رہتا تھا جس کا نام سلیم تھا۔ لوگ اُسے کامیاب آدمی کہتے تھے۔ اس کی اپنی دکان تھی، اچھا گھر تھا، بینک بیلنس تھا اور معاشرے میں عزت بھی تھی۔ لیکن اگر کوئی اس کے دل کے اندر جھانکتا تو اسے معلوم ہوتا کہ سلیم کے پاس سب کچھ تھا، سوائے سکون کے۔ سلیم کا ایک اصول تھا: "دنیا مطلب کی ہے، اس لیے صرف اپنے بارے میں سوچو۔” وہ کسی کی مدد نہیں کرتا تھا۔ اس کے دروازے سے ہر ضرورت مند خالی ہاتھ لوٹ جاتا۔ وہ صدقے کو فضول خرچی اور ہمدردی کو کمزوری سمجھتا تھا۔ لوگ اس کے بارے میں کہتے تھے کہ اس کے ہاتھ میں دولت ہے مگر دل میں تنگی۔

ایک سرد رات تھی۔ بارش مسلسل برس رہی تھی۔ سلیم دکان بند کرکے گھر واپس آرہا تھا کہ راستے میں ایک بوڑھا شخص اسے نظر آیا۔ اس کے کپڑے بھیگ چکے تھے اور وہ سردی سے کانپ رہا تھا۔ "بیٹا، اللہ کے نام پر کچھ کھانے کو دے دو، دو دن سے بھوکا ہوں۔” سلیم نے ایک نظر اسے دیکھا اور آگے بڑھ گیا۔

بوڑھے نے پھر آواز دی۔ "بیٹا، بھوک بہت ظالم ہوتی ہے۔” سلیم رکا، پلٹا اور بیزاری سے بولا: "اگر تم نے زندگی میں محنت کی ہوتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔” یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ اس رات وہ نرم بستر پر لیٹا، لیکن نہ جانے کیوں اسے نیند نہ آئی۔ بار بار بوڑھے کی آواز اس کے کانوں میں گونجتی رہی: "بھوک بہت ظالم ہوتی ہے…” مگر چند دن بعد وہ بات بھی اس کے ذہن سے نکل گئی۔

وقت گزرتا گیا۔ ایک دن سلیم کی بیوی اچانک بیمار پڑ گئی۔ شہر کے بڑے اسپتالوں میں علاج کروایا گیا، لاکھوں روپے خرچ ہوئے مگر بیماری بڑھتی گئی۔ سلیم نے پہلی بار زندگی میں بے بسی محسوس کی۔ دولت اس کے سامنے پڑی تھی مگر وہ اپنی محبوب ترین ہستی کو صحت نہیں خرید کر دے سکتا تھا۔ ایک رات اسپتال کے کوریڈور میں بیٹھا وہ رو رہا تھا۔ اس کے برابر میں ایک مزدور بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑوں سے غربت ٹپک رہی تھی، مگر چہرے پر عجیب سکون تھا۔

سلیم نے پوچھا: "تم اتنے مطمئن کیسے ہو؟” مزدور مسکرایا۔ "کیونکہ میں نے کبھی کسی بھوکے کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔” یہ سن کر سلیم خاموش ہوگیا۔ کچھ دن بعد اس کی بیوی دنیا سے رخصت ہوگئی۔

گھر وہی تھا، کمرے وہی تھے، سامان وہی تھا، مگر زندگی بدل گئی تھی۔ دیواریں سنسان لگتی تھیں اور خاموشی چیخوں کی طرح محسوس ہوتی تھی۔ ایک رات وہ اپنی مرحومہ بیوی کی الماری کھول کر بیٹھ گیا۔ کپڑوں کے درمیان ایک پرانی ڈائری رکھی تھی۔ اس نے ڈائری کھولی۔ ایک صفحے پر لکھا تھا: "سلیم بہت اچھا انسان ہے، مگر اسے ابھی یہ معلوم نہیں کہ انسان کی اصل دولت اس کے بینک میں نہیں، اس کے دل میں ہوتی ہے۔ مجھے امید ہے ایک دن وہ یہ راز جان لے گا۔” یہ الفاظ پڑھ کر سلیم پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔

اس رات برسوں بعد اس نے سجدے میں سر رکھا۔ اور پہلی بار اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے دعا کی۔ اگلی صبح اس نے ایک فیصلہ کیا۔ اس نے اپنی دکان کے باہر ایک تختی لگوائی: "اگر آپ بھوکے ہیں تو یہاں سے مفت کھانا لے سکتے ہیں۔” شروع میں لوگ حیران ہوئے۔ پھر آہستہ آہستہ ضرورت مند آنے لگے۔ ایک دن ایک بوڑھا شخص اندر داخل ہوا۔ سلیم نے اسے دیکھا تو اس کے ہاتھ کانپ گئے۔ یہ وہی بوڑھا تھا جسے اس نے بارش والی رات دھتکار دیا تھا۔ بوڑھا کمزور ہوچکا تھا۔ سلیم دوڑ کر اس کے پاس گیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ "بابا، مجھے معاف کردیں۔”

بوڑھے نے حیرت سے پوچھا: "کس بات کی معافی؟” سلیم روتے ہوئے بولا: "میں نے ایک بھوکے انسان کو بھوک کا درس دیا تھا۔” بوڑھے نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا: "بیٹا، انسان غلطی کرتا ہے۔ لیکن ہر کسی کو اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوتا۔” سلیم نے اس دن بوڑھے کو کھانا کھلایا۔

مگر حقیقت یہ تھی کہ اس دن کھانا بوڑھا نہیں کھا رہا تھا، سلیم کی روح کھا رہی تھی۔ اس کے بعد اس کی زندگی بدل گئی۔ وہ یتیموں کی مدد کرنے لگا، بیماروں کے علاج میں حصہ لینے لگا، غریب بچیوں کی شادیوں میں خاموشی سے تعاون کرنے لگا۔ کسی اخبار میں اس کا نام نہیں آیا، کسی ٹی وی چینل نے اس کے انٹرویو نہیں کیے، مگر اس کے دل میں وہ سکون پیدا ہوگیا جو کروڑوں روپے بھی نہ خرید سکے۔

سلیم سوچتا کہ "میں نے ساری زندگی دولت جمع کی، مگر جب قبر کا خیال آیا تو سمجھ آیا کہ میرے ساتھ بینک بیلنس نہیں جائے گا۔ صرف وہ دعائیں جائیں گی جو کسی مجبور کے دل سے نکلی ہوں گی۔”

سلیم کو حقیقی سکون مل گیا تھا، جو اتنا پیسہ ہونے کے باوجود اسے کبھی نہ مل سکا تھا۔ وہ انسانیت کا اعلیٰ سبق سیکھ چکا تھا اور اب انسانیت کی خدمت اُس کی اولین ترجیح بن چکی تھی۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔