جینا اسی کا نام ہے

حسان احمد

رات بہت خاموش تھی، مگر اس خاموشی میں ایک عورت کی ٹوٹی ہوئی سانسوں کی آواز گونج رہی تھی۔ وہ ایک پرانی سی چھت والے گھر کے کونے میں بیٹھی تھی، جہاں دیواروں پر نمی کے داغ تھے اور فرش پر وقت کی تھکن بکھری ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانی سی تصویر تھی۔ ایک مرد اور ایک بچہ۔ دونوں مسکرا رہے تھے۔ اور وہ عورت، اب مسکرانا بھول چکی تھی۔
اس کا نام مریم تھا۔ مریم کبھی ایسی نہیں تھی۔ کبھی اس کی آنکھوں میں خواب تھے، ہاتھوں میں مہندی تھی اور دل میں یقین تھا کہ زندگی اس پر مہربان رہے گی مگر زندگی نے اس سے مہربانی کا مفہوم ہی چھین لیا تھا۔ شادی کے پہلے سال ہی سب کچھ بدل گیا۔ جس شخص کو وہ اپنا مقدر سمجھ بیٹھی تھی، وہی اس کا سب سے بڑا امتحان بن گیا۔ محبت رفتہ رفتہ خاموشی میں بدل گئی اور خاموشی تشدد میں۔ الفاظ زخم بننے لگے اور زخم عادت۔
مریم نے بہت برداشت کیا، کیونکہ وہ سمجھتی تھی کہ عورت کا صبر ہی اس کی پہچان ہے مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ بعض اوقات صبر انسان کو بچاتا نہیں، توڑ دیتا ہے۔ ایک دن وہ ہوا جس نے اس کی پوری دنیا ختم کردی۔
اس کا چھوٹا بیٹا بخار میں تپ رہا تھا۔ رات کے دو بجے وہ دوا کے لیے منتیں کرتی رہی، مگر جواب میں صرف طنز ملا۔ اس رات اس کے بیٹے کی سانسیں اس کی گود میں ٹوٹ گئیں اور مریم کی روح اس کے ساتھ ہی مر گئی۔ مگر جسم زندہ رہا۔
اس دن کے بعد مریم نے نہ ہنسنے کا وعدہ کیا، نہ رونے کا۔ وہ صرف سانس لیتی تھی، جیسے کوئی مشین چل رہی ہو۔ شوہر نے اسے چھوڑ دیا، گھر والوں نے “قسمت” کہہ کر دلاسہ دیا اور دنیا نے اسے کہانی سمجھ کر بھلا دیا۔
مگر وہ کہانی ختم نہیں ہوئی تھی۔ مریم اب اکیلی تھی، ایک چھوٹے سے کرائے کے کمرے میں، جہاں کھڑکی سے آنے والی روشنی بھی ادھوری تھی۔ وہ ہر صبح اٹھتی، کسی کام کی تلاش میں نکلتی اور ہر شام خالی ہاتھ واپس آتی۔
لوگ اس کی آنکھوں کو دیکھ کر نظریں چرا لیتے تھے۔ کوئی اسے ترس دیتا، کوئی مشورہ اور کوئی خاموشی۔ مگر کسی نے اس کے اندر ٹوٹتے طوفان کو نہیں دیکھا۔ ایک دن اسے ایک سلائی کے کارخانے میں کام مل گیا۔ وہیں اس کی ملاقات ایک بوڑھی عورت سے ہوئی، جس نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھا اور کہا: “تمہارے اندر ابھی بھی زندگی باقی ہے، تم نے بس اسے دفن کر دیا ہے۔”
مریم نے پہلی بار برسوں بعد مسکرانے کی کوشش کی، مگر ہونٹ ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ رات کو وہ اسی جملے کے بارے میں سوچتی رہی۔ کیا واقعی اس کے اندر کچھ باقی تھا؟
اگلے دن اس نے خود کو تھوڑا سا سنوارا، بال باندھے اور وقت پر کام پر پہنچی۔ ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر وہ سلائی کرتی رہی۔ دھاگہ کبھی الجھ جاتا، کبھی ٹوٹ جاتا، مگر اُس نے ہار نہیں مانی۔ دن گزرتے گئے۔
مریم نے پہلی بار محسوس کیا کہ درد کے باوجود بھی جینا ممکن ہے۔ وہ ہر کپڑے کے ساتھ اپنا ایک ٹکڑا جوڑ رہی تھی، جیسے اپنی بکھری ہوئی ذات کو سمیٹ رہی ہو۔ ایک دن کارخانے میں ایک نیا سپروائزر آیا۔ وہ سخت مزاج تھا مگر انصاف پسند۔ اس نے مریم کے کام کو دیکھا اور حیران رہ گیا۔ اس کی سلائی میں صرف ہنر نہیں تھا، بلکہ ایک درد تھا جو ہر ٹانکے میں چھپا ہوا تھا۔
اس نے مریم سے کہا: “تم یہاں نہیں رک سکتیں، تم اس سے کہیں آگے جا سکتی ہو۔” مریم نے پہلی بار کسی کے منہ سے “تم آگے جا سکتی ہو” سنا تھا۔ یہ جملہ اس کے اندر کہیں گہرائی میں گرا اور ایک چھوٹی سی روشنی جلا گیا۔ مگر ماضی آسانی سے نہیں چھوڑتا۔
رات کو پھر وہی یادیں آتیں۔ بچے کی ہنسی، شوہر کی چیخیں اور اس رات کی خاموشی۔ وہ تکیے میں منہ چھپا کر روتی، مگر صبح پھر اٹھتی۔ کیونکہ اب اسے سمجھ آ گیا تھا کہ رونا کمزوری نہیں، مگر رک جانا موت ہے۔ مہینوں بعد مریم نے اپنا چھوٹا سا سلائی کا کام شروع کیا۔ شروع میں صرف چند کپڑے، پھر محلے کی خواتین اور پھر پورا علاقہ۔ وہ عورت جو کبھی خود ٹوٹ چکی تھی، اب دوسروں کے لیے سہارا بننے لگی۔
ایک دن وہی بوڑھی عورت دوبارہ ملی۔ اس نے مریم کو دیکھا اور مسکرا دی۔
“میں نے کہا تھا نا، تمہارے اندر زندگی باقی ہے۔” مریم کی آنکھوں میں پہلی بار سکون تھا۔ درد اب بھی تھا، مگر وہ درد اب اسے توڑ نہیں رہا تھا، بلکہ مضبوط بنا رہا تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ نہ وہاں سے کوئی جواب آیا، نہ کوئی معجزہ۔ مگر اندر ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے کوئی کہہ رہا ہو کہ ٹوٹ کر بھی انسان ختم نہیں ہوتا۔ وہ رات مریم نے ایک فیصلہ کیا۔ وہ اپنی کہانی کو شرمندگی نہیں بنائے گی، بلکہ طاقت بنائے گی۔ وہ ان عورتوں کے لیے جینا چاہتی تھی جو ابھی خاموشی میں مر رہی تھیں۔
وقت گزرتا گیا۔ مریم اب صرف ایک عورت نہیں تھی۔ وہ ایک مثال بن چکی تھی۔ اس کا چھوٹا سا سلائی مرکز اب کئی عورتوں کو روزگار دیتا تھا اور ہر عورت کے چہرے پر ایک نئی امید تھی۔ مگر مریم کے دل میں آج بھی ایک خالی جگہ تھی، اس کے بچے کی یاد۔ وہ اسے کبھی نہیں بھولی، مگر اب وہ اس درد کے ساتھ جینا سیکھ چکی تھی۔ ایک دن وہی پرانا گھر دوبارہ دیکھنے گئی۔ دیواریں ویسی ہی تھیں، مگر مریم بدل چکی تھی۔
اس نے آہستہ سے کہا: “میں ٹوٹ گئی تھی، مگر ختم نہیں ہوئی تھی۔” اور اس لمحے اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ زندگی کبھی کسی کو مکمل نہیں توڑتی… وہ صرف انسان کو دوبارہ بنانے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ رات پھر خاموش تھی، مگر اب اس خاموشی میں ٹوٹنے کی نہیں، جینے کی آواز تھی۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔