درست راستہ۔۔۔

غلام مصطفیٰ

ایک چھوٹے سے شہر کے کنارے، ریلوے لائن کے ساتھ ایک بستی آباد تھی جہاں زندگی ہمیشہ دھول، شور اور محرومیوں کے سائے میں گزرتی تھی۔ اسی بستی میں 12 سالہ علی اپنی بیمار والدہ کے ساتھ ایک ٹوٹے پھوٹے کمرے میں رہتا تھا۔ علی کے والد کا انتقال کئی سال پہلے ہوچکا تھا۔ یہی معصوم اس گھر کی کفالت کا بوجھ اُٹھا رہا تھا۔
ہر صبح، سورج نکلنے سے پہلے، علی ایک بوسیدہ تھیلا اٹھا کر کچرا چننے نکل جاتا۔ اس کی ننھی انگلیاں اکثر شیشے کے ٹکڑوں سے زخمی ہوجاتیں مگر وہ کبھی شکایت نہ کرتا۔ اس کی ایک ہی خواہش تھی “امی ٹھیک ہو جائیں۔” علی کی ماں، زینب، کئی مہینوں سے بستر پر تھیں۔ دوا خریدنے کے پیسے اکثر نہیں ہوتے تھے اور جب ہوتے بھی تو وہ اپنے بیٹے کو کھانا کھلانے کو ترجیح دیتیں۔ علی کئی بار بھوکا سو جاتا مگر ماں کے سامنے کبھی ظاہر نہ ہونے دیتا۔
ایک دن، شدید گرمی میں علی کو کچرے کے ڈھیر میں ایک بٹوہ ملا۔ اس نے فوراً اِدھر اُدھر دیکھا، کوئی نہیں تھا۔ اس نے بٹوہ کھولا تو اندر ہزاروں روپے اور ایک شناختی کارڈ تھا۔ علی کے قدم وہیں رک گئے۔ اس کے ذہن میں کئی خیالات آئے… “اگر یہ پیسے رکھ لوں تو امی کا علاج ہو سکتا ہے…” “ہم اچھا کھانا کھا سکتے ہیں…” “میں اسکول بھی جا سکتا ہوں…” لیکن پھر اچانک اسے اپنی ماں کی بات یاد آئی: “بیٹا، بھوکا رہ لینا مگر کسی کا حق کبھی مت چھیننا۔”
علی کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے بٹوہ مضبوطی سے پکڑا اور فیصلہ کیا کہ وہ اسے واپس کرے گا۔ پورا دن وہ شناختی کارڈ پر لکھے پتے کو ڈھونڈتا رہا۔ شہر کے بڑے بڑے علاقے، اونچی عمارتیں، چمکتی گاڑیاں… یہ سب اس کے لیے ایک الگ دنیا تھی۔ آخرکار شام کے وقت وہ اس گھر تک پہنچ گیا۔
دروازہ کھٹکھٹانے پر ایک درمیانی عمر کا آدمی باہر آیا۔ اس کے چہرے پر پریشانی صاف نظر آرہی تھی۔ “جی؟” علی نے دھیرے سے کہا، “یہ آپ کا بٹوہ ہے؟” آدمی نے جیسے ہی بٹوہ دیکھا، اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ “یہ… یہ کہاں ملا تمہیں؟ میں صبح سے ڈھونڈ رہا ہوں!” علی نے ساری بات بتادی۔ آدمی کی آنکھوں میں نمی آ گئی۔
“بیٹا، تمہیں اندازہ ہے اس میں کتنے پیسے تھے؟ تم رکھ بھی سکتے تھے…”
علی نے مسکرا کر کہا، “یہ میرے نہیں تھے نا…” یہ سن کر وہ آدمی چند لمحے خاموش رہا، پھر اندر گیا اور کچھ پیسے لے آیا۔ “یہ رکھو، انعام ہے تمہاری ایمان داری کا۔” علی نے سر ہلایا، “نہیں، مجھے نہیں چاہیے۔ بس دعا کریں میری امی ٹھیک ہوجائیں…”
یہ کہہ کر وہ پلٹ گیا۔ آدمی وہیں کھڑا رہ گیا، جیسے وقت رک گیا ہو۔
اگلے دن، جب علی گھر واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کی ماں کے پاس ایک ڈاکٹر بیٹھا ہے۔ کمرے میں دوائیں بھی پڑی تھیں۔ علی گھبرا گیا۔
“یہ… کیا ہورہا ہے؟” ڈاکٹر مسکرایا، “تمہاری امی کا علاج ہورہا ہے، فکر نہ کرو۔” پیچھے سے وہی آدمی اندر آیا۔
بیٹا، کل تم نے مجھے صرف میرا بٹوہ واپس نہیں کیا… تم نے مجھے انسانیت پر یقین واپس دیا ہے۔ تمہارے جانے کے بعد میں نے تمہارا پیچھا کرکے تمہارا گھر دیکھا اور آج تمہاری والدہ کے علاج کے لیے ڈاکٹرکے ہمراہ حاضرہوا ہوں۔
علی کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ “میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا…” آدمی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا، “تم نے وہ کیا جو بڑے بڑے لوگ نہیں کر پاتے۔” چند مہینوں میں علی کی ماں صحت یاب ہوگئیں۔ علی کو اسکول میں داخل کروا دیا گیا۔ اس کی زندگی بدلنے لگی مگر اس کی سادگی اور انسانیت ویسی ہی رہی۔
برسوں بعد، علی ایک بڑا ڈاکٹر بن گیا۔ وہ غریبوں کا مفت علاج کرتا اور ہر مریض کے ساتھ وہی محبت اور خلوص رکھتا جو اس نے اپنی ماں کے لیے محسوس کیا تھا۔
ایک دن، ایک بوڑھا آدمی اس کے کلینک آیا۔ علی نے جیسے ہی اسے دیکھا، پہچان گیا، وہی شخص جس نے اس کی زندگی بدلی تھی۔ علی فوراً اس کے قدموں میں بیٹھ گیا، “اگر اُس دن آپ مجھے نہ ملتے، تو شاید میں آج یہاں نہ ہوتا…”
بوڑھے آدمی کی آنکھوں میں آنسو تھے، “نہیں بیٹا… اگر اُس دن تم ایمان داری نہ دکھاتے، تو شاید میں بھی آج انسان نہ ہوتا…” کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی… اصل کہانی تو ہر اُس دل میں شروع ہوتی ہے جو یہ پڑھ رہا ہے۔ ہم سب کے سامنے زندگی میں ایسے لمحے آتے ہیں جب ہم آسان راستہ چن سکتے ہیں… یا صحیح راستہ۔
فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ آسان راستہ وقتی فائدہ دیتا ہے اور صحیح راستہ ہمیشہ کے لیے انسان بنا دیتا ہے۔
یاد رکھیں، کبھی کبھی ایک چھوٹا سا نیک عمل، کسی کی پوری زندگی بدل دیتا ہے… بلکہ شاید آپ کی اپنی بھی۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔