واپسی کا دروازہ

بلال ظفر سولنگی

اس کا نام فہد تھا۔ آنکھوں میں خواب، دل میں آگ اور خالی جیب۔ وہ کسی امیر باپ کا بیٹا نہیں تھا۔ باپ ایک معمولی سرکاری ملازم تھا جو ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی دل کے دورے سے چل بسا۔ گھر میں ماں، دو بہنیں اور ذمے داریوں کا پہاڑ رہ گیا۔ فہد نے یونیورسٹی ادھوری چھوڑ دی۔ نوکری کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھائیں۔ ہر جگہ ایک ہی جواب: “تجربہ چاہیے۔”
بھوک تجربہ نہیں پوچھتی۔ محلے کے ایک بااثر شخص نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ “کچھ کام ہے… آسان سا۔ بس گاڑی لے جانی ہے، واپس لانی ہے۔ اچھے پیسے ملیں گے۔ کام تھوڑا غیر قانونی ہے بس۔”
یہ سن کر وہ پہلی رات وہ سو نہ سکا۔ ماں کے چہرے پر فکر کی جھریاں اور بہنوں کی تعلیم کی فکرات اس کے سامنے گھومتی رہیں۔ اس نے خود کو سمجھایا: “صرف ایک بار… پھر سب ٹھیک کر لوں گا۔” مگر شیطان کبھی “صرف ایک بار” پر نہیں رکتا۔
چند مہینوں میں فہد کے ہاتھ صاف ہوگئے۔ اس کی جیب بھری رہنے لگی۔ گھر میں راشن آنے لگا۔ ماں نے پوچھا: “بیٹا، سب ٹھیک تو ہے نا؟” وہ نظریں چرا کر کہتا: “اللہ بڑا کارساز ہے، امی۔”
لیکن اس کی پیشانی سے سکون غائب ہوچکا تھا۔ نمازیں چھوٹ گئیں۔ اذان کی آواز کو وہ اب نظرانداز کرنے لگا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کیا کررہا ہے۔ منشیات کی ترسیل، اسلحے کی ڈیل، دھمکیاں، یہ سب غیر قانونی کام تھے۔
ایک رات سب بدل گیا۔ اسے ایک “کام” دیا گیا، ایک آدمی کو ڈرانا تھا، بس ڈرانا۔ مگر حالات بگڑ گئے۔ گولی چل گئی اور وہ آدمی گر پڑا۔ فہد کے ہاتھ کانپنے لگے۔ زمین پر پڑا جسم تڑپ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں فہد کو دیکھ رہی تھیں… جیسے پوچھ رہی ہوں: “میرا قصور کیا تھا؟” وہ بھاگ آیا۔
اس رات کافی عرصے پہلی بار اس نے سجدہ کیا۔ برسوں بعد۔ آنسو فرش کو بھگوتے رہے۔ “یااللہ… میں نے کیا کردیا؟”
چند دن بعد پولیس دروازے پر تھی۔ فہد کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگی تھی۔ ماں دروازے سے لپٹ کر رو رہی تھی۔ “میرا بیٹا ایسا نہیں ہے… میرا فہد ایسا نہیں ہوسکتا…”
جیل کی کوٹھڑی میں وقت رک جاتا ہے۔ وہاں نہ دوست ہوتے ہیں، نہ موبائل، نہ شور، صرف انسان اور اس کا ضمیر۔
ایک دن جیل کی مسجد میں ایک بوڑھے عالم آئے۔ انہوں نے کہا: “بیٹا، گناہ کتنا بھی بڑا ہو… اللہ کی رحمت اس سے بڑی ہے۔ بس سچی توبہ چاہیے۔” فہد پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ “کیا میرے لیے بھی معافی ہے؟ میں نے ایک جان لے لی…”
عالم نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا: “اگر تیری توبہ سچی ہے، اگر تُو باقی زندگی اس کی رضا کے لیے گزار دے تو اللہ دروازہ بند نہیں کرتا۔”
اس دن کے بعد فہد بدل گیا۔ قرآن اس کا ساتھی بن گیا۔ وہ قیدیوں کو پڑھانے لگا، جو نیا آتا، اسے سمجھاتا: “یہ راستہ مت چنو… یہ اندھیری گلی ہے، آخر میں صرف پچھتاوا ہے۔” مگر دنیا کے قانون کی اپنی گرفت ہوتی ہے۔
عدالت نے سزائے موت سنادی۔ پھانسی سے ایک رات پہلے، اس نے ماں کو خط لکھا:
“امی، میں برا بیٹا تھا… مگر اللہ سے امید ہے کہ وہ مجھے معاف کردے گا۔ آپ مجھے معاف کردیجیے گا۔ بہنوں کو کہنا حلال راستہ کبھی نہ چھوڑیں، چاہے فاقہ ہو جائے۔”
صبح جب اسے لے جایا جارہا تھا، اس کے لبوں پر کلمہ تھا۔ آنکھوں میں آنسو تھے مگر خوف کے نہیں، امید کے۔
لوگ کہتے ہیں وہ مجرم تھا۔ ہاں، تھا۔ مگر آخری لمحوں میں وہ اللہ کا توبہ کرنے والا بندہ بن چکا تھا۔
غیر قانونی اور حرام کا راستہ ابتدا میں آسان اور چمک دار لگتا ہے مگر اس کا انجام اندھیرا، رسوائی اور تباہی ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ توبہ کا دروازہ آخری سانس تک کھلا رہتا ہے مگر کون جانتا ہے آخری سانس کب آئے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔