اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ ختم

بلال ظفر سولنگی

گو اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ رہے، تاہم امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو دُنیا بھر میں سراہا جارہا ہے۔ اسلام آباد میں ایران امریکا مذاکرات ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ عالمی سیاست میں تنازعات کا حل فوری نہیں بلکہ تدریجی اور پیچیدہ عمل ہوتا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان کہ “بغیر کسی ڈیل کے امریکا واپس جارہے ہیں” نے وقتی طور پر مایوسی ضرور پیدا کی، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ سفارتی دروازے بند ہوچکے ہیں، بلکہ اس پورے عمل کو ایک طویل سفارتی جدوجہد کے تسلسل کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے باوجود کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ پانا اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان بنیادی نوعیت کے اختلافات اب بھی موجود ہیں، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے۔ امریکا کی جانب سے واضح اور قابلِ تصدیق یقین دہانی کا مطالبہ اپنی جگہ اہم ہے، تاہم ایران کے لیے بھی اپنی خودمختاری اور دفاعی حقائق کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سفارت کاری کی باریکیاں اور قومی مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے نظر آتے ہیں۔ ایرانی مؤقف، جیسا کہ ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان کیا، اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی ایک نشست میں جامع معاہدے کی توقع غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات میں نہ صرف جوہری معاملات بلکہ پابندیوں کا خاتمہ، جنگی نقصانات کا ازالہ اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے جیسے پیچیدہ موضوعات بھی شامل تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مذاکرات محض ایک معاہدے تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر علاقائی توازن کی تشکیل سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی تناظر میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا بیان بھی قابلِ غور ہے، جس میں انہوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ عدم اعتماد ماضی کے تجربات کا نتیجہ ہے، جسے نظر انداز کر کے کسی بھی پائیدار معاہدے کی بنیاد رکھنا مشکل ہوگا۔ ایران کی قیادت بارہا اس بات پر زور دیتی آئی ہے کہ مذاکرات صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتے ہیں جب فریقین ایک دوسرے کے تحفظات کو سنجیدگی سے تسلیم کریں۔ پاکستان کا کردار اس سارے عمل میں نہایت اہم اور قابلِ تحسین رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر، کی کوششوں نے اسلام آباد کو ایک بار پھر سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنادیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا یہ کہنا کہ پاکستان مستقبل میں بھی سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہے گا، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان کے لیے ایک سفارتی کامیابی بھی ہے، کیونکہ اس نے خود کو ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ مسلسل کشیدگی کا شکار ہے، پاکستان کی یہ کوششیں نہ صرف اس کی عالمی ساکھ کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ اسے ایک ذمے دار ریاست کے طور پر بھی اجاگر کرتی ہیں۔ تاہم، اس تمام عمل کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کیا امریکا اور ایران واقعی کسی درمیانی راستے تک پہنچنے کے لیے تیار ہیں؟ امریکا کے لیے ایران کا جوہری پروگرام ایک سیکیورٹی خطرہ ہے جب کہ ایران اسے اپنی خودمختاری اور دفاع کا لازمی جزو سمجھتا ہے۔ یہ بنیادی تضاد ہی اصل رکاوٹ ہے، جسے حل کیے بغیر کسی بھی معاہدے کا امکان محدود رہے گا۔ مزید برآں، خطے کی مجموعی صورتحال بھی ان مذاکرات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ آبنائے ہرمز کی اسٹرٹیجک اہمیت، مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات اور عالمی طاقتوں کے مفادات اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایسے میں کسی ایک مسئلے کا حل نکالنا بھی کئی دیگر مسائل سے جڑا ہوتا ہے۔ اس کے باوجود، یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ دونوں فریقین نے مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ سفارت کاری کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ یہ دروازے بند نہیں کرتی بلکہ نئے امکانات پیدا کرتی ہے۔ اگرچہ فوری نتائج سامنے نہیں آئے، لیکن مکالمے کا جاری رہنا بذاتِ خود ایک مثبت پیش رفت ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اسلام آباد مذاکرات کسی اختتام کا نہیں بلکہ ایک نئے مرحلے کا آغاز ہیں۔ یہ عمل وقت لے گا، صبر کا متقاضی ہوگا اور سب سے بڑھ کر نیک نیتی کا امتحان ہوگا۔ اگر امریکا اور ایران واقعی خطے میں پائیدار امن چاہتے ہیں تو انہیں اپنے مؤقف میں لچک پیدا کرنا ہوگی اور ایک دوسرے کے تحفظات کو تسلیم کرنا ہوگا۔ پاکستان کی ثالثی اس سفر میں ایک اہم پل ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ فریقین سنجیدگی کے ساتھ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔