ایمان داری کا صلہ

بلال ظفر سولنگی

رمضان المبارک کی مبارک ساعتوں سے ہر کوئی رحمتیں اور برکتیں سمیٹ رہا تھا۔ شہر کی گلیوں میں افطار کی خوشبوئیں پھیلی ہوئی تھیں مگر ایک تنگ گلی کے آخری کچے مکان میں مسائل کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ یہ سلیم کا گھر تھا، جو 55 سال کا ایک سرکاری کلرک تھا۔ پوری عمر ایمان داری سے نوکری کی۔ لوگ مذاق اُڑاتے تھے،
“بھائی! اس دور میں بھی اتنے سچے رہو گے تو کیا ملے گا؟” وہ مسکرا دیتا، “سکون ملتا ہے۔” مگر اس بار اُس کی زندگی کڑے امتحان سے گزر رہی تھی۔ بیوی کینسر کے آخری اسٹیج پر تھی۔ دو بیٹیاں شادی کے قابل۔ جیب میں بس اتنے پیسے کہ دوا یا راشن… دونوں ایک ساتھ نہیں آسکتے تھے۔
اُسی دوران دفتر میں ایک ٹھیکیدار اُس کے پاس آیا۔ فائل اُس کے ہاتھ میں تھی۔
“سلیم صاحب، بس ایک دستخط کردیں۔ تاریخ تھوڑی پیچھے کرنی ہے۔ آپ سمجھ دار آدمی ہیں… پانچ لاکھ ابھی لے لیجیے۔” پانچ لاکھ۔ سلیم کے ذہن میں بیوی کی کمزور آنکھیں گھوم گئیں۔ بیٹیوں کی خاموشی یاد آئی جو ہر رات سجدے میں دیر تک روتی تھیں۔ افطار سے کچھ دیر پہلے کا وقت تھا۔ سلیم کا روزہ تھا۔ اُسے جسم کمزور، دل بھاری محسوس ہورہا تھا۔ ٹھیکیدار نے لفافہ میز پر رکھا۔ “رمضان ہے، نیکی کا مہینہ ہے… آپ بھی ہمارا بھلا کردیں، ہم آپ کا کر دیں گے۔” سلیم کے ہاتھ کانپے۔ اُس نے لفافہ اٹھایا… چند لمحے آنکھیں بند کیں… پھر آہستہ سے واپس اُس کی طرف بڑھا دیا۔
“رمضان ہے… اسی لیے نہیں کرسکتا۔ اگر آج خود کو ان پیسوں کے لیے بیچ دیا تو کل سحری میں اللہ کو کیا منہ دکھاؤں گا؟” ٹھیکیدار ہنستے ہوئے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ چلا گیا۔
اُس دن سلیم خالی ہاتھ گھر آیا۔ افطار میں صرف پانی اور دو خشک روٹیاں تھیں۔ بیوی نے کمزور آواز میں پوچھا، “آج بہت خاموش ہو… سب ٹھیک ہے؟”
سلیم نے مسکرا کر کہا، “ہاں، سب ٹھیک ہے۔ اللہ کافی ہے۔” رات کو جب سب سو گئے، وہ صحن میں تنہا بیٹھ کر رو پڑا۔
“یا اللہ… میں نے تیرا خوف رکھا ہے، اب تو میرا رکھ لے…” اگلی صبح دفتر پہنچا تو ماحول بدلا ہوا تھا۔ اینٹی کرپشن ٹیم آئی ہوئی تھی۔ وہی فائل پکڑی گئی۔ وہی ٹھیکیدار گرفتار ہوا۔ کئی نام سامنے آئے۔ سلیم کو بلایا گیا۔ دل دھڑکنے لگا۔ مگر افسر نے کھڑے ہو کر اُس سے ہاتھ ملایا۔ “آپ کے بارے میں ہمیں شکایتیں ملتی تھیں کہ آپ کام روکتے ہیں… آج پتا چلا آپ کیوں روکتے تھے۔ ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے۔”
چند ہفتوں بعد سلیم کو ترقی ملی۔ پچھلے بقایا جات بھی ملے۔ سرکاری مراعات میں اضافہ ہوگیا۔ اب وہ اس عہدے پر پہنچ چکا تھا کہ سرکاری طور پر اُس کی بیوی کا مفت علاج ہوسکے۔
وقت کا پہیہ چلتا رہا، سلیم کی ایمان داری اور دیانت داری کے سبب اب اُس کے حالات اچھے ہوگئے۔ بیوی کامیاب علاج کے بعد صحت یاب ہوگئی اور بیٹیوں کے رشتے بھی اللہ کے فضل و کرم سے اچھے خاندانوں میں طے ہوگئے۔ سلیم کے لیے وہ لمحہ سب سے خوش گوار تھا جب اُس کی بیٹی کی شادی تھی۔ رخصتی کے وقت اُس نے باپ کا ہاتھ تھام کر کہا، “ابو… آپ نے ہمیں بھاری بھر کم جہیز نہیں دیا، نہ بڑی دولت… مگر آپ نے ہمیں سر اٹھا کر جینا سکھایا ہے۔”
سلیم کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ کچھ آنسو بھوک کے ہوتے ہیں… کچھ بیماری کے… مگر سب سے قیمتی آنسو وہ ہوتے ہیں جو حلال رزق اور صاف ضمیر کی حفاظت میں بہتے ہیں۔
ایمانداری وقتی طور پر رُلاتی ہے… مگر آخرکار عزت کے ساتھ جینا سکھا دیتی ہے۔ اور شاید… اللہ کے ہاں یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔