رضاکارانہ ادائیگی کمزوری نہیں بلکہ طاقت کی علامت ہے

متحدہ عرب امارات (UAE) کے ڈپازٹس کی واپسی کو درست تناظر میں دیکھا جانا چاہیے: یہ کسی دباؤ کی علامت نہیں بلکہ مضبوطی کا اظہار ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر، یہ ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ زیادہ خودمختاری، بہتر ساکھ اور دوطرفہ مالی معاونت پر کم انحصار۔
پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کئی سال کی بلند ترین سطح پر ہیں، جو کسی بحران کی نہیں بلکہ استحکام کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بینک ڈپازٹس اور سونے کے ذخائر کی صورت میں اضافی مالی بفر بھی موجود ہیں، جو ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔
اہم اعداد و شمار:
زرمبادلہ کے ذخائر: تقریباً 16.4 ارب ڈالر (4 سال کی بلند ترین سطح)
سرکاری بینکوں کے ڈپازٹس: تقریباً 5.4 ارب ڈالر
سونے کے ذخائر: تقریباً 10 ارب ڈالر
مزید برآں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل 34 ہفتوں سے بڑھ رہے ہیں، جس سے درآمدی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہوئی اور مالی لچک میں اضافہ ہوا۔
گزشتہ 18 ماہ میں پاکستان پہلے ہی 3.6 کھرب روپے (12.9 ارب ڈالر) کی قبل از وقت ادائیگیاں کرچکا ہے، جس سے قرضوں کے دباؤ میں کمی اور جی ڈی پی کے مقابلے میں قرض کا تناسب قریباً 75 فیصد سے کم ہوکر 70 فیصد رہ گیا ہے۔
یورو بانڈ اور UAE کی ادائیگیاں منصوبہ بندی کے تحت ہیں اور موجودہ حالات میں زیادہ قابلِ انتظام ہیں۔
ترسیلاتِ زر میں اضافہ اور بیرونی کھاتوں میں بہتری (جنوری تا فروری 2026 میں 487 ملین ڈالر سرپلس) نے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو ہدف سے کم رکھا ہے۔
اگرچہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ دباؤ ڈال سکتا ہے، مگر ایل این جی کی درآمدات میں کمی اور مقامی گیس کے استعمال سے اس کا کچھ حد تک تدارک ہو رہا ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط اور پالیسی کی ساکھ برقرار ہے جب کہ اسٹاف لیول معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے۔
خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہورہا ہے جب کہ مستقبل میں خطے کی تعمیرِ نو پاکستانی افرادی قوت کی طلب میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔
پاکستان بتدریج خلیجی ممالک اور ایشیا کے درمیان تجارتی و ٹرانس شپمنٹ حب کے طور پر ابھر رہا ہے، جس کا اظہار کراچی کی بندرگاہوں پر بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے ہوتا ہے۔
حالیہ 5G اسپیکٹرم نیلامی میں عالمی ٹیلی کام کمپنیوں کی مضبوط سرمایہ کاری اس بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے۔
سب سے اہم بات:
بروقت ادائیگی = ساکھ میں اضافہ
ساکھ = کم رسک پریمیم = مضبوط معیشت
یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ممالک انحصار سے نکل کر خود انحصاری کی طرف بڑھتے ہیں۔
لہٰذا، ڈپازٹس کی واپسی کوئی منفی پیش رفت نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہو رہا ہے۔
گھبرانے کی ضرورت نہیں، یہ ترقی کی علامت ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔