پاکستان کا امارات کو ساڑھے تین ارب ڈالر کی واپسی کا جرأت مندانہ فیصلہ

احسن لاکھانی
پاکستان کی معاشی تاریخ میں اکثر ایسے موڑ آتے ہیں جہاں فیصلے صرف اعداد و شمار کی بنیاد پر نہیں بلکہ قومی وقار اور تزویراتی (Strategic) ترجیحات کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان کی جانب سے متحدہ عرب امارات (UAE) کو 3.5 ارب ڈالر کے قرض کی بروقت واپسی ایک ایسا ہی قدم ہے جسے عالمی حلقوں میں حیرت اور اہمیت کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔
عام طور پر پاکستان جیسے معاشی چیلنجز کا شکار ممالک قرضوں کی واپسی کے بجائے ان کے "رول اوور” (مدت میں توسیع) کی درخواست کرتے ہیں، لیکن اس بار اسلام آباد نے ایک مختلف راستہ چُنا ہے۔ یہ محض ایک مالیاتی لین دین نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان اب اپنی خارجہ پالیسی اور معاشی فیصلوں میں خودمختاری کی طرف لوٹ رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کو اس خطیر رقم کی واپسی کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام میں شامل ہے اور اسے زرِمبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنے کے لیے سخت جدوجہد کرنی پڑرہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے چند اہم عوامل کارفرما ہیں۔
بار بار قرضوں کی توسیع کی درخواست کرنے سے ملک کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ رواں ماہ 2 ارب ڈالر قرض واپس کردیا جائے گا جبکہ ایک ارب ڈالر جولائی میں واپس کئے جائیں گے، بروقت ادائیگی سے پاکستان ثابت کرسکے گا کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔
ماضی میں پاکستان پر یہ تنقید ہوتی رہی ہے کہ مالی امداد کی وجہ سے اس کی خارجہ پالیسی مخصوص خلیجی ممالک کے زیرِ اثر ہے۔ اس قرض کی ادائیگی کا فیصلہ کرکے پاکستان نے اپنے سفارتی تعلقات میں برابری اور وقار کو ترجیح دی ہے۔
پاکستان اب صرف امداد پر انحصار کرنے کے بجائے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کی طرف بڑھ رہا ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے ذریعے ملک میں خلیجی ممالک سمیت دیگر ممالک سے شراکت داری کے نئے ماڈلز متعارف کروائے جارہے ہیں۔
اگرچہ یہ قدم جرأت مندانہ ہے، لیکن اس کے اپنے خطرات بھی ہیں۔ اتنی بڑی رقم کی واپسی سے زرِمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کا اثر روپے کی قدر اور مہنگائی پر پڑنے کا اندیشہ ہے۔ تاہم، طویل مدتی تناظر میں یہ "تکلیف دہ علاج” پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نکالنے اور ایک پائیدار معیشت کی طرف لے جانے کے لیے ضروری ہے۔
متحدہ عرب امارات کو ساڑھے تین ارب ڈالر کی واپسی کا فیصلہ اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان اب "امداد نہیں بلکہ شراکت داری” (Trade not Aid) کے اصول پر چلنا چاہتا ہے۔ یہ فیصلہ اس نئے جیو پولیٹیکل پیوٹ (Pivot) کا حصہ ہے جہاں پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کو دنیا کے سامنے ایک اقتصادی راہداری کے طور پر پیش کررہا ہے۔ اگر حکومت اس پالیسی پر مستقل مزاجی سے عمل پیرا رہتی ہے، تو وہ دن دُور نہیں جب پاکستان اپنی معاشی زنجیریں توڑنے میں کامیاب ہوجائے گا۔