سندھ: موٹر سائیکل مالکان کیلئے پٹرول سبسڈی کی تفصیلات جاری
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے موٹر سائیکل مالکان کے لیے پٹرول سبسڈی کی تفصیلات جاری کردیں۔ ان کے مطابق موٹر سائیکل مالکان کے لیے 20 لیٹر پر 57 روپے فی لیٹر سبسڈی جاری کردی گئی ہے جب کہ سندھ حکومت 100 روپے فی لیٹر ادا کرے گی اور سبسڈی کا اجرا شروع ہوچکا ہے۔
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے صحافیوں کو موٹر سائیکل رجسٹریشن کا عملی ڈیمو بھی دیا اور بتایا کہ سبسڈی حاصل کرنے کے لیے موٹر سائیکل کا صارف کے نام پر رجسٹرڈ ہونا ضروری ہے۔ اس حوالے سے ایکسائز کی ویب سائٹ پر طریقہ کار کی ویڈیو بھی فراہم کردی گئی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ 500 روپے ٹرانسفر فیس ختم کردی گئی ہے جبکہ صوبے بھر میں ایکسائز دفاتر رات بارہ بجے تک کھلے رہیں گے۔ ہفتہ اور اتوار کو بھی موٹر سائیکل ٹرانسفر کرائی جاسکے گی۔
ایکسائز ٹیکس پورٹل کے ذریعے سبسڈی کے لیے رجسٹریشن کی جاسکتی ہے جب کہ موبائل ایپلی کیشن بھی تیار ہے جو آئندہ تین روز میں فعال ہوجائے گی۔ “پیپلز موٹر سائیکل فیول سبسڈی پروگرام” کے تحت شناختی کارڈ نمبر اور رجسٹریشن نمبر درج کرکے آسانی سے رجسٹریشن مکمل کی جاسکے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ سبسڈی کی رقم براہ راست بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی، رجسٹریشن کے لیے آئی بی اے این نمبر درج کرنا ہوگا۔ کوائف مکمل کرنے پر صارف کو میسج اور ٹریکنگ آئی ڈی موصول ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کے ہر تین گھنٹے بعد ڈیٹا ای میل کے ذریعے سندھ بینک کو ارسال کیا جائے گا، غلط کوائف جمع کرانے کی صورت میں ادائیگی روک دی جائے گی جبکہ بینک اکاؤنٹ کی تصدیق موٹر سائیکل کی ملکیت سے کی جائے گی۔ سندھ بینک میں اکاؤنٹ ہونے پر 24 گھنٹوں میں تصدیق ہوگی جبکہ دیگر بینکوں سے تصدیق اور ادائیگی میں تقریباً تین روز لگیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ کوائف کی درستی کے لیے ٹول فری ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے، جبکہ ایک شناختی کارڈ پر صرف ایک فیول سبسڈی دی جائے گی۔ سندھ میں 67 لاکھ موٹر سائیکلیں رجسٹرڈ ہیں اور اپریل کی سبسڈی اپریل میں ہی ادا کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ مُرادعلی شاہ کے مطابق ہر شخص کا بینک اکاؤنٹ ہونا چاہیے اور موٹر سائیکل مالکان کی اکثریت کے پاس اکاؤنٹس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، بصورت دیگر اسے جرم تصور کیا جائے گا اور عوام کی نشان دہی پر کارروائی ہوگی۔
مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں 470 پبلک ٹرانسپورٹ بسیں جبکہ نجی شعبے کے تحت قریباً 11 ہزار بسیں چل رہی ہیں، اس لیے حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ مفت کرنے کے بجائے نجی ٹرانسپورٹ کو رعایت دینے کا ماڈل اپنایا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ تاجروں سے بھی مشاورت جاری ہے اور وفاق کو اسٹیک ہولڈرز کی رائے سے آگاہ کیا جائے گا جب کہ خیرپور میں وبا کی روک تھام کے لیے بھی سندھ حکومت اقدامات کررہی ہے۔