آخری خط

حسان احمد

سردیوں کی ایک خاموش شام تھی۔ ہوا میں ایک عجیب سی اداسی گھلی ہوئی تھی۔ لاہور کے ایک پرانے سے محلے کی تنگ گلیوں میں واقع ایک چھوٹے سے گھر کے اندر، 70 سالہ بوڑھا شخص، حامد، کھڑکی کے پاس بیٹھا باہر گرتے ہوئے پتوں کو دیکھ رہا تھا۔
اس کی آنکھوں میں وہ نمی تھی جو برسوں سے خشک نہیں ہوئی تھی۔ ہاتھ میں ایک پرانا سا لفافہ تھا، جس کے کنارے وقت کے ساتھ زرد ہو چکے تھے۔ یہ وہی خط تھا جو اسے آج سے 45 سال پہلے ملا تھا… مگر وہ اسے آج تک کھول نہیں سکا تھا۔
حامد ایک محنت کش آدمی تھا۔ جوانی میں وہ دن رات کام کرتا رہا تاکہ اپنی بیوی اور بیٹے کو بہتر زندگی دے سکے۔ اس کی بیوی، زینب، بہت نرم دل اور صابر عورت تھی۔ ان کی دنیا ان کا ایک ہی بیٹا، علی تھا۔ زندگی سادہ تھی مگر خوشیوں سے بھری ہوئی، لیکن ایک دن سب کچھ بدل گیا۔
علی، جو اَب صرف 10 سال کا تھا، ایک بیماری میں مبتلا ہوگیا۔ ڈاکٹرز نے بتایا کہ اس کا علاج صرف بیرون ملک ممکن ہے اور اس کے لیے بہت پیسے درکار تھے۔حامد نے دن رات ایک کردیا۔ اپنی جمع پونجی، زیور، حتیٰ کہ گھر تک بیچنے کی نوبت آگئی۔ مگر وقت کم تھا اور پیسہ ناکافی۔ ایک دن زینب نے اسے ایک خط دیا اور کہا:
“اگر میں نہ رہی، تو یہ خط علی کو دے دینا اور اگر میں رہ گئی، تو شاید کبھی اس کی ضرورت نہ پڑے…”
حامد نے پوچھا، “یہ کیا باتیں کررہی ہو؟ تمہیں کچھ نہیں ہوگا!”
زینب مسکرائی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے وہ سب کچھ پہلے ہی جانتی ہو۔ کچھ دن بعد زینب کی حالت بگڑ گئی اور ایک رات وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔
حامد ٹوٹ گیا تھا۔ مگر اس نے خود کو سنبھالا، کیونکہ اب اس کی پوری دنیا علی تھا۔
اس نے بیٹے کا علاج کروایا اور علی بچ گیا۔ مگر زینب کا دیا ہوا خط اس نے کبھی نہ کھولا۔
سال گزرتے گئے۔ علی بڑا ہوگیا، پڑھ لکھ کر ایک کامیاب انسان بن گیا۔ اس نے بیرون ملک جا کر اپنی زندگی بنا لی۔
حامد اب اکیلا رہ گیا تھا۔ گھر بڑا تھا مگر ویران۔ دیواروں پر لگی تصویریں اسے ہر وقت ماضی کی یاد دلاتی تھیں۔
آج اچانک اس کی نظر اس خط پر پڑی۔ اس نے اسے تھام لیا۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔ وہ دیر تک اسے دیکھتا رہا، جیسے اپنے اندر کی ہمت جمع کررہا ہو۔ پھر آہستہ آہستہ لفافہ کھولا۔ اندر سے ایک سادہ سا کاغذ نکلا۔ لکھا تھا:
“حامد… اگر تم یہ خط پڑھ رہے ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ میں اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ میں جانتی تھی میری بیماری کا انجام کیا ہوگا۔ میں نے جان بوجھ کر تمہیں نہیں بتایا کہ میرے علاج کے لیے جو پیسے تھے، وہ دراصل میری زندگی بچا سکتے تھے… مگر اگر وہ تم پر خرچ نہ کرتے، تو شاید تم بھی نہ بچ پاتے۔ میں نے تمہیں ایک انتخاب دیا تھا… مگر میں نے اپنا انتخاب پہلے ہی کر لیا تھا۔ میں نے اپنی زندگی قربان کر دی، تاکہ ہمارا بیٹا جی سکے۔ مجھے افسوس نہیں… کیونکہ ایک ماں کے لیے اس کے بچے کی سانسوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔ بس ایک بات یاد رکھنا… محبت صرف ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ دوسروں کو جینے کا موقع دینے کا نام ہے۔
خط ختم ہوچکا تھا۔ مگر حامد کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ آنکھوں سے آنسو اس طرح بہہ رہے تھے جیسے برسوں کا درد ایک ساتھ باہر آ گیا ہو۔ وہ زمین پر بیٹھ گیا۔ سینے پر ہاتھ رکھا اور پہلی بار زور سے رو دیا۔
“زینب… تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا… میں تمہیں بچاسکتا تھا…” مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔ وہ خاموشی جو صرف قبرستانوں میں ہوتی ہے۔ اگلے دن حامد نے زینب کی قبر پر جا کر کہا:
“تم نے بہت بڑا بوجھ اکیلے اٹھایا… اور میں سمجھتا رہا کہ میں سب کچھ کر رہا ہوں…”
وقت گزر گیا۔ حامد بوڑھا ہو چکا تھا، مگر اب اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ وہ اکثر اپنے پوتوں کو کہتا: “زندگی میں سب کچھ حاصل نہیں کیا جاتا… کچھ چیزیں قربان بھی کی جاتی ہیں اور وہی قربانیاں اصل محبت ہوتی ہیں۔” اور ہر بار وہ آسمان کی طرف دیکھ کر آہستہ سے کہتا: “زینب… تم نے محبت کو امر کر دیا…”

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔