ظلم کا دردناک انجام

اسد احمد
رات کے سناٹے میں شہر کی روشنیاں جیسے کسی خاموش کہانی کا نوحہ سنا رہی تھیں۔ ہر طرف چمکتی ہوئی عمارتیں تھیں مگر ان کے بیچ ایک شخص ایسا بھی تھا جس کے دل میں اندھیرا بڑھتا جارہا تھا۔ اس کا نام سلمان تھا۔
سلمان ایک کامیاب بزنس مین تھا۔ دولت، طاقت، شہرت، سب کچھ اس کے پاس تھا۔ لوگ اس کے آگے پیچھے گھومتے تھے، اس کی ایک مسکراہٹ پر تعریفوں کے پُل باندھ دیتے تھے مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس کامیابی کی بنیاد کتنی کمزور اور ظالمانہ تھی۔ کئی سال پہلے، سلمان اور اس کے دوست حارث نے ایک چھوٹا سا کاروبار شروع کیا تھا۔ حارث ایمان دار اور محنتی تھا جب کہ سلمان ذہین تو تھا مگر اس کے اندر ایک خاموش لالچ پل رہا تھا۔ وقت کے ساتھ کاروبار بڑھنے لگا اور جب کامیابی دروازے پر دستک دینے لگی تو سلمان کے دل میں ایک خطرناک خیال نے جنم لیا۔
اس نے حساب کتاب میں ہیر پھیر شروع کردی۔ دستاویزات میں تبدیلیاں کیں اور آہستہ آہستہ پورا کاروبار اپنے نام کرلیا۔ حارث کو جب حقیقت کا پتا چلا تو اس کی آنکھوں میں صرف ایک سوال تھا: “میں نے تم پر بھروسہ کیا تھا، سلمان… تم نے ایسا کیوں کیا؟” سلمان نے نظریں چُرالیں۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، یا شاید وہ جواب دینا نہیں چاہتا تھا۔
حارث اس دن خالی ہاتھ چلاگیا۔ نہ اس نے بددعا دی، نہ شور مچایا۔ بس خاموشی سے رخصت ہوگیا۔ لیکن اس کی وہ خاموشی، وہ ٹوٹا ہوا اعتماد، جیسے کسی اندھیری رات کا سایہ بن کر سلمان کے ساتھ لگ گیا۔ وقت گزرتا گیا۔ سلمان کی کامیابی بڑھتی گئی۔ اس کے پاس بڑی گاڑیاں، عالی شان گھر اور ہر آسائش تھی، جس کا لوگ خواب دیکھتے ہیں مگر رات کو جب وہ اکیلا ہوتا، تو اسے وہی سوال سنائی دیتا: “تم نے ایسا کیوں کیا؟”
پہلے پہل وہ ان آوازوں کو نظرانداز کرتا رہا۔ پارٹیوں میں مصروف، کاروبار میں الجھا، اس نے اپنے ضمیر کو دبانے کی بھرپور کوشش کی، لیکن ضمیر کوئی بٹن نہیں ہوتا جسے بند کیا جاسکے۔ ایک رات، جب وہ اپنے عالی شان گھر کی بالکونی میں کھڑا تھا، اچانک اس کا فون بجا۔ خبر ملی کہ حارث شدید بیمار ہے اور اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑرہا ہے۔
سلمان کے قدم جیسے زمین میں گڑ گئے۔ وہ کئی لمحوں تک خاموش کھڑا رہا، پھر اچانک اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ وہ فوراً اسپتال کی طرف روانہ ہوا۔ اسپتال کے سفید کوریڈور میں داخل ہوتے ہی اسے عجیب سا سکون اور خوف ایک ساتھ محسوس ہوا۔ جب وہ حارث کے کمرے میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ وہ کمزور، نحیف اور زندگی کی آخری سانسوں پر تھا۔ حارث نے آنکھیں کھولیں اور سلمان کو دیکھا۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی۔
“تم آ گئے…” اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ سلمان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا، معافی مانگنا چاہتا تھا مگر الفاظ جیسے اس کے گلے میں پھنس گئے تھے۔ “میں… میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا…” آخرکار اس کے لب ہلے۔ حارث نے سر ہلایا، جیسے وہ سب کچھ پہلے ہی جانتا ہو۔
“سلمان، زندگی بہت چھوٹی ہوتی ہے، لیکن انصاف بہت بڑا ہوتا ہے…” یہ اس کے آخری الفاظ تھے۔
کمرے میں مشینوں کی آواز اچانک سیدھی لکیر میں بدل گئی۔ سلمان وہیں کھڑا رہ گیا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
اس دن کے بعد سلمان کی زندگی بدل گئی، لیکن اس طرح نہیں جیسے وہ چاہتا تھا۔ اس کا کاروبار اچانک نقصان میں جانے لگا۔ جن لوگوں پر وہ بھروسہ کرتا تھا، وہی اسے دھوکا دینے لگے۔ اس کے قریبی ساتھی اس سے دُور ہوگئے اور سب سے بڑھ کر، اس کا سکون اس سے چھن گیا۔ وہ ہر رات جاگتا اور اسے حارث کا چہرہ نظر آتا۔ “تم نے ایسا کیوں کیا؟”
وہ سوال اب اس کی زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔ چند سال میں، سلمان کا نام جو کبھی عزت کی علامت تھا، ایک عبرت کی مثال بن گیا۔
لوگ اس کی کہانی سناتے اور کہتے: “دیکھو، کسی کا حق مارنے والا آخرکار یہی انجام پاتا ہے…”
سلمان کے پاس اب نہ دولت تھی، نہ عزت، نہ سکون۔ وہ صرف ایک زندہ لاش بن کر رہ گیا تھا، جو ہر دن اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے پھرتا تھا۔
اور ایک دن، جب وہ اکیلا ایک بینچ پر بیٹھا تھا، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیمی آواز میں کہا: “کاش میں وقت کو واپس لا سکتا…” مگر وقت کبھی واپس نہیں آتا۔
یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے۔ کسی کا حق مار کر آپ وقتی کامیابی تو حاصل کر سکتے ہیں، مگر ہمیشہ کے لیے سکون کھودیتے ہیں اور جب انسان کا سکون چلا جائے، تو اس کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔
یاد رکھو ظلم کی بنیاد پر کھڑی ہوئی عمارت کبھی مضبوط نہیں ہوتی۔ وہ ایک دن ضرور گرتی ہے اور جب گرتی ہے تو اپنے ساتھ سب کچھ لے جاتی ہے۔
اسی لیے، انصاف کا راستہ مشکل ضرور ہے، مگر انجام ہمیشہ روشن ہوتا ہے۔