محمد رضوان کا واقعہ اور عالمی کرکٹ پر سوالیہ نشان

انجینئر بخت سید یوسف زئی
(engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)
کرکٹ محض ایک کھیل نہیں بلکہ تہذیب، برداشت، احترام اور اسپورٹس مین اسپرٹ کا عملی مظہر ہے۔ دنیا بھر میں کروڑوں افراد اس کھیل سے نہ صرف تفریح بلکہ جذباتی وابستگی بھی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب میدانِ کرکٹ میں کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو کھیل کی بنیادی اقدار کے خلاف ہو، تو اس کی گونج سرحدوں سے نکل کر عالمی سطح تک سنائی دیتی ہے۔
حالیہ دنوں میں محمد رضوان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی کچھ ایسا ہی تھا جس نے کرکٹ شائقین کو حیرت اور مایوسی میں مبتلا کر دیا۔ ایک ایسے کھلاڑی کے ساتھ، جو نظم و ضبط، عاجزی اور محنت کی علامت سمجھا جاتا ہے، نامناسب رویہ اختیار کرنا ہر ذی شعور کے لیے تشویش کا باعث بنا۔
محمد رضوان کا شمار موجودہ دور کے صفِ اول کے وکٹ کیپر بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنی مستقل مزاجی اور بے مثال محنت کے ذریعے خود کو عالمی کرکٹ میں منوایا ہے۔ ان کا کھیل صرف رنز بنانے تک محدود نہیں بلکہ ان کی شخصیت بھی میدان میں ایک مثبت مثال پیش کرتی ہے۔ رضوان ہمیشہ میدان میں خاموشی، شکرگزاری اور تحمل کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وہ نہ صرف اپنی ٹیم بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایسے میں ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی بے ادبی کھیل کے وقار پر سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔
میچ کے دوران پیش آنے والا واقعہ، جس میں میلبورن کے کپتان کی جانب سے نازیبا اشارہ اور بغیر آؤٹ ہوئے رضوان کو واپس بھیجنا شامل تھا، کرکٹ کے قوانین اور اخلاقیات دونوں کے منافی تھا۔ یہ عمل نہ صرف غیر مناسب بلکہ کھیل کی روح کے خلاف تھا۔
کرکٹ میں مقابلہ جتنا سخت ہو، رویہ اتنا ہی شائستہ ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے بعض اوقات جیت کی خواہش اتنی غالب آ جاتی ہے کہ کھلاڑی حدود کو عبور کر جاتے ہیں، جس سے کھیل کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے۔ ایسے مواقع پر جب کرکٹ کے عظیم نام سامنے آکر حق بات کہتے ہیں تو یہ کھیل کے لیے نیک شگون ہوتا ہے۔ کرکٹ لیجنڈ رکی پونٹنگ کا محمد رضوان کے حق میں بیان دینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ واقعہ معمولی نہیں تھا۔ رکی پونٹنگ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ رضوان کے ساتھ ہونے والا سلوک کرکٹ کی روح کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لیگ سب کی ہے اور اس کا وقار برقرار رکھنا تمام کھلاڑیوں اور ٹیموں کی مشترکہ ذمے داری ہے، نہ کہ اسے بدنام کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی کھلاڑی کی فارم اس کے احترام کا معیار نہیں ہو سکتی۔ کھیل میں عروج و زوال آتے رہتے ہیں، مگر عزت وہ چیز ہے جو ہر حال میں ملنی چاہیے۔ پونٹنگ کے مطابق محمد رضوان جیسے ورلڈ کلاس کھلاڑی ہر میدان میں احترام کے مستحق ہیں۔ ان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا تھا اگر اس پر بروقت آواز نہ اٹھائی جاتی۔
کرکٹ صرف بیٹ اور گیند کا کھیل نہیں بلکہ کردار کا امتحان بھی ہے۔ میدان میں دکھایا گیا رویہ اکثر اسکور بورڈ سے زیادہ دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ نوجوان کھلاڑی اپنے ہیروز کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر انہیں میدان میں بدتمیزی اور اشتعال نظر آئے گا تو وہ بھی اسی طرزِ عمل کو اپنانے کی کوشش کریں گے، جو کھیل کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔ کھیل کے منتظمین، لیگ انتظامیہ اور امپائرز پر بھی بڑی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے واقعات کا فوری اور منصفانہ نوٹس لیں۔ نظم و ضبط کے بغیر کوئی بھی کھیل اپنی شناخت برقرار نہیں رکھ سکتا۔
اگر ایسے رویّوں کو نظر انداز کیا جائے تو آہستہ آہستہ کھیل کا ماحول زہر آلود ہو جاتا ہے، جہاں مقابلہ مہارت کے بجائے انا کی جنگ بن جاتا ہے۔ محمد رضوان نے اس مشکل اور ناخوشگوار لمحے میں بھی صبر، تحمل اور وقار کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کسی ردِعمل یا اشتعال کا سہارا نہیں لیا، جو ان کی شخصیت کی مضبوطی اور اعلیٰ تربیت کا ثبوت ہے۔ ایک بڑے کھلاڑی کی پہچان صرف اس کے ریکارڈز یا انفرادی کامیابیاں نہیں ہوتیں بلکہ مشکل حالات میں اس کا کردار ہی اسے عظیم بناتا ہے اور رضوان اس معیار پر پورا اترتے دکھائی دیے۔
دنیا بھر کے کرکٹ شائقین نے اس واقعے پر محمد رضوان کے حق میں آواز بلند کی۔ سوشل میڈیا، تجزیاتی پروگرامز اور سابق کھلاڑیوں کی آرا نے یہ ثابت کردیا کہ عزت دار رویہ ہمیشہ لوگوں کے دل جیت لیتا ہے۔ یہ حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ کرکٹ کے شائقین صرف جیت نہیں بلکہ کھیل کی اقدار کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو اخلاقیات پر سمجھوتہ نہ کرے۔ کھیل کے میدان میں جذبات کا ہونا فطری عمل ہے، مگر ان جذبات کو قابو میں رکھنا جیت سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ کیونکہ میچ تو ختم ہوجاتا ہے، مگر کردار تاریخ میں محفوظ ہوجاتا ہے۔
اگر ہم واقعی کرکٹ کو ایک مہذب، باوقار اور عظیم کھیل کے طور پر زندہ رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں احترام، برداشت اور اسپورٹس مین اسپرٹ کو ہر حال میں مقدم رکھنا ہوگا۔ جیت وہی خوبصورت ہوتی ہے جو عزت کے ساتھ حاصل کی جائے۔ محمد رضوان اور رکی پونٹنگ جیسے کردار ہمیں یہی سبق دیتے ہیں کہ اصل چیمپئن وہی ہوتا ہے جو صرف اسکور بورڈ پر نہیں بلکہ اخلاق اور کردار کے میدان میں بھی کامیاب ہو۔ کرکٹ کی اصل روح اسی سوچ میں پوشیدہ ہے اور جب تک یہ روح زندہ ہے، یہ کھیل لوگوں کے دلوں پر راج کرتا رہے گا۔