دعا تقدیر بدل دیتی ہے

عبدالعزیز بلوچ
بارش کی بوندیں اسپتال کے شیشے کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں۔ اندر آئی سی یو کے باہر سفید دیواروں کے سائے لمبے ہوتے جارہے تھے۔ گھڑی کی سوئیاں جیسے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ کسی کی امید کاٹ رہی تھیں۔ شاہد کرسی پر بیٹھا تھا، دونوں ہاتھوں میں تسبیح جکڑی ہوئی۔ اس کی بیوی عائشہ اندر بے ہوش پڑی تھی۔ تین دن پہلے ایک اچانک دماغی شریان پھٹنے سے وہ زندگی اور موت کے درمیان جھول رہی تھی۔ ڈاکٹر صاف کہہ چکے تھے: “ہم پوری کوشش کررہے ہیں مگر اب آپ دعا کیجیے۔”
شاہد نے زندگی میں کبھی سجدہ لمبا نہیں کیا تھا۔ نماز پڑھتا تھا مگر جلدی میں۔ ذکر کرتا تھا مگر مشغولیت کے ساتھ۔ آج پہلی بار اسے احساس ہوا کہ انسان کتنا بے بس ہے۔ پیسے، رشتے، تعلقات، سب دروازے بند ہو جاتے ہیں اور ایک دروازہ باقی رہتا ہے۔ وہ وضو کرکے اسپتال کی مسجد میں داخل ہوا۔ وہاں ہلکی روشنی تھی، خاموشی تھی۔ اس نے پہلی رکعت میں ہی محسوس کیا کہ آواز کانپ رہی ہے۔ دوسری رکعت میں آنسو رکنے سے انکار کر گئے۔ سجدے میں گرتے ہی اس کے اندر برسوں کا غرور ٹوٹ گیا۔
“یااللہ… میں نے ہمیشہ سمجھا کہ میں سنبھال لوں گا۔ میں نے کبھی عاجزی سے نہیں مانگا۔ آج ہاتھ خالی ہیں۔ اگر تُو نے نہ سنبھالے تو کچھ بھی نہیں بچے گا۔” اسے عائشہ کا چہرہ یاد آیا، صبح کی چائے بناتے ہوئے مسکراہٹ، بچوں کے اسکول بیگز تیار کرنا، اس کے دیر سے آنے پر خاموشی سے دروازہ کھول دینا۔ وہ عورت جو اس کی زندگی کا سکون تھی، آج مشینوں کے سہارے سانس لے رہی تھی۔
وہ ٹوٹ گیا۔ “یارب… اگر اس کی زندگی میں کوئی کوتاہی ہے تو میرے کھاتے میں ڈال دے۔ اگر کوئی سزا ہے تو مجھے دے دے۔ بس اسے زندگی عطا کر دے۔ میرے بچوں کی ماں ہے وہ… میری دعا کو رد نہ کر۔”
سجدہ طویل ہوتا گیا۔ آنسو قالین میں جذب ہوتے رہے۔ اسے لگا جیسے اس کی آواز الفاظ سے نکل کر سیدھی آسمان تک پہنچ رہی ہو۔
اسی لمحے آئی سی یو میں اچانک ہلچل ہوئی۔ مانیٹر پر چلتی ہوئی لکیریں جو کئی گھنٹوں سے کمزور پڑرہی تھیں، مستحکم ہونے لگیں۔ نرس نے ڈاکٹر کو بلایا۔ ڈاکٹر نے حیرت سے رپورٹس دیکھیں۔ “یہ… یہ ممکن نہیں تھا۔ دماغی سوجن کم ہورہی ہے۔”
باہر شاہد ابھی تک سجدے میں تھا۔ اس کے لب ہل رہے تھے مگر اب الفاظ کم اور آنسو زیادہ تھے۔ وہ کافی دیر وہاں رہنے کے بعد آئی سی یو کی طرف چل دیا۔
رات کے دو بج چکے تھے۔ شاہد آئی سی یو کے باہر تھا۔ ڈاکٹر باہر آیا۔ شاہد کی آنکھیں سرخ تھیں۔ “مسٹر شاہد… ہمیں سمجھ نہیں آرہا کیسے، مگر حالت بہتر ہورہی ہے۔ خطرہ ٹلتا نظر آ رہا ہے۔”
شاہد نے کچھ نہیں کہا۔ بس دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ اس کے ہونٹوں پر صرف ایک جملہ تھا: “الحمدللہ… الحمدللہ…”
مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ اگلے دن عائشہ نے آنکھیں کھولیں۔ کمزور سی آواز میں اس نے پہلا سوال کیا: “آپ نے… دعا کی تھی؟”
شاہد کے آنسو دوبارہ بہہ نکلے۔ “پہلی بار سچی کی تھی…” عائشہ نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: “میں نے خواب میں دیکھا… جیسے بہت اندھیرا تھا۔ پھر دور کہیں روشنی تھی۔ کسی نے کہا: واپس جاؤ، ابھی تمہاری دعا قبول ہوئی ہے۔
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جہاں سائنس خاموش ہوجاتی ہے اور یقین بولنے لگتا ہے۔
چند ہفتوں بعد عائشہ مکمل صحت یاب ہوگئی۔ ڈاکٹر اسے “میڈیکل میرکل” کہتے رہے۔ شاہد جانتا تھا کہ یہ معجزہ صرف اس رات کے سجدے کا صلہ تھا، وہ سجدہ جس میں غرور ٹوٹا تھا، آنکھیں بھیگی تھیں اور دل مکمل طور پر اللہ کے سامنے جھک گیا تھا۔
مگر اصل معجزہ عائشہ کی صحت نہیں تھا۔ اصل معجزہ شاہد کی تبدیلی تھی۔ وہی شاہد جو کاروبار میں مصروف رہتا تھا، اب فجر سے پہلے جاگ جاتا۔ مسجد کا ایک کونا اس کا پسندیدہ مقام بن گیا۔ اس نے سیکھ لیا تھا کہ دعا صرف ضرورت کا ہتھیار نہیں، بندگی کا تعلق ہے۔
ایک شام اس نے اپنے بچوں کو پاس بٹھایا اور کہا: “بیٹا، یاد رکھنا… اللہ کو آخری آپشن نہ بنانا۔ اسے پہلا سہارا بنانا۔” اس کی آواز بھرا گئی۔
“اور جب سجدہ کرو… تو ایسے کرو جیسے سب کچھ وہی ہے۔ کیونکہ حقیقت میں سب کچھ وہی ہے۔”
وقت گزرتا گیا۔ زندگی معمول پر آ گئی۔ مگر ہر بار جب بارش کی بوندیں شیشے سے ٹکراتیں، شاہد کو وہ رات یاد آتی، جب ایک بے بس بندے کی آواز سنی گئی تھی۔ اور وہ جان گیا تھا: دعا معجزہ نہیں بناتی۔ دعا انسان کو بدل دیتی ہے اور بدلا ہوا انسان ہی سب سے بڑا معجزہ ہوتا ہے۔