دبئی پر جنگ کے اثرات: ایشیا کے امیر خاندانوں کا اپنی سرمایہ کاری پر دوبارہ غور
دبئی: ایشیا کے کئی امیر ترین خاندان دبئی میں اپنی سرمایہ کاری اور قیام کے بارے میں دوبارہ غور کررہے ہیں، کیونکہ ایران کی جنگ نے اس شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس نے حالیہ برسوں میں خطے بھر سے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔
بلومبرگ نیوز کے مطابق کئی مشیران نے بتایا کہ انہیں اپنے کلائنٹس کے فون موصول ہورہے ہیں جو اپنی منتقلی کے منصوبے مؤخر کرنے کے خواہاں ہیں، جبکہ کچھ لوگ اس علاقے میں اپنی سرمایہ کاری کو کم کرنے کے طریقے تلاش کررہے ہیں، جو کبھی محفوظ اور مستحکم سمجھا جاتا تھا۔ جو لوگ پہلے ہی دبئی میں ہیں، وہ ہنگامی حالات کے بڑھنے کی صورت میں متبادل منصوبے تیار کررہے ہیں۔
ہانگ کانگ کی ملٹی فیملی آفس Annum Capital کے سی ای او نک ژیاؤ کے مطابق، ایشیا کے سرمایہ کار جو سرمایہ کاری کے مواقع اور ٹیکس فوائد کے لیے مشرقِ وسطیٰ گئے تھے، اب اپنے فیصلوں پر دوبارہ غور کررہے ہیں اور ممکنہ طور پر اپنا پیسہ ہانگ کانگ یا سنگاپور واپس منتقل کررہے ہیں۔
دبئی کا ایک ابھرتا ہوا مالی اور دولت کا مرکز بننے کا سفر اب ایک امتحان سے گزر رہا ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ جنگ قریب سے اثر ڈال رہی ہے۔ لڑائی دوسرے ہفتے میں شدت اختیار کر چکی ہے اور سعودی عرب سے لے کر بحرین تک کے ممالک دوبارہ حملوں کی زد میں ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایک ڈرون حملے نے دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب آگ لگا دی تھی اور ہزاروں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، حالانکہ ایئرلائنز انہیں دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔