توبہ نے زندگی کا رخ بدل دیا

حسان احمد

سحری کا وقت تھا۔ اذانِ فجر سے کچھ پہلے گھروں میں ہلکی ہلکی روشنیوں کا جگ اٹھنا اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ لوگ روزہ رکھنے کی تیاریوں میں ہیں۔
حامد صاحب کھڑکی کے پاس بیٹھے تھے۔ عمر 55 برس تھی، تجارت کے پیشے سے وابستہ مگر دل کے اندر ایک عجیب سا بوجھ تھا۔ کاروبار چل رہا تھا، گھر آباد تھا، مگر سکون کہیں کھو گیا تھا۔ پچھلے سال کئی معاملات ایسے ہوئے تھے جن میں انہوں نے وقتی فائدے کے لیے کچھ سمجھوتے کیے، کچھ سخت جملے کہے، کچھ رشتے ٹوٹنے دیے۔ باہر سے سب ٹھیک تھا مگر اندر ایک بے نام خلش تھی۔
اس دن سحری کے بعد انہوں نے قرآن مجید کھولا تو نظر ایک آیت پر ٹھہر گئی، جس میں استغفار کی فضیلت بیان کی گئی تھی۔ دل جیسے کانپ اٹھا۔ وہ زیرِ لب بولے، "استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ۔”
پہلے تو یہ الفاظ محض زبان کی حرکت تھے مگر پھر اچانک انہیں محسوس ہوا کہ جیسے دل کے بند دروازے پر کسی نے دستک دی ہو۔ دن بھر روزہ رکھا، مگر اس روزے میں کچھ اور ہی کیفیت تھی۔ دفتر میں بیٹھے ہوئے بھی وہ بار بار تسبیح کے دانے گھماتے اور آہستگی سے استغفار کرتے رہے۔ انہیں محسوس ہوا کہ وہ صرف گناہوں کی معافی نہیں مانگ رہے، بلکہ اپنے اندر کی سختی، غرور اور بے حسی کو بھی دھو رہے ہیں۔
افطار کے بعد مسجد گئے۔ تراویح میں امام صاحب نے حضرت نوحؑ کا واقعہ سنایا کہ کس طرح انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا: "اپنے رب سے استغفار کرو، بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے موسلادھار بارش برسائے گا، تمہیں مال و اولاد سے نوازے گا۔”
یہ سن کر حامد صاحب کے دل میں ایک امید جاگی۔ کیا واقعی استغفار سے حالات بدل سکتے ہیں؟ کیا دل کا موسم بھی بدل سکتا ہے؟ اگلے دن انہوں نے ایک اور قدم اٹھایا۔ اپنے چھوٹے بھائی کو فون کیا، جس سے کئی مہینوں سے ناراضی چل رہی تھی۔ آواز بھرا گئی، مگر انہوں نے کہا، "اگر مجھ سے کوئی زیادتی ہوئی ہو تو معاف کر دو۔”
دوسری طرف چند لمحوں کی خاموشی رہی، پھر بھائی کی نرم آواز آئی، "بھائی جان، مجھے بھی معاف کر دیں۔” اس ایک جملے نے جیسے برسوں کی دوری کو پگھلا دیا۔ حامد صاحب نے فون بند کیا تو آنکھوں میں آنسو تھے، مگر دل ہلکا ہوچکا تھا۔ انہیں احساس ہوا کہ استغفار صرف اللہ سے معافی مانگنے کا نام نہیں، بلکہ بندوں کے حقوق ادا کرنے کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
رمضان کے دوسرے عشرے کا وسط تھا، انہوں نے اپنے کاروبار کے کھاتے دوبارہ دیکھنے شروع کیے۔ جہاں کہیں شک تھا کہ کسی کا حق دب گیا ہو، فوراً واپس کیا۔ ایک پرانے ملازم کو بلایا جسے کبھی غصے میں نکال دیا تھا۔ اسے دوبارہ ملازمت کی پیشکش کی اور کہا، "مجھے اپنی سختی پر افسوس ہے۔” وہ ملازم حیران رہ گیا۔ بولا، "صاحب، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا آپ خود بلائیں گے۔”
حامد صاحب نے مسکرا کر کہا، "رمضان ہے اور میں خود کو بدلنا چاہتا ہوں۔” تیسرے عشرے کی راتیں آئیں تو وہ تہجد میں کھڑے ہو کر دیر تک روتے۔ استغفار کے الفاظ اب ان کی سانسوں میں بس گئے تھے۔ انہیں محسوس ہوتا کہ ہر بار "استغفراللہ” کہنے سے دل کی ایک اور گرہ کھل رہی ہے، ایک اور بوجھ ہلکا ہورہا ہے۔
ایک رات انہوں نے خواب دیکھا کہ وہ ایک سنسان راستے پر چل رہے ہیں۔ راستہ تاریک ہے مگر دُور کہیں ہلکی سی روشنی دکھائی دیتی ہے۔ وہ روشنی کی طرف بڑھتے ہیں اور جیسے جیسے "استغفراللہ” کہتے جاتے ہیں، راستہ روشن ہوتا جاتا ہے۔ اچانک آنکھ کھل گئی۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، مگر عجیب سی طمانیت بھی تھی۔
عید سے چند دن پہلے ان کی بیٹی نے کہا، "ابو، آپ پہلے سے مختلف لگتے ہیں۔ زیادہ نرم، زیادہ مسکراتے ہوئے۔” انہوں نے بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، "بیٹا، جب دل صاف ہونے لگے تو چہرہ خود بخود بدل جاتا ہے۔” ماہ رمضان ختم ہوا، مگر حامد صاحب کے لیے یہ اختتام نہیں تھا۔ انہوں نے تہیہ کرلیا کہ استغفار کو صرف ایک مہینے تک محدود نہیں کریں گے۔ یہ ان کی زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔
کچھ مہینوں بعد کاروبار میں غیر متوقع برکت ہوئی۔ ایک بڑا معاہدہ طے پایا، جو پہلے کئی بار رکاوٹ کا شکار ہوچکا تھا۔ حامد صاحب مسکرائے۔ انہیں یاد آیا کہ کسی نے کہا تھا: "استغفار رزق کے دروازے کھول دیتا ہے۔” مگر اب وہ صرف دنیاوی فائدے کے لیے استغفار نہیں کرتے تھے۔ انہیں معلوم ہوچکا تھا کہ اصل دولت دل کا سکون ہے۔
ایک شام وہ مسجد کے صحن میں بیٹھے تھے۔ سورج ڈوب رہا تھا، آسمان پر سنہری روشنی پھیل رہی تھی۔ انہوں نے آنکھیں بند کیں اور دل سے کہا، "یااللہ! میں کامل نہیں، میں خطاکار ہوں، مگر تیرا در چھوڑنا نہیں چاہتا۔ جب بھی بھٹکوں، مجھے استغفار کی طرف لوٹا دینا۔” ہوا کے ہلکے جھونکے نے جیسے ان کی دعا کو تھام لیا۔ انہیں یقین تھا کہ ربِ کریم سن رہا ہے۔ استغفار نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا تھا۔
گناہ شاید ختم نہ ہوں، انسان خطا سے خالی نہیں، مگر جو ہر لغزش کے بعد پلٹ آئے، جو ہر اندھیرے میں "استغفراللہ” کی شمع جلا دے، اس کے لیے رحمت کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے۔
رمضان ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ اصلاح کی ابتدا ایک سچے اقرار سے ہوتی ہے۔
اور استغفار وہ کنجی ہے جو بند دلوں کو بھی کھول دیتی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔