جب ظلم لوٹ کر واپس آتا ہے۔۔۔

وقاص بیگ

شہر کے پرانے مگر خوبصورت علاقے میں ایک بڑا سا بنگلہ تھا۔ یہ بنگلہ کبھی ہنسی، محبت اور سکون کی مثال ہوا کرتا تھا۔ اس گھر میں ایک خوش حال خاندان رہتا تھا۔ ماں، باپ اور دو بچے۔ ہر شام گھر کے صحن میں چائے، قہقہے اور زندگی کی رونق ہوتی۔
مگر وقت نے کروٹ بدلی۔ اسی علاقے میں ایک نیا شخص آیا عارف۔ بظاہر نرم گو، مگر دل میں حسد اور لالچ کا زہر لیے ہوئے۔ وہ اس گھر کی خوشی دیکھ کر اندر ہی اندر جلتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ یہ سب کچھ اس کا ہونا چاہیے۔
آہستہ آہستہ اس نے چالیں چلنا شروع کیں۔ کبھی جھوٹے الزامات، کبھی غلط فہمیاں، کبھی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا۔ اس نے خاندان کے افراد کے درمیان شکوک پیدا کیے۔ ماں کو بیٹے پر شک ہونے لگا، باپ کو بیٹی کی باتیں غلط لگنے لگیں اور بچے اپنے ہی گھر میں اجنبی محسوس کرنے لگے۔ اور پھر وہ دن آیا جب وہ خوبصورت گھر خاموش ہوگیا۔ ہنسی ختم ہوگئی، چائے کے کپ ٹھنڈے رہنے لگے اور دروازے ہمیشہ آدھے بند رہنے لگے۔
عارف نے اپنی “جیت” پر مسکرا کر سوچا: “میں نے وہ کر دیا جو میں چاہتا تھا…” مگر اسے نہیں معلوم تھا کہ اصل آغاز اب ہونے والا ہے۔
چند ماہ بعد عارف کے اپنے گھر میں عجیب سا سکوت چھا گیا۔ اس کی بیوی، جو کبھی اس پر مکمل اعتماد کرتی تھی، اب ہر بات پر سوال کرنے لگی۔ اس کے بچے اس سے دور رہنے لگے۔ ایک دن اس کے بیٹے نے کہا: “ابو… آپ ہم سے زیادہ فون اور باہر کے لوگوں کے قریب ہیں۔ ہم آپ کو سمجھ ہی نہیں آتے۔”
یہ جملہ عارف کے دل میں تیر کی طرح لگا، مگر اس نے اسے نظرانداز کردیا۔ راتوں کو جب سب سوجاتے، عارف جاگتا رہتا۔ اسے اپنے الفاظ، اپنی چالیں، اپنی جھوٹی مسکراہٹیں یاد آتیں۔
کبھی اسے لگتا جیسے وہی خاندان جسے اس نے توڑا تھا، اس کے سامنے کھڑا ہے اور پوچھ رہا ہے: “کیوں کیا تم نے ایسا؟” وہ پسینے میں شرابور ہوجاتا، مگر دن کے اجالے میں پھر وہی عارف بن جاتا۔ سخت، بے حس اور خود کو درست سمجھنے والا۔
وقت گزرتا گیا۔ ایک دن اس پر بھی وہی الزام لگا جو اس نے دوسروں پر لگایا تھا مگر اس بار ثبوت اس کے خلاف تھے۔ اس کے کاروباری ساتھیوں نے اس سے دوری اختیار کرلی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیوں ہورہا ہے۔ پھر ایک دن وہی ہوا جس کا اسے کبھی خیال نہ تھا، اس کا اپنا بیٹا اس سے الگ ہو کر گھر چھوڑ گیا۔
اس رات گھر میں مکمل خاموشی تھی۔ وہی خاموشی جو اس نے دوسرے گھر میں پیدا کی تھی۔
عارف اب آئینے میں خود کو نہیں دیکھ پاتا تھا۔ اسے لگتا تھا جیسے اس کے اندر کوئی اور شخص رہتا ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے دوسروں کی خوشیاں چھینیں، مگر اپنی بھی کھو دیں۔ وہ اکثر اس خالی گھر میں بیٹھ کر سوچتا: “اگر میں نے کسی کا گھر نہ توڑا ہوتا تو کیا میرا گھر بھی آج ایسا ہوتا؟” لیکن اب بہت دیر ہوچکی تھی۔ وہ دن و رات تنہائی میں اپنے کیے پر افسوس کرتا، لیکن اب پچھتائے کیا ہووت۔۔۔
ایک دن وہ اسی پرانے علاقے میں گیا جہاں وہ خوش حال گھر ہوا کرتا تھا۔ اب وہاں بھی خاموشی تھی، مگر فرق یہ تھا کہ وہ گھر مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا۔ عارف کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ پہلی بار اپنے کیے پر شرمندہ تھا۔ اسے سمجھ آگئی تھی کہ جو دوسروں کے رشتوں میں زہر گھولتا ہے، وہ خود بھی اسی زہر سے محفوظ نہیں رہتا۔ وہ وہیں بیٹھ کر رو پڑا۔
کسی کے گھر کو توڑنا آسان ہوتا ہے، مگر اپنا سکون واپس پانا بہت مشکل۔ رشتے کمزور کرنے والا آخرکار خود بھی تنہا ہوجاتا ہے اور سب سے بڑا انصاف وقت کرتا ہے۔ خاموشی سے، مگر مکمل طور پر۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔