سانحۂ سولجر بازار

مہروز احمد
لگتا ایسا ہے کہ سانحات اہلیان کراچی کا مقدر بن گئے ہیں یا بنادیے گئے ہیں۔ شہر قائد کے علاقے سولجر بازار میں ہونے والا گیس لیکیج سے دھماکا ایک ایسا واقعہ ہے جس نے نہ صرف 16 انسانی جانوں کو نگل لیا، بلکہ شہری زندگی میں بے پناہ خوف اور عدم تحفظ کی صورت حال بھی پیدا کردی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق صبح کے قریباً 4 بجے ایک تین منزلہ عمارت میں گیس لیکیج کے باعث دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں عمارت کا ایک حصہ زمین بوس ہوگیا۔ پولیس اور ریسکیو اداروں کی فوری کارروائی کے باوجود اب تک 16 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں 4 بچے اور 6 خواتین بھی شامل ہیں جب کہ 12 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ الم ناک واقعہ نہ صرف بڑا المیہ بلکہ اس امر کی نشان دہی بھی کرتا ہے کہ شہری علاقوں میں حفاظتی اقدامات اور قانونی ضابطوں پر عمل درآمد کس حد تک ناکافی ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کی تنگ گلیوں اور محدود وسائل کی وجہ سے امدادی کارروائیاں کافی مشکل ثابت ہوئیں۔ ڈی جی ریسکیو 1122 بریگیڈیئر واجد نے بتایا کہ دھماکا پہلی منزل پر ہوا اور ملبے سے مزید لاشیں نکالنے کے لیے خصوصی آلات استعمال کیے جارہے ہیں۔

دھماکے کی ابتدائی تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گیس سلنڈر یا گیس کھینچنے والی مشین کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجار نے بتایا کہ مزید تحقیقات اور کیمیکل ایگزیمین کے بعد ہی دھماکے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ عمارت کی قانونی حیثیت کے بارے میں بھی محکمہ شہری انتظامیہ فیصلہ کرے گا تاکہ ذمے داران کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔ یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہری علاقوں میں عمارتوں کی قانونی حیثیت، حفاظتی اصولوں اور معیاری تعمیراتی ضوابط کی پابندی لازمی ہے۔ غیر قانونی تعمیرات، گیس سلنڈرز اور دیگر خطرناک آلات کے غیر محتاط استعمال سے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان ہوتا ہے، بلکہ شہری فضا میں خوف اور بے چینی بھی پھیلتی ہے۔ سولجر بازار کا دھماکا ایک انتباہ ہے کہ اگر ہم ضابطوں کی خلاف ورزی جاری رکھیں، تو ایسے حادثات دوبارہ رونما ہوسکتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ حکومت، بلدیاتی ادارے اور شہری سب مل کر حفاظتی ضوابط کو عملی جامہ پہنائیں، غیر قانونی تعمیرات کی روک تھام کریں اور شہریوں کو آگاہی فراہم کریں۔ ریسکیو اداروں کی بروقت کارروائی قابلِ ستائش ہے، لیکن اصل بچاؤ تب ممکن ہوگا جب حادثات کی روک تھام کے لیے اقدامات وقت پر کیے جائیں گے۔ یہ المناک واقعہ صرف ایک دھماکا نہیں، بلکہ انسانی زندگی کی قدر، ضابطوں کی پاسداری اور ذمے داری کے فقدان کا عکاس ہے۔ سولجر بازار سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ احتیاط اور قانونی تقاضوں کو نظرانداز کرنا مہنگا ثابت ہوسکتا ہے اور معاشرتی شعور اور نظم و ضبط ہی مستقبل کے لیے حقیقی تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔