لیلۃ القدر کے فضائل

غلام مصطفیٰ
لیلۃ القدر کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا گیا ہے۔ لیلۃ القدر جسے عرف عام میں شب قدر کہا جاتا ہے۔ اس رات کو اسلامی عبادات میں بہت اہمیت حاصل ہے۔ رمضان المبارک اور قرآن مجید کا گہرا تعلق ہے اور یہ عظمتوں والی رات اسی ماہ مقدس کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک ہے۔ قرآن پاک میں ﷲ تعالیٰ کا فرمان عالیشان کا مفہوم یہ ہے کہ: ’’حٰم! اس کتاب روشن کی قسم کہ ہم نے اس کو (قرآن مجید) مبارک رات میں نازل فرمایا، ہم تو راستہ دکھانے والے ہیں۔ اسی رات میں تمام حکمت کے کام فیصل کیے جاتے ہیں۔ (یعنی) ہمارے ہاں سے حکم ہوکر۔ بے شک! ہم ہی (پیغمبر) بھیجتے ہیں۔ (یہ) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے۔ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔‘‘ (سورۃ الدخان) رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ ﷲ تعالیٰ کا انسانیت کی فوز و فلاح، دنیا و آخرت کی کام یابی اور آخری پیغمبر رسول کریم حضرت محمّد ﷺ کے ذریعے آخری پیغام ہدایت عطا کیا گیا۔ گویا اس ماہ مبارک میں جمیع خصائل سمو دیے گئے۔
قرآن پاک لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر جس شب نازل کیا گیا، اسے لیلۃ القدر کہا جاتا ہے۔ یہ رات نزول قرآن کی وجہ سے انتہائی مبارک قرار پائی اور خود کتاب مقدس میں اس کی عظمت و فضیلت کا اظہار فرما دیا۔
مذکورہ بالا آیات کریمہ میں اسی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ واضح طور پر بتایا کہ جس شب اسے نازل کیا گیا بہ ظاہر تو وہ بھی ایک رات ہی ہے تاہم نزول قرآن کی برکت نے اس رات کو تمام راتوں پر فضیلت عطا کر دی اور ہم نے اس رات کو انتہائی مبارک بنادیا ہے۔ اس رات ہمارے تمام امور حکمت کے ساتھ فیصلہ کیے جاتے ہیں یعنی موت و حیات سے لے کر گردش لیل و نہار میں وقوع پذیر ہونے والے تمام تر حوادث و واقعات کے احکامات متعلقہ فرشتوں کے حوالے کر دیے جاتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ہم نے (اس قرآن مجید) کو انتہائی قدر و منزلت والی رات میں نازل کیا۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر (عبادت و فضیلت کے لحاظ سے) ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں روح (الامین جبریل) اور فرشتے ہر کام کے (انتظام) کے لیے اپنے پروردگار کے حکم سے اترتے ہیں۔ یہ (رات) طلوع فجر تک (امان اور) سلامتی والی ہے۔‘‘ (سورۃ القدر)
ان آیات کریمہ سے واضح ہوتا ہے کہ یہ شب کس قدر اہمیت و فضیلت والی ہے۔ ایک رات کی عبادت اہل ایمان کے لیے 83 برس کی عبادتوں سے بھی افضل و برتر ہے۔ یہ تو صرف کم از کم حد بیان ہوئی ہے۔ ہزار مہینوں سے کس قدر افضل ہے وہ ﷲ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک شخص کی عبادت و ریاضت کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس نے اسّی برس سے زیادہ عمر کا حصہ ﷲ تعالیٰ کی بے ریا عبادت میں گزار دیا۔ جس پر صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کو سخت ملال ہوا کہ ہماری تو اتنی عمریں بھی نہیں اور عمر کا بیشتر حصہ کفر و شرک میں گزار دیا، ہمیں تو وہ اعزاز و اکرام حاصل ہی نہیں ہوسکتا جو پچھلی امتوں کے صلحاء کو حاصل ہُوا۔
ﷲ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اس اضطراب اور جنت کی طلب و جستجو کو دیکھتے ہوئے قیامت تک کے آنے والے امت محمّدیہ صلی اﷲ علیہ وسلم کے لیے یہ منفرد اعزاز عطا فرما دیا کہ اﷲ تعالیٰ نے نزول قرآن کی برکت سے اس ایک رات کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دے دیا کہ مومن آزردہ خاطر نہ ہوں۔ ﷲ تعالیٰ نے کمال مہربانی سے اس رات کی عبادت کا اجر و ثواب بڑھا چڑھا کر عطا فرما دیا اور لطف کی بات یہ ہے کہ ایک بندۂ مومن کی زندگی میں یہ عظیم رات کتنی مرتبہ آتی ہے۔ رب تعالیٰ کی رحمتوں کا کوئی حساب ہی نہیں کیا جاسکتا۔
رحمت عالم ﷺ کے ارشاد گرامی کا مفہوم: ’’جس شخص نے لیلۃالقدر میں ایمان اور ثواب کی نیّت سے عبادت کی تو اﷲ تعالیٰ اس کے تمام پچھلے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘ (بخاری)
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ رمضان کے اخری عشرے میں خوب عبادت فرماتے۔ لیلۃ القدر میں شب بیداری فرماتے اور اپنے اہل و عیال کو بھی جگاتے۔‘‘ (مشکوٰۃ)
اب اس بات کا تعین کرنا کہ کون سی رات ہی لیلۃ القدر ہے۔ بعض محققین کے نزدیک ستائیسویں شب ہی لیلۃالقدر ہے جب کہ ایک روایت میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں یعنی21، 23، 25، 27 اور 29 ویں شب میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔ گویا پورا عشرہ ہی خوب ریاضت و جدوجہد والا ہے۔
افسوس آخری عشرے میں بازاروں کی رونقیں اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہیں اور ہم خواب غفلت کا شکار ہوکر ان عظیم گھڑیوں کو ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ کون جانے آئندہ برس ہمیں یہ سعادت نصیب بھی ہوتی ہے کہ نہیں، لہٰذا انتہائی ذوق و شوق اور خشیت الٰہی کے ساتھ ان راتوں کی عبادتوں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ تاکہ ہم اپنے رب سے جہنم سے آزادی کے پروانے حاصل کر سکیں جب کہ ہمارا ازلی دشمن شیطان ہمیں دیگر امور میں الجھا کر برباد کرنا چاہتا ہے۔ دعا ہے کہ رب العزت ہر مسلمان کو نیک اعمال اور عبادات کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)