وزیراعظم شہباز شریف کا بحرین کا کامیاب دورہ

غلام مصطفیٰ

وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں بحرین کا کامیاب دورہ کیا ہے، جو دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کی نئی راہیں پیدا کرنے کی وجہ ثابت ہورہا ہے۔ وزیراعظم نے اس دورے کے دوران بحرین کے ساتھ اقتصادی تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان اور بحرین کے تعلقات ہمیشہ سے برادرانہ اور دوستانہ رہے ہیں، لیکن وزیراعظم کے اس دورے میں جو بات سب سے اہم رہی، وہ یہ ہے کہ پاکستان بحرین کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو ایک نئے اور ترقیاتی دور میں داخل کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان اور بحرین کے تعلقات تاریخ کی ایک مضبوط بنیاد پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان ثقافتی، مذہبی اور معاشی تعلقات ہمیشہ مضبوط رہے ہیں۔ بحرین میں پاکستانی کمیونٹی ایک اہم کردار ادا کررہی ہے، جہاں پاکستانی مزدور اور کاروباری افراد مختلف شعبوں میں اپنی خدمات فراہم کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ، بحرین میں پاکستانیوں کی اہمیت اس بات سے بھی واضح ہوتی ہے کہ بحرین کے وزیر خزانہ شیخ سلمان بن خلیفہ نے پاکستان کے وزیراعظم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے رشتے تاریخ سے جڑے ہیں۔ اس کے باوجود، یہ ضروری تھا کہ دونوں ممالک ان روایتی تعلقات کو جدید معاشی اور تجارتی تعلقات میں بدلیں اور وزیراعظم کا حالیہ دورہ اس حوالے سے سنگِ میل ثابت ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بحرین کے کاروباری افراد سے خطاب کرتے ہوئے واضح کہا کہ پاکستان اور بحرین کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی بڑی گنجائش ہے۔ زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی ٟآئی ٹیٞ اور دیگر شعبوں میں دونوں ممالک باہمی تعاون کرسکتے ہیں۔ وزیراعظم نے بحرین کے کاروباری اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل کو آئی ٹی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٟاے آئیٞ کی تربیت دی جارہی ہے، جس سے بحرین کے سرمایہ کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ، پاکستان اور بحرین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ ٟفری ٹریڈ ایگریمنٹٞ جلد حتمی مراحل میں داخل ہوجائے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹیں کم ہوں گی اور اقتصادی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ پاکستان کے پاس 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور یہ نوجوان آئی ٹی اور جدید ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کررہے ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے، وزیراعظم نے بحرین سے اس شعبے میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ بحرین نے گزشتہ دہائیوں میں جو اقتصادی ترقی کی ہے، اس کے تجربات سے پاکستان بھرپور استفادہ کرسکتا ہے۔ وزیراعظم نے بحرین کے اقتصادی تجربات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان بحرین کے ترقی کے سفر سے سیکھنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کا تعاون مستقبل میں معاشی استحکام کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ وزیراعظم نے اس دورے کے دوران پاکستان کی معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے نئے دور کی طرف اشارہ کیا۔ پاکستان نے گزشتہ چند سال میں اقتصادی اصلاحات کے پروگرامز شروع کیے ہیں اور وزیراعظم نے بحرین کے کاروباری افراد سے بات کرتے ہوئے ان اصلاحات کے ثمرات کو اجاگر کیا۔ پاکستان کا معاشی مستقبل نہ صرف حکومت کی پالیسیوں بلکہ نجی شعبے کی قیادت میں ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے ایک مستحکم اور کاروبار دوست ماحول پیدا کیا جارہا ہے، جس سے عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کی توجہ پاکستان کی جانب مبذول ہوسکتی ہے۔ پاکستان کی معیشت میں حالیہ برسوں میں چیلنجز آئے ہیں، لیکن وزیراعظم نے اس بات کو واضح کیا کہ پاکستان اپنے مسائل کا حل نکالنے کے لیے تیار ہے اور بحرین کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات اس کی مثال ہیں۔ پاکستان کی معیشت میں بہتری لانے کے لیے کئی اقدامات کیے جارہے ہیں جن میں اداروں کی اصلاحات، حکومتی اخراجات کی کٹوتی اور برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں ایک مضبوط اور مسابقتی معیشت کے طور پر قائم کرنا ہے۔
بحرین پاکستان کے لیے ایک اہم تجارتی شراکت دار بن سکتا ہے، خصوصاً جب دونوں ممالک کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ مکمل ہوجائے گا۔ بحرین کے کاروباری اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع ملیں گے اور اس کے بدلے پاکستان کو بحرین کے ترقیاتی تجربات اور عالمی مہارت سے فائدہ ہوگا۔ پاکستان کے زراعت، آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں بحرین کے سرمایہ کاروں کے لیے بہترین مواقع موجود ہیں۔ اسی طرح، بحرین کو بھی پاکستان کی نوجوان ورک فورس کی مہارت اور ہنر کی ضرورت ہے، جو اسے مختلف شعبوں میں مدد دے سکتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ صرف دوطرفہ تعلقات کے لحاظ سے اہم نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے عالمی سطح پر اقتصادی روابط کو مستحکم کرنے کی ایک کڑی ہے۔ بحرین ایک اہم اقتصادی مرکز ہے اور خلیج تعاون کونسل ٟجی سی سیٞ کا رکن ہے، جو مشرق وسطی کے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تجارتی روابط کے لیے ایک اہم دروازہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کا بحرین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا فیصلہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ پاکستان اور بحرین کے تعلقات میں اس دورے کے ذریعے ایک نیا مرحلہ شروع ہوا ہے۔ اقتصادی تعلقات کی نئی راہوں کی طرف پیشرفت دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور اس سے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ بحرین کو بھی نئے اقتصادی مواقع ملیں گے۔ وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان کی پالیسی میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا، جس کا اثر طویل عرصے تک محسوس کیا جائے گا۔ اگر دونوں ممالک اپنی اقتصادی پالیسیوں اور تجارتی تعلقات میں اسی طرح کی مخلصانہ پیشرفت جاری رکھتے ہیں، تو یہ نہ صرف ان کے اپنے ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔