پنجاب میں سیلاب سے 30 افراد جاں بحق، 15 لاکھ متاثر

لاہور: پنجاب میں سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 30 ہوگئی، 15 لاکھ 16 ہزار 603 لوگ متاثر ہوئے جب کہ متاثرہ علاقوں سے 4 لاکھ 81 ہزار سے زائد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق تین دریاؤں کے سیلابی پانی سے دو ہزار 38 موضع جات متاثر ہوئے، دریائے چناب سے 1 ہزار 169، راوی سے 462 اور ستلج میں سیلاب سے 391 موضع جات متاثر ہوئے۔
سینئر صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ 511 ریلیف اور 351 میڈیکل کیمپس متاثرین کی چوبیس گھنٹے مدد اور دیکھ بھال کر رہے ہیں، 6 ہزار 373 متاثرین ریلیف کیمپس میں ہیں، 4 لاکھ 5 ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، مویشیوں کے علاج کے لئے 321 ویٹرنری کیمپ بھی کام کر رہے ہیں، 808 کشتیاں ریکسیو مشن میں شریک ہیں، چھتیس گھنٹوں میں 68 ہزار 477 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے ساتھ ہیں، عوام کی خدمت اور مدد کا تاریخی ریلیف آپریشن وزیراعلیٰ پنجاب کی براہ راست نگرانی میں تیزی سے جاری ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے پیشگی حفاظتی انتظامات اور تجاوزات کے خلاف آپریشن کی وجہ سے تاریخ کے اتنے بڑے سیلاب میں بڑے جانی نقصان سے پنجاب بچ گیا۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی تباہی میں بدل چکی ہے، پیشگی خبردار کرنے والے جدید ترین نظام پنجاب میں لائیں گے، سیلاب سے بحالی کے بعد تجاوزات کے خاتمے کا آپریشن ہوگا، حالیہ سیلاب میں ہونے والے تجربات کی روشنی میں جامع حکمت عملی تیار کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ریسکیو اور ریلیف میں دن رات کام کرنے والے ہمارے ہیروز ہیں، متاثرین کی بحالی اور نقصانات کا ازالہ اولین ترجیح ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر سیلاب زدگان کیلئے ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے، صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی بھی وزیراعلی مریم نوازشریف کی ہدایت پر فیلڈ میں پہنچ گئے۔ کمشنر، ڈپٹی کمشنر او دیگر افسران خود فیلڈ میں موجود، آپریشن کی نگرانی کرتے رہے۔
سیلاب بھی خدمت کے سفر میں حائل نہ ہوسکا، احساس کی درجنوں مثالیں قائم ہوگئیں، ریسکیو ٹیم نے احساس اور خدمت کی اعلی مثال قائم کردی، دور دراز گاؤں کے مکین نے بیٹی کا جہیز ڈوبتے دیکھ کر بے بسی کے عالم میں ریسکیو کال کی، ریسکیو ٹیم بڑی کشتی لیکر دراساں والی بھینی پہنچ گئی۔ ٹیم نے جہیز کی چارپائیاں، جستی پیٹی، کپڑے اور برتن بحفاظت نکال کر کشتی میں منتقل کردیے۔