سچ یا تلخی

عبدالعزیز بلوچ
ایک چھوٹے سے شہر میں احمر نام کا نوجوان رہتا تھا۔ وہ ذہین، حاضر جواب اور خوداعتماد تھا مگر اس کی سب سے بڑی کمزوری اس کی زبان تھی۔ وہ بے حد بدزبان اور بددماغ تھا۔ اسے کسی کے جذبات، عزت یا عمر کا کوئی خیال نہیں تھا۔ جو دل میں آتا، بغیر سوچے سمجھے کہہ دیتا۔ اس کے الفاظ اکثر دوسروں کے دلوں کو چیر دیتے مگر اسے اس کا احساس تک نہ ہوتا۔
احمر کو لگتا تھا کہ وہ سچ بولتا ہے اور سچ کڑوا ہی ہوتا ہے، اس لیے وہ خود کو درست سمجھتا تھا۔ وہ اکثر کہتا، “میں منافق نہیں ہوں، جو دل میں ہے وہی زبان پر لاتا ہوں۔” لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ سچ نہیں بلکہ تلخی اور بدتمیزی پھیلارہا تھا۔ اس کی عادت کی وجہ سے اس کے دوست کم ہوتے جارہے تھے۔ لوگ اس سے بات کرنے سے کتراتے، محفلوں میں اسے نظرانداز کیا جانے لگا اور آہستہ آہستہ وہ تنہا ہوتا جارہا تھا مگر وہ اس سب کو اپنی “اصلیت” سمجھ کر فخر محسوس کرتا تھا۔
محلے میں ایک معزز اور دانا بزرگ استاد آتے تھے، جو نوجوانوں کو اخلاقیات، برداشت اور گفتگو کا سلیقہ سکھاتے تھے۔ محلے کے لوگ ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ احمر نے جب ان کے بارے میں سنا تو وہ حسبِ عادت طنزیہ انداز میں بولا، “یہ بھی کوئی نیا فلسفہ لے آتے ہیں، انہیں دیکھنا پڑے گا، کیا سکھاتے ہیں!”
اگلے دن وہ استاد کے پاس پہنچا اور بغیر کسی تمیز کے ان سے الجھ پڑا مگر استاد نے غصہ کرنے کے بجائے مسکرا کر اسے غور سے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں نرمی تھی، جیسے وہ احمر کے اندر چھپی کسی اچھی چیز کو پہچان رہے ہوں۔ انہوں نے احمر کو کچھ نہیں کہا، بلکہ نرمی سے بولے، “بیٹا، تم کل دوبارہ آنا، میں تمہیں ایک دلچسپ کام دینا چاہتا ہوں۔” احمر کو یہ بات عجیب لگی، مگر اس نے سوچا کہ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
اگلے دن وہ دوبارہ آیا تو استاد نے اسے ایک لکڑی کا تختہ اور ایک تھیلا کیلوں سے بھرا ہوا دیا۔ استاد نے کہا، “جب بھی تم کسی کو برا کہو یا کسی کا دل دُکھاؤ، اس تختے میں ایک کیل ٹھونک دینا۔” احمر ہنسا اور بولا، “یہ تو بہت آسان ہے!” اسے لگا کہ یہ کوئی کھیل ہے۔
پہلے ہی دن اس نے درجنوں کیلیں ٹھونک دیں۔ کیونکہ وہ دن بھر لوگوں سے الجھتا رہا، کبھی گھر والوں سے، کبھی دوستوں سے اور کبھی راستے میں ملنے والوں سے۔ شام تک تختہ کیلوں سے بھرچکا تھا۔
چند دنوں بعد اس نے محسوس کیا کہ وہ بہت زیادہ کیلیں ٹھونک رہا ہے۔ اسے حیرت ہوئی کہ وہ روزانہ کتنی بار لوگوں کو تکلیف دیتا ہے۔ پہلی بار اس کے دل میں ایک ہلکی سی خلش پیدا ہوئی، مگر اس نے اسے نظرانداز کر دیا۔
کچھ دنوں بعد استاد نے اسے بلایا اور کہا، “اب ایک نیا کام کرو۔ جب بھی تم کسی سے اچھے انداز میں بات کرو یا کسی کا دل خوش کرو، ایک کیل نکال دینا۔”
یہ کام احمر کے لیے مشکل تھا۔ شروع میں وہ خود کو روک نہیں پاتا تھا، مگر آہستہ آہستہ اس نے کوشش شروع کی۔ جب بھی اسے غصہ آتا، وہ رک کر سوچنے لگتا۔ اس نے اپنی زبان پر قابو پانے کی کوشش کی۔ وہ نرم لہجے میں بات کرنے لگا اور کبھی کبھی خاموش رہنا بھی سیکھ گیا۔
دن گزرتے گئے اور کیلیں آہستہ آہستہ نکلتی گئیں۔ ایک دن ایسا آیا کہ اس نے ساری کیلیں نکال دیں۔ وہ خوشی سے استاد کے پاس گیا اور بولا، “دیکھیں، میں کامیاب ہو گیا!”
استاد نے مسکرا کر تختے کی طرف دیکھا اور کہا، “ہاں، تم نے کیلیں تو نکال دی ہیں، مگر یہ دیکھو…” انہوں نے تختے کے سوراخوں کی طرف اشارہ کیا، “یہ نشان اب بھی باقی ہیں۔”
احمر نے غور سے دیکھا۔ تختہ جگہ جگہ سے خراب ہوچکا تھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی۔
استاد نے نرمی سے کہا، “بیٹا، یہی حال انسان کے دل کا ہوتا ہے۔ جب تم کسی کو سخت الفاظ کہتے ہو، تو تم اس کے دل میں ایک نشان چھوڑ دیتے ہو۔ چاہے بعد میں معافی مانگ لو یا اپنا رویہ بدل لو، وہ نشان ہمیشہ باقی رہتا ہے۔”
یہ الفاظ احمر کے دل میں تیر کی طرح لگے۔ اسے پہلی بار اپنی غلطیوں کا شدت سے احساس ہوا۔ اسے یاد آنے لگا کہ اس نے کتنے لوگوں کو تکلیف دی تھی، اپنے والدین، دوستوں، اساتذہ اور حتیٰ کہ اجنبیوں کو بھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ خاموش ہوگیا۔ اس دن اس کے اندر کچھ بدل گیا۔
احمر نے اسی لمحے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زبان کو اپنی طاقت نہیں بلکہ اپنی ذمے داری سمجھے گا۔ اس نے لوگوں سے معافی مانگنا شروع کی۔ شروع میں لوگوں نے اسے سنجیدگی سے نہیں لیا، کیونکہ وہ اسے پہلے جیسا ہی سمجھتے تھے، مگر وقت کے ساتھ اس کی سچائی ظاہر ہونے لگی۔
وہ اب سوچ سمجھ کر بات کرتا، نرم لہجہ اختیار کرتا اور دوسروں کی عزت کا خصوصی خیال رکھتا۔ جہاں پہلے وہ ہر بات پر طنز کرتا تھا، اب وہاں حوصلہ افزائی کرتا۔ جہاں پہلے وہ لوگوں کو نیچا دکھاتا تھا، اب وہاں ان کا ہاتھ تھامتا۔
آہستہ آہستہ لوگ بھی اس کے قریب آنے لگے۔ اس کے دوست بڑھنے لگے، گھر میں سکون آ گیا اور محلے میں بھی اس کی عزت ہونے لگی۔ بدتمیزی جس کا حوالہ تھی، وہی احمر اب اچھے اخلاق کی مثال بن گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ احمر نے ایک بات گہرائی سے سمجھ لی تھی، الفاظ صرف آواز نہیں ہوتے، یہ کسی کے دل کو بنا بھی سکتے اور توڑ بھی سکتے ہیں۔ اس نے سیکھ لیا کہ اصل طاقت سخت بولنے میں نہیں، بلکہ نرمی سے اپنا مؤقف بیان کرنے میں ہے۔
یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زبان ایک بہت بڑی نعمت ہے، لیکن اگر اسے سوچ سمجھ کر استعمال نہ کیا جائے تو یہ سب سے بڑا نقصان بھی بن سکتی ہے۔ ہمیں ہمیشہ اپنے الفاظ کا انتخاب احتیاط سے کرنا چاہیے، کیونکہ ایک بار کہی گئی بات واپس نہیں آتی۔ احمر کی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ اگر انسان سچے دل سے اپنی غلطیوں کو تسلیم کرلے اور خود کو بدلنے کی کوشش کرے، تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بہتر بناسکتا بلکہ دوسروں کے دلوں میں بھی جگہ بناسکتا ہے۔