طاقتور فوج، محفوظ پاکستان

دانیال جیلانی
پاکستان میں اندرونی و بیرونی سلامتی کے چیلنجز بیک وقت توجہ کے متقاضی ہیں۔ ایسے میں مسلح افواج کا کردار محض دفاعی نہیں بلکہ قومی استحکام، علاقائی امن اور ریاستی خودمختاری کے تحفظ کی علامت بن چکا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ بیانات، دورۂ لاہور گیریژن اور بنگلادیشی فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات اسی قومی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتے ہیں۔ لاہور گیریژن کے دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پاک فوج کی آپریشنل تیاری، تربیتی معیار اور جنگی صلاحیت میں اضافے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ یہ امر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاک فوج بدلتے ہوئے جنگی ماحول، جدید ٹیکنالوجی اور ہائبرڈ خطرات سے مکمل طور پر باخبر ہے۔ خصوصی فیلڈ ٹریننگ مشق میں جدید ٹیکنالوجیز کے عملی مظاہرے نے واضح کردیا کہ پاک فوج مستقبل کی جنگوں کے تقاضوں کے مطابق خود کو مسلسل ڈھال رہی ہے۔ یہ پیشہ ورانہ تیاری نہ صرف دفاعی طاقت میں اضافے کا ذریعہ ہے بلکہ دشمن کو واضح پیغام بھی ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
فیلڈ مارشل کا قومی سلامتی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی کا اعادہ دراصل ریاستی عزم کی تجدید ہے۔ پاکستان کو درپیش خطرات اب روایتی جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ دہشت گردی، انتہا پسندی، سائبر وارفیئر اور علاقائی عدم استحکام جیسے پیچیدہ چیلنجز بھی شامل ہیں۔ ایسے میں زیرو ٹالرنس کا مؤقف اس بات کی ضمانت ہے کہ ریاست کسی بھی قسم کے خطرے، چاہے وہ اندرونی ہو یا بیرونی، کے خلاف پوری قوت سے نمٹے گی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ مؤقف قوم کے اعتماد کو مضبوط کرتا ہے اور مسلح افواج کے مورال میں اضافے کا باعث ہے۔ لاہور گیریژن کے دورے میں فوجی جوانوں کے لیے کھیلوں اور تفریحی سہولتوں کا معائنہ بھی ایک اہم پہلو ہے۔ جدید افواج میں صرف ہتھیار اور تربیت ہی نہیں بلکہ جوانوں کی جسمانی فٹنس، ذہنی سکون اور مجموعی فلاح و بہبود کو بھی کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ پاک فوج کی قیادت کا اس پہلو پر زور دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی وسائل کو فوجی طاقت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک فوج نہ صرف جنگی میدان میں بلکہ نظم و ضبط، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کی مثال بھی سمجھی جاتی ہے۔ اسی دورے کے دوران سی ایم ایچ لاہور کے ہائی کیئر سینٹر کا معائنہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ایسے مراکز کا قیام اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ فوج اپنے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی صحت کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ ایک مضبوط فوج وہی ہوتی ہے جو اپنے سپاہیوں کی جان، صحت اور وقار کا تحفظ یقینی بنائے۔ اس اقدام سے نہ صرف فوجی اہلکاروں کا اعتماد بڑھتا ہے بلکہ ادارے اور فرد کے درمیان مضبوط تعلق بھی قائم ہوتا ہے۔ دوسری جانب، فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بنگلادیشی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کی ملاقات علاقائی سفارت کاری اور دفاعی تعاون کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔ جنوبی ایشیا ایک حساس خطہ ہے جہاں امن و استحکام کا انحصار باہمی اعتماد، مکالمے اور عسکری تعاون پر ہے۔ پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کے ساتھ دفاعی تعلقات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ اس ملاقات میں دو طرفہ دفاعی تعاون، تربیتی تبادلے اور پیشہ ورانہ روابط کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان خطے میں تصادم کے بجائے تعاون کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔ علاقائی سلامتی کے تناظر میں پاکستان کا کردار ہمیشہ ذمے دارانہ رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دینے کے باوجود پاکستان نے خطے میں امن کے لیے سفارتی اور عسکری دونوں سطحوں پر کوششیں جاری رکھی ہیں۔ بنگلادیشی فضائیہ کے سربراہ کی جانب سے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا اعتراف دراصل عالمی سطح پر پاک فوج کی ساکھ کا ثبوت ہے۔ یہ اعتراف نہ صرف پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ اس بات کی بھی نشان دہی کرتا ہے کہ علاقائی ممالک پاکستان کو ایک ذمے دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
پاکستان اور بنگلادیش کے درمیان دفاعی تعلقات کا فروغ خطے میں طاقت کے توازن اور امن کے قیام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تربیتی تبادلے، مشترکہ مشقیں اور عسکری مکالمہ نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ غلط فہمیوں کے امکانات کو بھی کم کرتے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جانب سے بنگلادیش کے ساتھ دیرپا اور مضبوط دفاعی تعلقات کے عزم کا اعادہ اسی وسیع تر وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے کو عدم استحکام کے بجائے تعاون کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو لاہور گیریژن کا دورہ اور بنگلادیشی فضائیہ کے سربراہ سے ملاقات پاکستان کی دفاعی اور سفارتی حکمتِ عملی کے دو اہم پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ ایک طرف اندرونی طور پر پاک فوج اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، جدید تربیت اور جوانوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دے رہی ہے، تو دوسری جانب بیرونی محاذ پر علاقائی تعاون اور امن کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ قومی سلامتی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اور علاقائی شراکت داری کا امتزاج ہی پاکستان کو درپیش موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز کا مؤثر جواب ہے۔ یہ تمام اقدامات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف میدانِ جنگ میں بلکہ سفارت کاری، امن اور استحکام کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ قوم کو اپنی افواج پر فخر ہے اور یہی اعتماد پاکستان کے مضبوط، محفوظ اور مستحکم مستقبل کی ضمانت ہے۔