ہزار دلوں کی روشنی

وقاص بیگ
رمضان کا مہینہ شہر میں اپنی روشنیوں اور خوشبو کے ساتھ آیا تھا۔ عصر کے بعد ہی بازار کی رونق بڑھ جاتی، لوگ کھانے پینے کے سامان خریدنے میں مصروف اور بچے خوشی سے بھاگ دوڑ کررہے تھے۔ لیکن شہر کے ایک گوشے میں، گلیوں کی تاریکی میں، کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کی زندگی کی روشنی بس امید کی کرن پر ٹکی ہوئی تھی۔
ایسے میں ایک نوجوان عمر، ہر سال رمضان کے موقع پر اپنی زندگی کا سب سے قیمتی کام کرتا۔ اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس رمضان میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی مدد کرے گا۔ اس کا خیال تھا کہ سحری سے افطار تک کی یہ ساعتیں اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرنا سب سے بہتر عبادت ہے۔
ایک دن شام کے وقت، جب افطار کی تیاری ہورہی تھی، عمر نے دیکھا کہ ایک عورت، ہاتھ میں چھوٹا سا بچہ لیے، گلی میں بھٹک رہی ہے۔ اس کے چہرے پر تھکن اور پریشانی واضح تھی۔ عمر نے فوراً اپنا ہاتھ بڑھایا۔ وہ عورت فریال تھی، جس کے شوہر نے اسے چھوڑ دیا تھا اور وہ کسی رشتہ دار کے پاس بھی نہیں جا سکتی تھی۔ عمر نے نہ صرف اسے کھانا دیا بلکہ اسے اپنے گھر لے آیا، عمر کی والدہ بھی نیک خاتون تھیں، انہوں نے کھلے دل سے فریال کو اپنے گھر میں خوش آمدید کیا اور فریال کو الگ کمرہ دینے کے ساتھ بچے کے لیے صاف بسترا اور کپڑے فراہم کیے۔
فریال دن رات گھر میں عمر کی والدہ کے ساتھ تھی، جو اس کا بہت خیال رکھتی تھیں، بچے کی ہنسی نے گھر کی فضا کو مزید خوش گوار بنادیا۔ عمر کی والدہ نے فریال کو بیٹی بنالیا اور عمر بھی بہن اور بھانجے کے ملنے پر خوشی سے نہال ہوگیا۔
عمر کو کسی نے محلے کے بزرگ کی حالت سے متعلق آگاہ کیا، اُسے بتایا گیا کہ حاجی صالح، روزانہ افطار میں صرف پانی اور روٹی کھارہے ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی سے مدد نہیں مانگی تھی، لیکن عمر نے دل میں سوچا کہ یہ رمضان کا موقع ہے کہ وہ حاجی صالح کی خدمت کرے۔ اس نے ان کے لیے افطار کا انتظام کیا۔ جب حاجی صالح نے یہ دیکھا، ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ انہوں نے دعا دی، “اللہ تمہیں دنیا و آخرت میں خوش رکھے۔”
یہی وہ لمحہ تھا جب عمر کو احساس ہوا کہ رمضان کی اصل برکت لوگوں کے دلوں میں روشنی ڈالنا ہے۔ وہ جان گیا کہ انسان کا اصل سکون اسی میں ہے کہ وہ دوسروں کی مشکلات میں ہاتھ بٹائے۔
ایک دن، عمر نے سڑک کنارے ایک چھوٹے لڑکے کو روتے ہوئے پایا۔ لڑکا سجاد تھا، جو والدین کی موت کے بعد یتیم خانہ میں رہتا تھا۔ اس کی حالت دیکھ کر عمر کا دل منہدم ہوگیا۔ اس نے اسے اپنے گھر لے جانے کا فیصلہ کیا۔ سجاد نے عمر کی آنکھوں میں محبت دیکھی اور پہلی بار اسے لگنے لگا کہ زندگی کتنی خوبصورت ہو سکتی ہے۔
رمضان کے آخری عشرے میں عمر نے فریال، حاجی صالح اور سجاد کے ساتھ مل کر شہر کے دیگر محتاجوں کے لیے بھی افطار کی محفل رکھی۔ وہ کھانا، پانی اور کپڑے سب کے لیے رکھتا اور ہر شخص کے دل میں امید کی روشنی بھرتا۔
رمضان کا آخری دن آیا۔ عمر نے دیکھا کہ جو لوگ اس کی مدد سے روشنی کے لمحے حاصل کررہے تھے، وہ خوشی خوشی افطار کررہے ہیں۔ فریال کے چہرے پر سکون تھا، سجاد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور حاجی صالح کے دل میں شکر کی کیفیت۔ عمر کو لگا کہ اس کی زندگی کا اصل مقصد یہی ہے، دوسروں کی مدد کرنا، چاہے چھوٹا سا عمل ہی کیوں نہ ہو۔
اور پھر رمضان ختم ہوا، لیکن عمر جان گیا کہ اللہ کی محبت اور رحمت انسان کے دل میں اس وقت آتی ہے جب وہ اپنی خوشیوں کو دوسروں کے لیے قربان کرتا ہے۔ اس نے دل میں وعدہ کیا کہ ہر رمضان اسی جذبے کے ساتھ گزارے گا اور زندگی میں ہر موقع پر دوسروں کے لیے روشنی کا باعث بنے گا۔
یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رمضان صرف روزہ اور نماز کا مہینہ نہیں، بلکہ یہ انسانیت، ہمدردی اور خدمت کا ماہ ہے۔ ہر چھوٹا سا عمل، چاہے کسی کو کھانا دینا ہو، کسی کی مدد کرنا ہو، یا صرف دعا کرنا ہو، اللہ کے نزدیک بڑا اجر رکھتا ہے۔
اصل سکون دلوں میں روشنی ڈالنے میں ہے۔ جیسے عمر نے اپنے اعمال سے فریال، سجاد اور حاجی صالح کے دلوں میں امید جگائی، ویسے ہی ہر مسلمان اپنے چھوٹے چھوٹے اعمال سے دنیا کو بہتر اور دلوں کو خوش گوار بناسکتا ہے۔ یہی اصل پیغام ہے۔ دوسروں کی خدمت ہی عظیم عبادت کہلاتی ہے۔